اِلی عزر کی اولاد کو 16 گروہوں میں اور اِتمر کی اولاد کو 8 گروہوں میں تقسیم کیا گیا، کیونکہ اِلی عزر کی اولاد کے اِتنے ہی زیادہ خاندانی سرپرست تھے۔
TSK
TSK · ۲-توارِیخ 35:8
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
اے میرے خدا، مَیں جانتا ہوں کہ تُو انسان کا دل جانچ لیتا ہے، کہ دیانت داری تجھے پسند ہے۔ جو کچھ بھی مَیں نے دیا ہے وہ مَیں نے خوشی سے اور اچھی نیت سے دیا ہے۔ اب مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہے کہ یہاں حاضر تیری قوم نے بھی اِتنی فیاضی سے تجھے ہدیئے دیئے ہیں۔
امامِ اعظم عزریاہ رب کے گھر کے پورے انتظام کا انچارج تھا، اِس لئے حِزقیاہ بادشاہ نے اُس کے ساتھ مل کر دس نگران مقرر کئے جو کوننیاہ اور سِمعی کے تحت خدمت انجام دیں۔ اُن کے نام یحی ایل، عززیاہ، نحت، عساہیل، یریموت، یوزبد، اِلی ایل، اِسماکیاہ، محت اور بِنایاہ تھے۔
اُن کے تمام پڑوسیوں نے اُنہیں سونا چاندی اور مال مویشی دے کر اُن کی مدد کی۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے اپنی خوشی سے بھی رب کے گھر کے لئے ہدیئے دیئے۔
نیز، جتنی بھی سونا چاندی آپ کو صوبہ بابل سے مل جائے گی اور جتنے بھی ہدیئے قوم اور امام اپنی خوشی سے اپنے خدا کے گھر کے لئے جمع کریں اُنہیں اپنے ساتھ لے جائیں۔
¶ کچھ خاندانی سرپرستوں نے رب کے گھر کی تعمیرِ نو کے لئے اپنی خوشی سے ہدیئے دیئے۔ گورنر نے سونے کے 1,000 سِکے، 50 کٹورے اور اماموں کے 530 لباس دیئے۔
رب الافواج جو اسرائیل کا خدا ہے فرماتا ہے کہ تُو نے اپنی ہی طرف سے امام صفنیاہ بن معسیاہ کو خط بھیجا۔ دیگر اماموں اور یروشلم کے باقی تمام باشندوں کو بھی اِس کی کاپیاں مل گئیں۔ خط میں لکھا تھا،
¶ پطرس اور یوحنا لوگوں سے بات کر ہی رہے تھے کہ امام، بیت المُقدّس کے پہرے داروں کا کپتان اور صدوقی اُن کے پاس پہنچے۔
تب بیت المُقدّس کے پہرے داروں کا کپتان اپنے ملازموں کے ساتھ رسولوں کے پاس گیا اور اُنہیں لایا، لیکن زبردستی نہیں، کیونکہ وہ ڈرتے تھے کہ جمع شدہ لوگ اُنہیں سنگسار نہ کر دیں۔
ہر ایک اُتنا دے جتنا دینے کے لئے اُس نے پہلے اپنے دل میں ٹھہرا لیا ہے۔ وہ اِس میں تکلیف یا مجبوری محسوس نہ کرے، کیونکہ اللہ اُس سے محبت رکھتا ہے جو خوشی سے دیتا ہے۔