TSK

TSK · گِنتی 10:9

مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.

العودة إلى المقطع

¶ لیکن اللہ کو نوح اور تمام جانور یاد رہے جو کشتی میں تھے۔ اُس نے ہَوا چلا دی جس سے پانی کم ہونے لگا۔

¶ جب تُو جنگ کے لئے نکل کر دیکھتا ہے کہ دشمن تعداد میں زیادہ ہیں اور اُن کے پاس گھوڑے اور رتھ بھی ہیں تو مت ڈرنا۔ رب تیرا خدا جو تجھے مصر سے نکال لایا اب بھی تیرے ساتھ ہے۔

لیکن جب بھی وہ دشمن کے ظلم اور دباؤ تلے کراہنے لگتے تو رب کو اُن پر ترس آ جاتا، اور وہ کسی قاضی کو برپا کرتا اور اُس کی مدد کر کے اُنہیں بچاتا۔ جتنے عرصے تک قاضی زندہ رہتا اُتنی دیر تک اسرائیلی دشمنوں کے ہاتھ سے محفوظ رہتے۔

اِس لئے رب نے اُنہیں کنعان کے بادشاہ یابین کے حوالے کر دیا۔ یابین کا دار الحکومت حصور تھا، اور اُس کے پاس 900 لوہے کے رتھ تھے۔ اُس کے لشکر کا سردار سیسرا تھا جو ہروست ہگوئیم میں رہتا تھا۔ یابین نے 20 سال اسرائیلیوں پر بہت ظلم کیا، اِس لئے اُنہوں نے مدد کے لئے رب کو پکارا۔

پھر رب کا روح جدعون پر نازل ہوا۔ اُس نے نرسنگا پھونک کر ابی عزر کے خاندان کے مردوں کو اپنے پیچھے ہو لینے کے لئے بُلایا۔

اُسی سال کے دوران اِن قوموں نے جِلعاد میں اسرائیلیوں کے اُس علاقے پر قبضہ کیا جس میں پرانے زمانے میں اموری آباد تھے اور جو دریائے یردن کے مشرق میں تھا۔ فلستی اور عمونی 18 سال تک اسرائیلیوں کو کچلتے اور دباتے رہے۔

اُس نے کہا، ”رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے، ’مَیں اسرائیل کو مصر سے نکال لایا۔ مَیں نے تمہیں مصریوں اور اُن تمام سلطنتوں سے بچایا جو تم پر ظلم کر رہی تھیں۔

اچانک یہوداہ کے فوجیوں کو پتا چلا کہ دشمن سامنے اور پیچھے سے ہم پر حملہ کر رہا ہے۔ چیختے چلّاتے ہوئے اُنہوں نے رب سے مدد مانگی۔ اماموں نے اپنے تُرم بجائے

¶ اُن کے دشمنوں نے اُن پر ظلم کر کے اُن کو اپنا مطیع بنا لیا۔

¶ اے دنیا کے تمام باشندو، زمین کے تمام بسنے والو! جب پہاڑوں پر جھنڈا گاڑا جائے تو اُس پر دھیان دو! جب نرسنگا بجایا جائے تو اُس پر غور کرو!

¶ یہوداہ میں اعلان کرو اور یروشلم کو اطلاع دو، ’ملک بھر میں نرسنگا بجاؤ!‘ گلا پھاڑ کر چلّاؤ، ’اکٹھے ہو جاؤ! آؤ، ہم قلعہ بند شہروں میں پناہ لیں!‘

مجھے کب تک جنگ کا جھنڈا دیکھنا پڑے گا، کب تک نرسنگے کی آواز سننی پڑے گی؟

دیکھو، مَیں نے تم پر پہرے دار مقرر کئے اور کہا، ’جب نرسنگا پھونکا جائے گا تو دھیان دو!‘ لیکن تم نے انکار کیا، ’نہیں، ہم توجہ نہیں دیں گے۔‘

¶ پہرے دار کی ذمہ داری یہ ہے کہ جوں ہی دشمن نظر آئے توں ہی نرسنگا بجا کر لوگوں کو آگاہ کرے۔

جب شہر میں نرسنگا پھونکا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو کسی خطرے سے آگاہ کرے تو کیا وہ نہیں گھبراتے؟ جب آفت شہر پر آتی ہے تو کیا رب کی طرف سے نہیں ہوتی؟

¶ ایسا ہی ہوا جس طرح اُس نے قدیم زمانوں میں اپنے مُقدّس نبیوں کی معرفت فرمایا تھا،