¶ اگر میرا یہ مشورہ اللہ کی مرضی کے مطابق ہو اور آپ ایسا کریں تو آپ اپنی ذمہ داری نبھا سکیں گے اور یہ تمام لوگ انصاف کے ملنے پر سلامتی کے ساتھ اپنے اپنے گھر جا سکیں گے۔“
TSK
TSK · ۲-پطرس 3:9
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
رب موسیٰ سے رُوبرُو باتیں کرتا تھا، ایسے شخص کی طرح جو اپنے دوست سے باتیں کرتا ہے۔ اِس کے بعد موسیٰ نکل کر خیمہ گاہ کو واپس چلا جاتا۔ لیکن اُس کا جوان مددگار یشوع بن نون خیمے کو نہیں چھوڑتا تھا۔
¶ لیکن تُو، اے رب، رحیم اور مہربان خدا ہے۔ تُو تحمل، شفقت اور وفا سے بھرپور ہے۔
مَیں اپنی راستی قریب ہی لایا ہوں، وہ دُور نہیں ہے۔ میری نجات کے آنے میں دیر نہیں ہو گی۔ مَیں صیون کو نجات دوں گا، اسرائیل کو اپنی شان و شوکت سے نوازوں گا۔
اگر اُس نے آخرکار انصاف کیا تو کیا اللہ اپنے چنے ہوئے لوگوں کا انصاف نہیں کرے گا جو دن رات اُسے مدد کے لئے پکارتے ہیں؟ کیا وہ اُن کی بات ملتوی کرتا رہے گا؟
یہ بات اللہ پر بھی صادق آتی ہے۔ گو وہ اپنا غضب نازل کرنا اور اپنی قدرت ظاہر کرنا چاہتا تھا، لیکن اُس نے بڑے صبر و تحمل سے وہ برتن برداشت کئے جن پر اُس کا غضب آنا ہے اور جو ہلاکت کے لئے تیار کئے گئے ہیں۔
ہاں، وہ چاہتا ہے کہ تمام انسان نجات پا کر سچائی کو جان لیں۔
یہ اُن کی روحیں تھیں جو اُن دنوں میں نافرمان تھے جب نوح اپنی کشتی بنا رہا تھا۔ اُس وقت اللہ صبر سے انتظار کرتا رہا، لیکن آخرکار صرف چند ایک لوگ یعنی آٹھ افراد پانی میں سے گزر کر بچ نکلے۔
مَیں نے اُسے کافی دیر سے توبہ کرنے کا موقع دیا ہے، لیکن وہ اِس کے لئے تیار نہیں ہے۔