¶ اے رب، تُو نے مجھے اپنی نجات کی ڈھال بخش دی ہے، تیری نرمی نے مجھے بڑا بنا دیا ہے۔
TSK
TSK · طِطُس 3:2
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
وہ گواہ جو عدالت میں جھوٹ بولتا اور وہ جو بھائیوں میں جھگڑا پیدا کرتا ہے۔
¶ جھگڑالو بیوی کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنے کی نسبت چھت کے کسی کونے میں گزارہ کرنا بہتر ہے۔
میرا جوا اپنے اوپر اُٹھا کر مجھ سے سیکھو، کیونکہ مَیں حلیم اور نرم دل ہوں۔ یوں کرنے سے تمہاری جانیں آرام پائیں گی،
چور، لالچی، شرابی، بدزبان، لٹیرے، یہ سب اللہ کی بادشاہی میراث میں نہیں پائیں گے۔
¶ مَیں آپ سے اپیل کرتا ہوں، مَیں پولس جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مَیں آپ کے رُوبرُو عاجز ہوتا ہوں اور صرف آپ سے دُور ہو کر دلیر ہوتا ہوں۔ مسیح کی حلیمی اور نرمی کے نام میں
¶ روح القدس کا پھل فرق ہے۔ وہ محبت، خوشی، صلح سلامتی، صبر، مہربانی، نیکی، وفاداری،
اِس لئے آئیں، جتنا وقت رہ گیا ہے سب کے ساتھ نیکی کریں، خاص کر اُن کے ساتھ جو ایمان میں ہمارے بھائی اور بہنیں ہیں۔
تمام طرح کی تلخی، طیش، غصے، شور شرابہ، گالی گلوچ بلکہ ہر قسم کے بُرے رویے سے باز آئیں۔
¶ اللہ نے آپ کو چن کر اپنے لئے مخصوص و مُقدّس کر لیا ہے۔ وہ آپ سے محبت رکھتا ہے۔ اِس لئے اب ترس، نیکی، فروتنی، نرم دلی اور صبر کو پہن لیں۔
¶ بھائیو، ہم اِس پر زور دینا چاہتے ہیں کہ اُنہیں سمجھائیں جو بےقاعدہ زندگی گزارتے ہیں، اُنہیں تسلی دیں جو جلدی سے مایوس ہو جاتے ہیں، کمزوروں کا خیال رکھیں اور سب کو صبر سے برداشت کریں۔
اُن کی بیویاں بھی شریف ہوں۔ وہ بہتان لگانے والی نہ ہوں بلکہ ہوش مند اور ہر بات میں وفادار۔
¶ میرے عزیز بھائیو، اِس کا خیال رکھنا، ہر شخص سننے میں تیز ہو، لیکن بولنے اور غصہ کرنے میں دھیما۔
¶ بھائیو، ایک دوسرے پر تہمت مت لگانا۔ جو اپنے بھائی پر تہمت لگاتا یا اُسے مجرم ٹھہراتا ہے وہ شریعت پر تہمت لگاتا ہے اور شریعت کو مجرم ٹھہراتا ہے۔ اور جب آپ شریعت پر تہمت لگاتے ہیں تو آپ اُس کے پیروکار نہیں رہتے بلکہ اُس کے منصف بن گئے ہیں۔
ہر ایک کا مناسب احترام کریں، اپنے بہن بھائیوں سے محبت رکھیں، خدا کا خوف مانیں، بادشاہ کا احترام کریں۔
کلامِ مُقدّس یوں فرماتا ہے، ”کون مزے سے زندگی گزارنا اور اچھے دن دیکھنا چاہتا ہے؟ وہ اپنی زبان کو شریر باتیں کرنے سے روکے اور اپنے ہونٹوں کو جھوٹ بولنے سے۔
خاص کر اُنہیں جو اپنے جسم کی گندی خواہشات کے پیچھے لگے رہتے اور خداوند کے اختیار کو حقیر جانتے ہیں۔ یہ لوگ گستاخ اور مغرور ہیں اور جلالی ہستیوں پر کفر بکنے سے نہیں ڈرتے۔
لیکن یہ لوگ ہر ایسی بات کے بارے میں کفر بکتے ہیں جو اُن کی سمجھ میں نہیں آتی۔ اور جو کچھ وہ فطری طور پر بےسمجھ جانوروں کی طرح سمجھتے ہیں وہی اُنہیں تباہ کر دیتا ہے۔