بلند آواز سے وہ قربان گاہ سے مخاطب ہوا، ”اے قربان گاہ! اے قربان گاہ! رب فرماتا ہے، ’داؤد کے گھرانے سے بیٹا پیدا ہو گا جس کا نام یوسیاہ ہو گا۔ تجھ پر وہ اُن اماموں کو قربان کر دے گا جو اونچی جگہوں کے مندروں میں خدمت کرتے اور یہاں قربانیاں پیش کرنے کے لئے آتے ہیں۔ تجھ پر انسانوں کی ہڈیاں جلائی جائیں گی‘۔“
TSK
TSK · ۲-توارِیخ 34:3
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
اُس نے اونچی جگہوں کے مندروں کو گرا دیا، پتھر کے اُن ستونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جن کی پوجا کی جاتی تھی اور یسیرت دیوی کے کھمبوں کو کاٹ ڈالا۔ پیتل کا جو سانپ موسیٰ نے بنایا تھا اُسے بھی بادشاہ نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، کیونکہ اسرائیلی اُن ایام تک اُس کے سامنے بخور جلانے آتے تھے۔ (سانپ نخُشتان کہلاتا تھا۔)
¶ اب بادشاہ نے امامِ اعظم خِلقیاہ، دوسرے درجے پر مقرر اماموں اور دربانوں کو حکم دیا، ”رب کے گھر میں سے وہ تمام چیزیں نکال دیں جو بعل دیوتا، یسیرت دیوی اور آسمان کے پورے لشکر کی پوجا کے لئے استعمال ہوئی ہیں۔“ پھر اُس نے یہ سارا سامان یروشلم کے باہر وادیٔ قدرون کے کھلے میدان میں جلا دیا اور اُس کی راکھ اُٹھا کر بیت ایل لے گیا۔
یہ سامان جمع کرنے کے پیچھے داؤد کا یہ خیال تھا، ”میرا بیٹا سلیمان جوان ہے، اور اُس کا ابھی اِتنا تجربہ نہیں ہے، حالانکہ جو گھر رب کے لئے بنوانا ہے اُسے اِتنا بڑا اور شاندار ہونے کی ضرورت ہے کہ تمام دنیا ہکا بکا رہ کر اُس کی تعریف کرے۔ اِس لئے مَیں خود جہاں تک ہو سکے اُسے بنوانے کی تیاریاں کروں گا۔“ یہی وجہ تھی کہ داؤد نے اپنی موت سے پہلے اِتنا سامان جمع کرایا۔
¶ پھر داؤد دوبارہ پوری جماعت سے مخاطب ہوا، ”اللہ نے میرے بیٹے سلیمان کو چن کر مقرر کیا ہے کہ وہ اگلا بادشاہ بنے۔ لیکن وہ ابھی جوان اور ناتجربہ کار ہے، اور یہ تعمیری کام بہت وسیع ہے۔ اُسے تو یہ محل انسان کے لئے نہیں بنانا ہے بلکہ رب ہمارے خدا کے لئے۔
اور وہ آسا سے ملنے کے لئے نکلا اور کہا، ”اے آسا اور یہوداہ اور بن یمین کے تمام باشندو، میری بات سنو! رب تمہارے ساتھ ہے اگر تم اُسی کے ساتھ رہو۔ اگر تم اُس کے طالب رہو تو اُسے پا لو گے۔ لیکن جب بھی تم اُسے ترک کرو تو وہ تم ہی کو ترک کرے گا۔
اُس نے اجنبی معبودوں کو بُت سمیت رب کے گھر سے نکال دیا۔ جو قربان گاہیں اُس نے رب کے گھر کی پہاڑی اور باقی یروشلم میں کھڑی کی تھیں اُنہیں بھی اُس نے ڈھا کر شہر سے باہر پھینک دیا۔
اپنے باپ منسّی کی طرح وہ ایسا غلط کام کرتا رہا جو رب کو ناپسند تھا۔ جو بُت اُس کے باپ نے بنوائے تھے اُن ہی کی پوجا وہ کرتا اور اُن ہی کو قربانیاں پیش کرتا تھا۔
¶ نوجوان اپنی راہ کو کس طرح پاک رکھے؟ اِس طرح کہ تیرے کلام کے مطابق زندگی گزارے۔
¶ لڑکے کا کردار اُس کے سلوک سے معلوم ہوتا ہے۔ اِس سے پتا چلتا ہے کہ اُس کا چال چلن پاک اور راست ہے یا نہیں۔
پہلے اللہ کی بادشاہی اور اُس کی راست بازی کی تلاش میں رہو۔ پھر یہ تمام چیزیں بھی تم کو مل جائیں گی۔