تاکہ وہ ہارون کے ماتھے پر پڑی رہے۔ جب بھی وہ مقدِس میں جائے تو یہ تختی ساتھ ہو۔ جب اسرائیلی اپنے نذرانے لا کر رب کے لئے مخصوص کریں لیکن کسی غلطی کے باعث قصوروار ہوں تو اُن کا یہ قصور ہارون پر منتقل ہو گا۔ اِس لئے یہ تختی ہر وقت اُس کے ماتھے پر ہو تاکہ رب اسرائیلیوں کو قبول کر لے۔
TSK
TSK · ۱-پطرس 2:24
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ امام میری ہدایات کے مطابق چلیں، ورنہ وہ قصوروار بن جائیں گے اور مُقدّس چیزوں کی بےحرمتی کرنے کے سبب سے مر جائیں گے۔ مَیں رب ہوں جو اُنہیں اپنے لئے مخصوص و مُقدّس کرتا ہوں۔
اب سے اسرائیلی ملاقات کے خیمے کے قریب نہ آئیں، ورنہ اُنہیں اپنی خطا کا نتیجہ برداشت کرنا پڑے گا اور وہ ہلاک ہو جائیں گے۔
¶ کیونکہ مَیں اپنے گناہوں کے سیلاب میں ڈوب گیا ہوں، وہ ناقابلِ برداشت بوجھ بن گئے ہیں۔
¶ لیکن اُس نے ہماری ہی بیماریاں اُٹھا لیں، ہمارا ہی دُکھ بھگت لیا۔ توبھی ہم سمجھے کہ یہ اُس کی مناسب سزا ہے، کہ اللہ نے خود اُسے مار کر خاک میں ملا دیا ہے۔
¶ لیکن تم پر جو میرے نام کا خوف مانتے ہو راستی کا سورج طلوع ہو گا، اور اُس کے پَروں تلے شفا ہو گی۔ تب تم باہر نکل کر کھلے چھوڑے ہوئے بچھڑوں کی طرح خوشی سے کودتے پھاندتے پھرو گے۔
یوں یسعیاہ نبی کی یہ پیش گوئی پوری ہوئی کہ ”اُس نے ہماری کمزوریاں لے لیں اور ہماری بیماریاں اُٹھا لیں۔“
¶ چنانچہ پیلاطس نے ہجوم کو مطمئن کرنے کی خاطر برابا کو آزاد کر دیا۔ اُس نے عیسیٰ کو کوڑے لگانے کو کہا، پھر اُسے مصلوب کرنے کے لئے فوجیوں کے حوالے کر دیا۔
¶ ”رب کا روح مجھ پر ہے، کیونکہ اُس نے مجھے تیل سے مسح کر کے غریبوں کو خوش خبری سنانے کا اختیار دیا ہے۔ اُس نے مجھے یہ اعلان کرنے کے لئے بھیجا ہے کہ قیدیوں کو رِہائی ملے گی اور اندھے دیکھیں گے۔ اُس نے مجھے بھیجا ہے کہ مَیں کچلے ہوؤں کو آزاد کراؤں
¶ پھر پیلاطس نے عیسیٰ کو کوڑے لگوائے۔
بلکہ ہر کسی کو قبول کرتا ہے جو اُس کا خوف مانتا اور راست کام کرتا ہے۔
جب اُن کی معرفت عیسیٰ کے بارے میں تمام پیش گوئیاں پوری ہوئیں تو اُنہوں نے اُسے صلیب سے اُتار کر قبر میں رکھ دیا۔
کیونکہ جو مر گیا وہ گناہ سے آزاد ہو گیا ہے۔
اپنے بدن کے کسی بھی عضو کو گناہ کی خدمت کے لئے پیش نہ کریں، نہ اُسے ناراستی کا ہتھیار بننے دیں۔ اِس کے بجائے اپنے آپ کو اللہ کی خدمت کے لئے پیش کریں۔ کیونکہ پہلے آپ مُردہ تھے، لیکن اب آپ زندہ ہو گئے ہیں۔ چنانچہ اپنے تمام اعضا کو اللہ کی خدمت کے لئے پیش کریں اور اُنہیں راستی کے ہتھیار بننے دیں۔
لیکن اب آپ گناہ کی غلامی سے آزاد ہو کر اللہ کے غلام بن گئے ہیں، جس کے نتیجے میں آپ مخصوص و مُقدّس بن جاتے ہیں اور جس کا انجام ابدی زندگی ہے۔
¶ چنانچہ رب فرماتا ہے، ”اِس لئے اُن میں سے نکل آؤ اور اُن سے الگ ہو جاؤ۔ کسی ناپاک چیز کو نہ چھونا، تو پھر مَیں تمہیں قبول کروں گا۔
کیونکہ روشنی کا پھل ہر طرح کی بھلائی، راست بازی اور سچائی ہے۔
¶ آپ تو مسیح کے ساتھ مر کر دنیا کی قوتوں سے آزاد ہو گئے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو آپ زندگی ایسے کیوں گزارتے ہیں جیسے کہ آپ ابھی تک اِس دنیا کی ملکیت ہیں؟ آپ کیوں اِس کے احکام کے تابع رہتے ہیں؟
¶ ہمیں ایسے ہی امامِ اعظم کی ضرورت تھی۔ ہاں، ایسا امام جو مُقدّس، بےقصور، بےداغ، گناہ گاروں سے الگ اور آسمانوں سے بلند ہوا ہے۔
اپنے راستے چلنے کے قابل بنا دیں تاکہ جو عضو لنگڑا ہے اُس کا جوڑ اُتر نہ جائے بلکہ شفا پائے۔
¶ اب چونکہ مسیح نے جسمانی طور پر دُکھ اُٹھایا اِس لئے آپ بھی اپنے آپ کو اُس کی سی سوچ سے لیس کریں۔ کیونکہ جس نے مسیح کی خاطر جسمانی طور پر دُکھ سہہ لیا ہے اُس نے گناہ سے نپٹ لیا ہے۔
¶ پیارے بچو، کسی کو اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کو صحیح راہ سے ہٹا دے۔ جو راست کام کرتا ہے وہ راست باز، ہاں مسیح جیسا راست باز ہے۔