میرے لئے مٹی کی قربان گاہ بنا کر اُس پر اپنی بھیڑبکریوں اور گائےبَیلوں کی بھسم ہونے والی اور سلامتی کی قربانیاں چڑھانا۔ مَیں تجھے وہ جگہیں دکھاؤں گا جہاں میرے نام کی تعظیم میں قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ ایسی تمام جگہوں پر مَیں تیرے پاس آ کر تجھے برکت دوں گا۔
TSK
TSK · ۲-توارِیخ 6:5
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
رب تمہارا خدا قبیلوں میں سے اپنے نام کی سکونت کے لئے ایک جگہ چن لے گا۔ عبادت کے لئے وہاں جایا کرو،
¶ سموایل نے کہا، ”یہ آدمی دیکھو جسے رب نے چن لیا ہے۔ عوام میں اُس جیسا کوئی نہیں ہے!“ تمام لوگ خوشی کے مارے ”بادشاہ زندہ باد!“ کا نعرہ لگاتے رہے۔
سرکشی غیب دانی کے گناہ کے برابر ہے اور غرور بُت پرستی کے گناہ سے کم نہیں ہوتا۔ آپ نے رب کا حکم رد کیا ہے، اِس لئے اُس نے آپ کو رد کر کے بادشاہ کا عُہدہ آپ سے چھین لیا ہے۔“
لیکن میری نظرِ کرم کبھی اُس سے نہیں ہٹے گی۔ اُس کے ساتھ مَیں وہ سلوک نہیں کروں گا جو مَیں نے ساؤل کے ساتھ کیا جب اُسے تیرے سامنے سے ہٹا دیا۔
اُس نے رب کے گھر میں بھی اپنی قربان گاہیں کھڑی کیں، حالانکہ رب نے اِس مقام کے بارے میں فرمایا تھا، ”مَیں یروشلم میں اپنا نام قائم کروں گا۔“
کہ براہِ کرم دن رات اِس عمارت کی نگرانی کر! کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں تُو نے خود فرمایا، ’یہاں میرا نام سکونت کرے گا۔‘ چنانچہ اپنے خادم کی گزارش سن جو مَیں اِس مقام کی طرف رُخ کئے ہوئے کرتا ہوں۔
¶ رحبعام کی سلطنت نے دوبارہ تقویت پائی، اور یروشلم میں رہ کر وہ اپنی حکومت جاری رکھ سکا۔ 41 سال کی عمر میں وہ تخت نشین ہوا تھا، اور وہ 17 سال بادشاہ رہا۔ اُس کا دار الحکومت یروشلم تھا، وہ شہر جسے رب نے تمام اسرائیلی قبیلوں میں سے چن لیا تاکہ اُس میں اپنا نام قائم کرے۔ اُس کی ماں نعمہ عمونی تھی۔
’جب بھی آفت ہم پر آئے تو ہم یہاں تیرے حضور آ سکیں گے، چاہے جنگ، وبا، کال یا کوئی اَور سزا ہو۔ اگر ہم اُس وقت اِس گھر کے سامنے کھڑے ہو کر مدد کے لئے تجھے پکاریں تو تُو ہماری سن کر ہمیں بچائے گا، کیونکہ اِس عمارت پر تیرے ہی نام کا ٹھپا لگا ہے۔‘
اُس نے رب کے گھر میں بھی اپنی قربان گاہیں کھڑی کیں، حالانکہ رب نے اِس مقام کے بارے میں فرمایا تھا، ”یروشلم میں میرا نام ابد تک قائم رہے گا۔“
نیز، جتنی بھی سونا چاندی آپ کو صوبہ بابل سے مل جائے گی اور جتنے بھی ہدیئے قوم اور امام اپنی خوشی سے اپنے خدا کے گھر کے لئے جمع کریں اُنہیں اپنے ساتھ لے جائیں۔
رب نے ابلیس سے فرمایا، ”اے ابلیس، رب تجھے ملامت کرتا ہے! رب جس نے یروشلم کو چن لیا وہ تجھے ڈانٹتا ہے! یہ آدمی تو بال بال بچ گیا ہے، اُس لکڑی کی طرح جو بھڑکتی آگ میں سے چھین لی گئی ہے۔“