گھڑی کی دعائیں

موجودہ گھنٹہ

غروب کی دعا - گیارہویں ساعت

غروبِ آفتاب پر ہم خدا کی حفاظت کے لیے شکر کرتے ہیں اور اس کی رحمت کی امید کے ساتھ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں۔

ہر ساعت کی تمہید

باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام پر

ایک خدا، آمین۔

اے رب رحم فرما۔ اے رب رحم فرما۔ اے رب برکت دے۔ آمین۔

باپ اور بیٹے اور روح القدس کو جلال، اب بھی اور ہر زمانہ میں اور اَبدُالآباد تک، آمین۔

خداوند کی دعا

بلکہ یوں دعا کیا کرو، اے ہمارے آسمانی باپ، تیرا نام مُقدّس مانا جائے۔

¶ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جس طرح آسمان میں پوری ہوتی ہے زمین پر بھی پوری ہو۔

¶ ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے۔

¶ ہمارے گناہوں کو معاف کر جس طرح ہم نے اُنہیں معاف کیا جنہوں نے ہمارا گناہ کیا ہے۔

¶ اور ہمیں آزمائش میں نہ پڑنے دے بلکہ ہمیں ابلیس سے بچائے رکھ۔ [کیونکہ بادشاہی، قدرت اور جلال ابد تک تیرے ہی ہیں۔]

دعائے شکرگزاری

آئیے نیکیوں کے صانع، رحیم خدا کا شکر کریں، جو ہمارے خداوند اور خدا اور نجات دہندہ یسوع مسیح کے باپ ہیں، کیونکہ اُس نے ہمیں ڈھانپا اور مدد دی، اور محفوظ رکھا، اور اپنی طرف قبول کیا، اور ہم پر ترس کھایا، اور ہمیں سہارا دیا، اور ہمیں اس ساعت تک پہنچایا۔ ہم یہ بھی اُس سے مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں اس مقدس دن میں اور ہماری ساری عمر کے تمام ایام میں کامل سلامتی کے ساتھ محفوظ رکھے۔ ہمارا ربّ خدا، قادرِ مطلق۔

اَے آقا خدا، قادرِ مطلق، جو ہمارے خداوند اور خدا اور نجات دہندہ یسوع مسیح کے باپ ہے، ہم تیرا شکر کرتے ہیں ہر حال میں، ہر امر کے لیے، اور ہر حالت میں؛ کیونکہ تُو نے ہمیں ڈھانپا، اور ہماری مدد کی، اور ہمیں محفوظ رکھا، اور ہمیں اپنی طرف قبول کیا، اور ہم پر ترس کھایا، اور ہمیں سہارا دیا، اور ہمیں اس ساعت تک پہنچایا۔

پس ہم تیری بھلائی سے درخواست اور التجا کرتے ہیں، اَے محبِّ بشر، ہمیں بخش کہ ہم اس مقدس دن اور اپنی عمر کے سارے ایام کو تیری خوفداری کے ساتھ پورے سکون سے تمام کریں۔ ہر حسد، ہر آزمائش، اور ابلیس کے ہر فعل کو، اور شریر لوگوں کی سازش کو، اور پوشیدہ و ظاہر دشمنوں کے قیام کو ہم سے، تیری ساری قوم سے، اور اس تیرے مقدس مقام سے دور کر دے۔ اور جو چیزیں اچھی اور نفع بخش ہیں وہ ہمیں عطا فرما؛ کیونکہ تُو ہی نے ہمیں یہ اختیار دیا ہے کہ ہم سانپوں اور بچھوؤں اور دشمن کی ساری قوت پر پاؤں رکھیں۔ اور ہمیں آزمائش میں نہ لا، بلکہ شریر سے بچا۔

تیرے اکلوتے بیٹے، ہمارے خداوند اور خدا اور نجات دہندہ یسوع مسیح کی نعمت، شفقتوں اور انسان سے محبت کے سبب؛ جس کے وسیلہ سے تجھ کو جلال، عزت، طاقت اور سجدہ زیبا ہے، اُس کے ساتھ اور تیرے جان بخش روح القدس کے ساتھ جو تیرے برابر ہے، اب بھی اور ہر زمانہ میں اور اَبدُالآباد تک، آمین۔

زبور 50

¶ آسف کا زبور۔ رب قادرِ مطلق خدا بول اُٹھا ہے، اُس نے طلوعِ صبح سے لے کر غروبِ آفتاب تک پوری دنیا کو بُلایا ہے۔

