رب ہی نے اُنہیں اکڑنے دیا تھا تاکہ وہ اسرائیل سے جنگ کریں اور اُن پر رحم نہ کیا جائے بلکہ اُنہیں پورے طور پر رب کے حوالے کر کے ہلاک کیا جائے۔ لازم تھا کہ اُنہیں یوں نیست و نابود کیا جائے جس طرح رب نے موسیٰ کو حکم دیا تھا۔
TSK
TSK · یسعیاہ 34:2
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
اُس کے فوجی دُوردراز علاقوں بلکہ آسمان کی انتہا سے آ رہے ہیں۔ کیونکہ رب اپنے غضب کے آلات کے ساتھ آ رہا ہے تاکہ تمام ملک کو برباد کر دے۔
اُس دن جب دشمن ہلاک ہو جائے گا اور اُس کے بُرج گر جائیں گے تو ہر اونچے پہاڑ سے نہریں اور ہر بلندی سے نالے بہیں گے۔
کیونکہ رب آگ اور اپنی تلوار کے ذریعے تمام انسانوں کی عدالت کر کے اپنے ہاتھ سے متعدد لوگوں کو ہلاک کرے گا۔
اُس کا شور دنیا کی انتہا تک گونجے گا، کیونکہ رب عدالت میں اقوام سے مقدمہ لڑے گا، وہ تمام انسانوں کا انصاف کر کے شریروں کو تلوار کے حوالے کر دے گا۔“ یہ رب کا فرمان ہے۔
¶ بلند آواز سے دیگر اقوام میں اعلان کرو کہ جنگ کی تیاریاں کرو۔ اپنے بہترین فوجیوں کو کھڑا کرو۔ لڑنے کے قابل تمام مرد آ کر حملہ کریں۔
¶ رب غیرت مند اور انتقام لینے والا خدا ہے۔ انتقام لیتے وقت رب اپنا پورا غصہ اُتارتا ہے۔ رب اپنے مخالفوں سے بدلہ لیتا اور اپنے دشمنوں سے ناراض رہتا ہے۔
¶ لیکن پھر رب خود نکل کر اِن اقوام سے یوں لڑے گا جس طرح تب لڑتا ہے جب کبھی میدانِ جنگ میں آ جاتا ہے۔
¶ لیکن اللہ کا غضب آسمان پر سے اُن تمام بےدین اور ناراست لوگوں پر نازل ہوتا ہے جو سچائی کو اپنی ناراستی سے دبائے رکھتے ہیں۔
ایک اَور فرشتہ اللہ کے گھر سے نکل کر اونچی آواز سے پکار کر اُس سے مخاطب ہوا جو بادل پر بیٹھا تھا، ”اپنی درانتی لے کر فصل کی کٹائی کر! کیونکہ فصل کاٹنے کا وقت آ گیا ہے اور زمین پر کی فصل پک گئی ہے۔“
اُنہوں نے زمین پر پھیل کر مُقدّسین کی لشکرگاہ کو گھیر لیا، یعنی اُس شہر کو جسے اللہ پیار کرتا ہے۔ لیکن آگ نے آسمان سے نازل ہو کر اُنہیں ہڑپ کر لیا۔