TSK

TSK · یسعیاہ 4:3

مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.

العودة إلى المقطع

¶ اُنہیں کتابِ حیات سے مٹایا جائے، اُن کا نام راست بازوں کی فہرست میں درج نہ ہو۔

اگر قوم کا دسواں حصہ ملک میں باقی بھی رہے لیکن اُسے بھی جلا دیا جائے گا۔ وہ کسی بلوط یا دیگر لمبے چوڑے درخت کی طرح یوں کٹ جائے گا کہ مُڈھ ہی باقی رہے گا۔ تاہم یہ مُڈھ ایک مُقدّس بیج ہو گا جس سے نئے سرے سے زندگی پھوٹ نکلے گی۔“

¶ تب تیری قوم کے تمام افراد راست باز ہوں گے، اور ملک ہمیشہ تک اُن کی ملکیت رہے گا۔ کیونکہ وہ میرے ہاتھ سے لگائی ہوئی پنیری ہوں گے، میرے ہاتھ کا کام جس سے مَیں اپنا جلال ظاہر کروں گا۔

¶ مَیں تمہیں دیگر اقوام و ممالک سے نکال دوں گا اور تمہیں جمع کر کے تمہارے اپنے ملک میں واپس لاؤں گا۔

کیونکہ مَیں تمام اقوام کو یروشلم سے لڑنے کے لئے جمع کروں گا۔ شہر دشمن کے قبضے میں آئے گا، گھروں کو لُوٹ لیا جائے گا اور عورتوں کی عصمت دری کی جائے گی۔ شہر کے آدھے باشندے جلاوطن ہو جائیں گے، لیکن باقی حصہ اُس میں زندہ چھوڑا جائے گا۔

لیکن اِس وجہ سے خوشی نہ مناؤ کہ بدروحیں تمہارے تابع ہیں، بلکہ اِس وجہ سے کہ تمہارے نام آسمان پر درج کئے گئے ہیں۔“

آج بھی یہی حالت ہے۔ اسرائیل کا ایک چھوٹا حصہ بچ گیا ہے جسے اللہ نے اپنے فضل سے چن لیا ہے۔

ہاں میرے ہم خدمت بھائی، میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ اُن کی مدد کریں۔ کیونکہ وہ اللہ کی خوش خبری پھیلانے کی جد و جہد میں میرے ساتھ خدمت کرتی رہی ہیں، اُس مقابلے میں جس میں کلیمینس اور میرے وہ باقی مددگار بھی شریک تھے جن کے نام کتابِ حیات میں درج ہیں۔

¶ سب کے ساتھ مل کر صلح سلامتی اور قدوسیت کے لئے جد و جہد کرتے رہیں، کیونکہ جو مُقدّس نہیں ہے وہ خداوند کو کبھی نہیں دیکھے گا۔

جو غالب آئے گا وہ بھی اُن کی طرح سفید کپڑے پہنے ہوئے پھرے گا۔ مَیں اُس کا نام کتابِ حیات سے نہیں مٹاؤں گا بلکہ اپنے باپ اور اُس کے فرشتوں کے سامنے اقرار کروں گا کہ یہ میرا ہے۔

جس حیوان کو تُو نے دیکھا وہ پہلے تھا، اِس وقت نہیں ہے اور دوبارہ اتھاہ گڑھے میں سے نکل کر ہلاکت کی طرف بڑھے گا۔ زمین کے جن باشندوں کے نام دنیا کی تخلیق سے ہی کتابِ حیات میں درج نہیں ہیں وہ حیوان کو دیکھ کر حیرت زدہ ہو جائیں گے۔ کیونکہ وہ پہلے تھا، اِس وقت نہیں ہے لیکن دوبارہ آئے گا۔

کوئی ناپاک چیز اُس میں داخل نہیں ہو گی، نہ وہ جو گھنونی حرکتیں کرتا اور جھوٹ بولتا ہے۔ صرف وہ داخل ہوں گے جن کے نام لیلے کی کتابِ حیات میں درج ہیں۔