¶ اللہ کا نور صیون سے چمک اُٹھا ہے، اُس پہاڑ سے جو کامل حُسن کا اظہار ہے۔

¶ ہمارا خدا آ رہا ہے، وہ خاموش نہیں رہے گا۔ اُس کے آگے آگے سب کچھ بھسم ہو رہا ہے، اُس کے ارد گرد تیز آندھی چل رہی ہے۔

¶ وہ آسمان و زمین کو آواز دیتا ہے، ”اب مَیں اپنی قوم کی عدالت کروں گا۔

¶ میرے ایمان داروں کو میرے حضور جمع کرو، اُنہیں جنہوں نے قربانیاں پیش کر کے میرے ساتھ عہد باندھا ہے۔“

¶ آسمان اُس کی راستی کا اعلان کریں گے، کیونکہ اللہ خود انصاف کرنے والا ہے۔ (سِلاہ)

¶ ”اے میری قوم، سن! مجھے بات کرنے دے۔ اے اسرائیل، مَیں تیرے خلاف گواہی دوں گا۔ مَیں اللہ تیرا خدا ہوں۔

¶ مَیں تجھے تیری ذبح کی قربانیوں کے باعث ملامت نہیں کر رہا۔ تیری بھسم ہونے والی قربانیاں تو مسلسل میرے سامنے ہیں۔

¶ نہ مَیں تیرے گھر سے بَیل لوں گا، نہ تیرے باڑوں سے بکرے۔

¶ کیونکہ جنگل کے تمام جاندار میرے ہی ہیں، ہزاروں پہاڑیوں پر بسنے والے جانور میرے ہی ہیں۔

¶ مَیں پہاڑوں کے ہر پرندے کو جانتا ہوں، اور جو بھی میدانوں میں حرکت کرتا ہے وہ میرا ہے۔

¶ اگر مجھے بھوک لگتی تو مَیں تجھے نہ بتاتا، کیونکہ زمین اور جو کچھ اُس پر ہے میرا ہے۔

¶ کیا تُو سمجھتا ہے کہ مَیں سانڈوں کا گوشت کھانا یا بکروں کا خون پینا چاہتا ہوں؟

¶ اللہ کو شکرگزاری کی قربانی پیش کر، اور وہ مَنت پوری کر جو تُو نے اللہ تعالیٰ کے حضور مانی ہے۔

¶ مصیبت کے دن مجھے پکار۔ تب مَیں تجھے نجات دوں گا اور تُو میری تمجید کرے گا۔“

¶ لیکن بےدین سے اللہ فرماتا ہے، ”میرے احکام سنانے اور میرے عہد کا ذکر کرنے کا تیرا کیا حق ہے؟

¶ تُو تو تربیت سے نفرت کرتا اور میرے فرمان کچرے کی طرح اپنے پیچھے پھینک دیتا ہے۔

¶ کسی چور کو دیکھتے ہی تُو اُس کا ساتھ دیتا ہے، تُو زناکاروں سے رفاقت رکھتا ہے۔

¶ تُو اپنے منہ کو بُرے کام کے لئے استعمال کرتا، اپنی زبان کو دھوکا دینے کے لئے تیار رکھتا ہے۔

¶ تُو دوسروں کے پاس بیٹھ کر اپنے بھائی کے خلاف بولتا ہے، اپنی ہی ماں کے بیٹے پر تہمت لگاتا ہے۔

¶ یہ کچھ تُو نے کیا ہے، اور مَیں خاموش رہا۔ تب تُو سمجھا کہ مَیں بالکل تجھ جیسا ہوں۔ لیکن مَیں تجھے ملامت کروں گا، تیرے سامنے ہی معاملہ ترتیب سے سناؤں گا۔

¶ تم جو اللہ کو بھولے ہوئے ہو، بات سمجھ لو، ورنہ مَیں تمہیں پھاڑ ڈالوں گا۔ اُس وقت کوئی نہیں ہو گا جو تمہیں بچائے۔

¶ جو شکرگزاری کی قربانی پیش کرے وہ میری تعظیم کرتا ہے۔ جو مصمم ارادے سے ایسی راہ پر چلے اُسے مَیں اللہ کی نجات دکھاؤں گا۔“

ابتدایۂ دعا

بابرکت غروب کی تسبیح، میں اسے مسیح اپنے بادشاہ اور اپنے خدا کو پیش کرتا ہوں، اور اُس سے امید رکھتا ہوں کہ وہ میرے گناہ بخش دے

