TSK

TSK · ملاکی 3:6

Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.

واپس گزرنے پر

¶ اُس وقت رب نے ابرام کے ساتھ عہد کیا۔ اُس نے کہا، ”مَیں یہ ملک مصر کی سرحد سے فرات تک تیری اولاد کو دوں گا،

¶ اللہ نے کہا، ”مَیں جو ہوں سو مَیں ہوں۔ اُن سے کہنا، ’مَیں ہوں نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔

¶ اللہ آدمی نہیں جو جھوٹ بولتا ہے۔ وہ انسان نہیں جو کوئی فیصلہ کر کے بعد میں پچھتائے۔ کیا وہ کبھی اپنی بات پر عمل نہیں کرتا؟ کیا وہ کبھی اپنی بات پوری نہیں کرتا؟

¶ تُو ہی رب اور وہ خدا ہے جس نے ابرام کو چن لیا اور کسدیوں کے شہر اُور سے باہر لا کر ابراہیم کا نام رکھا۔

¶ اپنے باپ دادا کی طرح وہ غدار بن کر بےوفا ہوئے۔ وہ ڈھیلی کمان کی طرح ناکام ہو گئے۔

¶ تیرے خادموں کے فرزند تیرے حضور بستے رہیں گے، اور اُن کی اولاد تیرے سامنے قائم رہے گی۔“

¶ وہی رب ہمارا خدا ہے، وہی پوری دنیا کی عدالت کرتا ہے۔

کیونکہ مَیں رب تیرا خدا ہوں۔ مَیں تیرے دہنے ہاتھ کو پکڑ کر تجھے بتاتا ہوں، ’مت ڈرنا، مَیں ہی تیری مدد کرتا ہوں۔‘

مَیں، صرف مَیں رب ہوں، اور میرے سوا کوئی اَور نجات دہندہ نہیں ہے۔

¶ مَیں ہی رب ہوں، اور میرے سوا کوئی اَور خدا نہیں ہے۔ گو تُو مجھے نہیں جانتا تھا توبھی مَیں تجھے کمربستہ کرتا ہوں

”دیکھ، مَیں رب اور تمام انسانوں کا خدا ہوں۔ تو پھر کیا کوئی کام ہے جو مجھ سے نہیں ہو سکتا؟“

نہ مَیں اپنا سخت غضب نازل کروں گا، نہ دوبارہ اسرائیل کو برباد کروں گا۔ کیونکہ مَیں انسان نہیں بلکہ خدا ہوں، وہ قدوس جو تیرے درمیان سکونت کرتا ہے۔ مَیں غضب میں نہیں آؤں گا۔

ہم ابھی اللہ کے دشمن ہی تھے جب اُس کے فرزند کی موت کے وسیلے سے ہماری اُس کے ساتھ صلح ہو گئی۔ تو پھر یہ بات کتنی یقینی ہے کہ ہم اُس کی زندگی کے وسیلے سے نجات بھی پائیں گے۔

¶ چونکہ یہودی اللہ کی خوش خبری قبول نہیں کرتے اِس لئے وہ اللہ کے دشمن ہیں، اور یہ بات آپ کے لئے فائدے کا باعث بن گئی ہے۔ توبھی وہ اللہ کو پیارے ہیں، اِس لئے کہ اُس نے اُن کے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو چن لیا تھا۔

¶ میرے بھائیو، واجب ہے کہ ہم ہر وقت آپ کے لئے خدا کا شکر کریں جنہیں خداوند پیار کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ نے آپ کو شروع ہی سے نجات پانے کے لئے چن لیا، ایسی نجات کے لئے جو روح القدس سے پاکیزگی پا کر سچائی پر ایمان لانے سے حاصل ہوتی ہے۔

عیسیٰ مسیح ماضی میں، آج اور ابد تک یکساں ہے۔

¶ رب خدا فرماتا ہے، ”مَیں اوّل اور آخر ہوں، وہ جو ہے، جو تھا اور جو آنے والا ہے، یعنی قادرِ مطلق خدا۔“