اُس وقت سے اِس کی ضرورت نہیں رہے گی کہ کوئی اپنے پڑوسی یا بھائی کو تعلیم دے کر کہے، ’رب کو جان لو۔‘ کیونکہ چھوٹے سے لے کر بڑے تک سب مجھے جانیں گے۔ کیونکہ مَیں اُن کا قصور معاف کروں گا اور آئندہ اُن کے گناہوں کو یاد نہیں کروں گا۔“ یہ رب کا فرمان ہے۔
TSK
TSK · اعمال 10:43
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ اے رب، تجھ جیسا خدا کہاں ہے؟ تُو ہی گناہوں کو معاف کر دیتا، تُو ہی اپنی میراث کے بچے ہوؤں کے جرائم سے درگزر کرتا ہے۔ تُو ہمیشہ تک غصے نہیں رہتا بلکہ شفقت پسند کرتا ہے۔
¶ لیکن تم پر جو میرے نام کا خوف مانتے ہو راستی کا سورج طلوع ہو گا، اور اُس کے پَروں تلے شفا ہو گی۔ تب تم باہر نکل کر کھلے چھوڑے ہوئے بچھڑوں کی طرح خوشی سے کودتے پھاندتے پھرو گے۔
¶ پھر عیسیٰ نے اُن سے کہا، ”ارے نادانو! تم کتنے کُند ذہن ہو کہ تمہیں اُن تمام باتوں پر یقین نہیں آیا جو نبیوں نے فرمائی ہیں۔
فلپّس نتن ایل سے ملا، اور اُس نے اُس سے کہا، ”ہمیں وہی شخص مل گیا جس کا ذکر موسیٰ نے توریت اور نبیوں نے اپنے صحیفوں میں کیا ہے۔ اُس کا نام عیسیٰ بن یوسف ہے اور وہ ناصرت کا رہنے والا ہے۔“
¶ مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں، جو بھی میری بات سن کر اُس پر ایمان لاتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے ابدی زندگی اُس کی ہے۔ اُسے مجرم نہیں ٹھہرایا جائے گا بلکہ وہ موت کی گرفت سے نکل کر زندگی میں داخل ہو گیا ہے۔
لیکن جتنے درج ہیں اُن کا مقصد یہ ہے کہ آپ ایمان لائیں کہ عیسیٰ ہی مسیح یعنی اللہ کا فرزند ہے اور آپ کو اِس ایمان کے وسیلے سے اُس کے نام سے زندگی حاصل ہو۔
آپ تو اِس آدمی سے واقف ہیں جسے دیکھ رہے ہیں۔ اب وہ عیسیٰ کے نام پر ایمان لانے سے بحال ہو گیا ہے، کیونکہ جو ایمان عیسیٰ کے ذریعے ملتا ہے اُسی نے اِس آدمی کو آپ کے سامنے پوری صحت مندی عطا کی۔
تو پھر آپ سب اور پوری قوم اسرائیل جان لے کہ یہ ناصرت کے عیسیٰ مسیح کے نام سے ہوا ہے، جسے آپ نے مصلوب کیا اور جسے اللہ نے مُردوں میں سے زندہ کر دیا۔ یہ آدمی اُسی کے وسیلے سے صحت پا کر یہاں آپ کے سامنے کھڑا ہے۔
اُس نے ہم میں اور اُن میں کوئی بھی فرق نہ رکھا بلکہ ایمان سے اُن کے دلوں کو بھی پاک کر دیا۔
لیکن اللہ نے آج تک میری مدد کی ہے، اِس لئے مَیں یہاں کھڑا ہو کر چھوٹوں اور بڑوں کو اپنی گواہی دے سکتا ہوں۔ جو کچھ مَیں سناتا ہوں وہ وہی کچھ ہے جو موسیٰ اور نبیوں نے کہا ہے،
کیونکہ گناہ کا اجر موت ہے جبکہ اللہ ہمارے خداوند مسیح عیسیٰ کے وسیلے سے ہمیں ابدی زندگی کی مفت نعمت عطا کرتا ہے۔
کون ہمیں مجرم ٹھہرائے گا جب مسیح عیسیٰ نے ہمارے لئے اپنی جان دی؟ بلکہ ہماری خاطر اِس سے بھی زیادہ ہوا۔ اُسے زندہ کیا گیا اور وہ اللہ کے دہنے ہاتھ بیٹھ گیا، جہاں وہ ہماری شفاعت کرتا ہے۔
لیکن کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ پوری دنیا گناہ کے قبضے میں ہے۔ چنانچہ ہمیں اللہ کا وعدہ صرف عیسیٰ مسیح پر ایمان لانے سے حاصل ہوتا ہے۔
اُس واحد شخص کے اختیار میں جس نے ہمارا فدیہ دے کر ہمارے گناہوں کو معاف کر دیا۔
اُنہوں نے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ مسیح کا روح جو اُن میں تھا کس وقت یا کن حالات کے بارے میں بات کر رہا تھا جب اُس نے مسیح کے دُکھ اور بعد کے جلال کی پیش گوئی کی۔