TSK

TSK · ۲-توارِیخ 15:2

مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.

العودة إلى المقطع

کیونکہ وہاں عمالیقی اور کنعانی تمہارا سامنا کریں گے۔ چونکہ تم نے اپنا منہ رب سے پھیر لیا ہے اِس لئے وہ تمہارے ساتھ نہیں ہو گا، اور دشمن تمہیں تلوار سے مار ڈالے گا۔“

¶ جب تُو جنگ کے لئے نکل کر دیکھتا ہے کہ دشمن تعداد میں زیادہ ہیں اور اُن کے پاس گھوڑے اور رتھ بھی ہیں تو مت ڈرنا۔ رب تیرا خدا جو تجھے مصر سے نکال لایا اب بھی تیرے ساتھ ہے۔

¶ جب یوتام کو اِس کی اطلاع ملی تو وہ گرزیم پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیا اور اونچی آواز سے چلّایا، ”اے سِکم کے باشندو، سنیں میری بات! سنیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللہ آپ کی بھی سنے۔

چنانچہ رب کا خوف مانیں، اُس کی خدمت کریں اور اُس کی سنیں۔ سرکش ہو کر اُس کے احکام کی خلاف ورزی مت کرنا۔ اگر آپ اور آپ کا بادشاہ رب سے وفادار رہیں گے تو وہ آپ کے ساتھ ہو گا۔

ہوتے ہوتے وہ پورے شام کا حکمران بن گیا۔ وہ اسرائیلیوں سے نفرت کرتا تھا اور سلیمان کے جیتے جی اسرائیل کا خاص دشمن بنا رہا۔ ہدد کی طرح وہ بھی اسرائیل کو تنگ کرتا رہا۔

اے سلیمان میرے بیٹے، اپنے باپ کے خدا کو تسلیم کر کے پورے دل و جان اور خوشی سے اُس کی خدمت کریں۔ کیونکہ رب تمام دلوں کی تحقیق کر لیتا ہے، اور وہ ہمارے خیالوں کے تمام منصوبوں سے واقف ہے۔ اُس کے طالب رہیں تو آپ اُسے پا لیں گے۔ لیکن اگر آپ اُسے ترک کریں تو وہ آپ کو ہمیشہ کے لئے رد کر دے گا۔

¶ جب رحبعام کی سلطنت زور پکڑ کر مضبوط ہو گئی تو اُس نے تمام اسرائیل سمیت رب کی شریعت کو ترک کر دیا۔

پھر ابیاہ نے افرائیم کے پہاڑی علاقے کے پہاڑ صمریم پر چڑھ کر بلند آواز سے پکارا، ”یرُبعام اور تمام اسرائیلیو، میری بات سنیں!

لیکن جب کبھی وہ مصیبت میں پھنس جاتے تو دوبارہ رب اسرائیل کے خدا کے پاس لوٹ آتے۔ وہ اُسے تلاش کرتے اور نتیجے میں اُسے پا لیتے۔

اُس نے کہا، ”یہوداہ اور یروشلم کے لوگو، میری بات سنیں! اے بادشاہ، آپ بھی اِس پر دھیان دیں۔ رب فرماتا ہے کہ ڈرو مت، اور اِس بڑی فوج کو دیکھ کر مت گھبرانا۔ کیونکہ یہ جنگ تمہارا نہیں بلکہ میرا معاملہ ہے۔

¶ اگلے دن صبح سویرے یہوداہ کی فوج تقوع کے ریگستان کے لئے روانہ ہوئی۔ نکلتے وقت یہوسفط نے اُن کے سامنے کھڑے ہو کر کہا، ”یہوداہ اور یروشلم کے مردو، میری بات سنیں! رب اپنے خدا پر بھروسا رکھیں تو آپ قائم رہیں گے۔ اُس کے نبیوں کی باتوں کا یقین کریں تو آپ کو کامیابی حاصل ہو گی۔“

اسور کے بادشاہ کے لئے صرف خاکی آدمی لڑ رہے ہیں جبکہ رب ہمارا خدا ہمارے ساتھ ہے۔ وہی ہماری مدد کر کے ہمارے لئے لڑے گا!“ حِزقیاہ بادشاہ کے اِن الفاظ سے لوگوں کی بڑی حوصلہ افزائی ہوئی۔

جب وہ یوں مصیبت میں پھنس گیا تو منسّی رب اپنے خدا کا غضب ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنے لگا اور اپنے آپ کو اپنے باپ دادا کے خدا کے حضور پست کر دیا۔

¶ تب یسعیاہ نے کہا، ”پھر میری بات سنو، اے داؤد کے خاندان! کیا یہ کافی نہیں کہ تم انسان کو تھکا دو؟ کیا لازم ہے کہ اللہ کو بھی تھکانے پر مُصر رہو؟

¶ ابھی رب کو تلاش کرو جبکہ اُسے پایا جا سکتا ہے۔ ابھی اُسے پکارو جبکہ وہ قریب ہی ہے۔

¶ اے اسرائیلی قوم، کیا یہ تیرے غلط کام کا نتیجہ نہیں؟ کیونکہ تُو نے رب اپنے خدا کو اُس وقت ترک کیا جب وہ تیری راہنمائی کر رہا تھا۔

¶ بُرائی کو تلاش نہ کرو بلکہ اچھائی کو، تب ہی جیتے رہو گے۔ تب ہی تمہارا دعویٰ درست ہو گا کہ رب جو لشکروں کا خدا ہے ہمارے ساتھ ہے۔

¶ مانگتے رہو تو تم کو دیا جائے گا۔ ڈھونڈتے رہو تو تم کو مل جائے گا۔ کھٹکھٹاتے رہو تو تمہارے لئے دروازہ کھول دیا جائے گا۔

¶ تو کیا اِس کا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے اپنی قوم کو رد کیا ہے؟ ہرگز نہیں! مَیں تو خود اسرائیلی ہوں۔ ابراہیم میرا بھی باپ ہے، اور مَیں بن یمین کے قبیلے کا ہوں۔

¶ چنانچہ خبردار رہیں کہ آپ اُس کی سننے سے انکار نہ کریں جو اِس وقت آپ سے ہم کلام ہو رہا ہے۔ کیونکہ اگر اسرائیلی نہ بچے جب اُنہوں نے دنیاوی پیغمبر موسیٰ کی سننے سے انکار کیا تو پھر ہم کس طرح بچیں گے اگر ہم اُس کی سننے سے انکار کریں جو آسمان سے ہم سے ہم کلام ہوتا ہے۔

¶ جو سن سکتا ہے وہ سن لے کہ روح القدس جماعتوں کو کیا کچھ بتا رہا ہے۔ جو غالب آئے گا اُسے مَیں زندگی کے درخت کا پھل کھانے کو دوں گا، اُس درخت کا پھل جو اللہ کے فردوس میں ہے۔

¶ جو سن سکتا ہے وہ سن لے کہ روح القدس جماعتوں کو کیا کچھ بتا رہا ہے۔ جو غالب آئے گا اُسے مَیں پوشیدہ مَن میں سے دوں گا۔ مَیں اُسے ایک سفید پتھر بھی دوں گا جس پر ایک نیا نام لکھا ہو گا، ایسا نام جو صرف ملنے والے کو معلوم ہو گا۔

¶ جو سن سکتا ہے وہ سن لے کہ روح القدس جماعتوں کو کیا کچھ بتا رہا ہے۔

¶ جو سن سکتا ہے وہ سن لے کہ روح القدس جماعتوں کو کیا کچھ بتا رہا ہے۔“