اُس بَیل کے ساتھ وہ سب کچھ کرے جو اُسے اپنے ذاتی غیرارادی گناہ کے لئے کرنا ہوتا ہے۔ یوں وہ لوگوں کا کفارہ دے گا اور اُنہیں معافی مل جائے گی۔
TSK
TSK · احبار 4:35
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
امام اپنی اُنگلی خون میں ڈال کر اُسے اُس قربان گاہ کے چاروں سینگوں پر لگائے جس پر جانور جلائے جاتے ہیں۔ باقی خون وہ قربان گاہ کے پائے پر اُنڈیلے۔
پھر امام دوسرے پرندے کو قواعد کے مطابق بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر پیش کرے۔ یوں امام اُس آدمی کا کفارہ دے گا اور اُسے معافی مل جائے گی۔
پھر امام رب کے سامنے اُس کا کفارہ دے گا تو اُسے معافی مل جائے گی۔“
¶ اگر وہ غربت کے باعث بھیڑ کا بچہ نہ دے سکے تو پھر وہ دو قمریاں یا دو جوان کبوتر لے آئے، ایک بھسم ہونے والی قربانی کے لئے اور دوسرا گناہ کی قربانی کے لئے۔ یوں امام اُس کا کفارہ دے اور وہ پاک ہو جائے گی۔“
آخر میں وہ زندہ پرندے کو آبادی کے باہر کھلے میدان میں چھوڑ دے۔ یوں وہ گھر کا کفارہ دے گا، اور وہ پاک صاف ہو جائے گا۔
¶ جب ہارون کے دو بیٹے رب کے قریب آ کر ہلاک ہوئے تو اِس کے بعد رب موسیٰ سے ہم کلام ہوا۔
امام اسرائیل کی پوری جماعت کا کفارہ دے تو اُنہیں معافی ملے گی، کیونکہ اُن کا گناہ غیرارادی تھا اور اُنہوں نے رب کو بھسم ہونے والی قربانی اور گناہ کی قربانی پیش کی ہے۔
ہماری ہی خطاؤں کی وجہ سے اُسے موت کے حوالے کیا گیا، اور ہمیں ہی راست باز قرار دینے کے لئے اُسے زندہ کیا گیا۔
¶ لیکن اِن دونوں میں بڑا فرق ہے۔ جو نعمت اللہ مفت میں دیتا ہے وہ آدم کے گناہ سے مطابقت نہیں رکھتی۔ کیونکہ اِس ایک شخص آدم کی خلاف ورزی سے بہت سے لوگ موت کی زد میں آ گئے، لیکن اللہ کا فضل کہیں زیادہ موثر ہے، وہ مفت نعمت جو بہتوں کو اُس ایک شخص عیسیٰ مسیح میں ملی ہے۔
موسوی شریعت ہماری پرانی فطرت کی کمزور حالت کی وجہ سے ہمیں نہ بچا سکی۔ اِس لئے اللہ نے وہ کچھ کیا جو شریعت کے بس میں نہ تھا۔ اُس نے اپنا فرزند بھیج دیا تاکہ وہ گناہ گار کا سا جسم اختیار کر کے ہمارے گناہوں کا کفارہ دے۔ اِس طرح اللہ نے پرانی فطرت میں موجود گناہ کو مجرم ٹھہرایا
مسیح بےگناہ تھا، لیکن اللہ نے اُسے ہماری خاطر گناہ ٹھہرایا تاکہ ہمیں اُس میں راست باز قرار دیا جائے۔
محبت کی روح میں زندگی یوں گزاریں جیسے مسیح نے گزاری۔ کیونکہ اُس نے ہم سے محبت رکھ کر اپنے آپ کو ہمارے لئے اللہ کے حضور قربان کر دیا اور یوں ایسی قربانی بن گیا جس کی خوشبو اللہ کو پسند آئی۔
فرزند اللہ کا شاندار جلال منعکس کرتا اور اُس کی ذات کی عین شبیہ ہے۔ وہ اپنے قوی کلام سے سب کچھ سنبھالے رکھتا ہے۔ جب وہ دنیا میں تھا تو اُس نے ہمارے لئے گناہوں سے پاک صاف ہو جانے کا انتظام قائم کیا۔ اِس کے بعد وہ آسمان پر قادرِ مطلق کے دہنے ہاتھ جا بیٹھا۔
¶ ہمیں ایسے ہی امامِ اعظم کی ضرورت تھی۔ ہاں، ایسا امام جو مُقدّس، بےقصور، بےداغ، گناہ گاروں سے الگ اور آسمانوں سے بلند ہوا ہے۔
کیونکہ آپ خود جانتے ہیں کہ آپ کو باپ دادا کی بےمعنی زندگی سے چھڑانے کے لئے کیا فدیہ دیا گیا۔ یہ سونے یا چاندی جیسی فانی چیز نہیں تھی
مسیح خود اپنے بدن پر ہمارے گناہوں کو صلیب پر لے گیا تاکہ ہم گناہوں کے اعتبار سے مر جائیں اور یوں ہمارا گناہ سے تعلق ختم ہو جائے۔ اب وہ چاہتا ہے کہ ہم راست بازی کی زندگی گزاریں۔ کیونکہ آپ کو اُسی کے زخموں کے وسیلے سے شفا ملی ہے۔
لیکن جب ہم نور میں چلتے ہیں، بالکل اُسی طرح جس طرح اللہ نور میں ہے، تو پھر ہم ایک دوسرے کے ساتھ رفاقت رکھتے ہیں اور اُس کے فرزند عیسیٰ کا خون ہمیں تمام گناہوں سے پاک صاف کر دیتا ہے۔
اِس میں اللہ کی محبت ہمارے درمیان ظاہر ہوئی کہ اُس نے اپنے اکلوتے فرزند کو دنیا میں بھیج دیا تاکہ ہم اُس کے ذریعے جئیں۔