زبور 116

¶ مَیں رب سے محبت رکھتا ہوں، کیونکہ اُس نے میری آواز اور میری التجا سنی ہے۔

¶ اُس نے اپنا کان میری طرف جھکایا ہے، اِس لئے مَیں عمر بھر اُسے پکاروں گا۔

¶ موت نے مجھے اپنی زنجیروں میں جکڑ لیا، اور پاتال کی پریشانیاں مجھ پر غالب آئیں۔ مَیں مصیبت اور دُکھ میں پھنس گیا۔

¶ تب مَیں نے رب کا نام پکارا، ”اے رب، مہربانی کر کے مجھے بچا!“

¶ رب مہربان اور راست ہے، ہمارا خدا رحیم ہے۔

¶ رب سادہ لوگوں کی حفاظت کرتا ہے۔ جب مَیں پست حال تھا تو اُس نے مجھے بچایا۔

¶ اے میری جان، اپنی آرام گاہ کے پاس واپس آ، کیونکہ رب نے تیرے ساتھ بھلائی کی ہے۔

¶ کیونکہ اے رب، تُو نے میری جان کو موت سے، میری آنکھوں کو آنسو بہانے سے اور میرے پاؤں کو پھسلنے سے بچایا ہے۔

¶ اب مَیں زندوں کی زمین میں رہ کر رب کے حضور چلوں گا۔

¶ مَیں ایمان لایا اور اِس لئے بولا، ”مَیں شدید مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔“

¶ مَیں سخت گھبرا گیا اور بولا، ”تمام انسان دروغ گو ہیں۔“

¶ جو بھلائیاں رب نے میرے ساتھ کی ہیں اُن سب کے عوض مَیں کیا دوں؟

¶ مَیں نجات کا پیالہ اُٹھا کر رب کا نام پکاروں گا۔

¶ مَیں رب کے حضور اُس کی ساری قوم کے سامنے ہی اپنی مَنتیں پوری کروں گا۔

¶ رب کی نگاہ میں اُس کے ایمان داروں کی موت گراں قدر ہے۔

¶ اے رب، یقیناً مَیں تیرا خادم، ہاں تیرا خادم اور تیری خادمہ کا بیٹا ہوں۔ تُو نے میری زنجیروں کو توڑ ڈالا ہے۔

¶ مَیں تجھے شکرگزاری کی قربانی پیش کر کے تیرا نام پکاروں گا۔

¶ مَیں رب کے حضور اُس کی ساری قوم کے سامنے ہی اپنی مَنتیں پوری کروں گا۔

¶ مَیں رب کے گھر کی بارگاہوں میں، اے یروشلم تیرے بیچ میں ہی اُنہیں پورا کروں گا۔ رب کی حمد ہو۔

زبور 117

¶ اے تمام اقوام، رب کی تمجید کرو! اے تمام اُمّتو، اُس کی مدح سرائی کرو!

¶ کیونکہ اُس کی ہم پر شفقت عظیم ہے، اور رب کی وفاداری ابدی ہے۔ رب کی حمد ہو!

زبور 119

¶ مبارک ہیں وہ جن کا چال چلن بےالزام ہے، جو رب کی شریعت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔

¶ مبارک ہیں وہ جو اُس کے احکام پر عمل کرتے اور پورے دل سے اُس کے طالب رہتے ہیں،

¶ جو بدی نہیں کرتے بلکہ اُس کی راہوں پر چلتے ہیں۔

¶ تُو نے ہمیں اپنے احکام دیئے ہیں، اور تُو چاہتا ہے کہ ہم ہر لحاظ سے اُن کے تابع رہیں۔

¶ کاش میری راہیں اِتنی پختہ ہوں کہ مَیں ثابت قدمی سے تیرے احکام پر عمل کروں!

¶ تب مَیں شرمندہ نہیں ہوں گا، کیونکہ میری آنکھیں تیرے تمام احکام پر لگی رہیں گی۔

¶ جتنا مَیں تیرے باانصاف فیصلوں کے بارے میں سیکھوں گا اُتنا ہی دیانت دار دل سے تیری ستائش کروں گا۔

¶ تیرے احکام پر مَیں ہر وقت عمل کروں گا۔ مجھے پوری طرح ترک نہ کر!

¶ نوجوان اپنی راہ کو کس طرح پاک رکھے؟ اِس طرح کہ تیرے کلام کے مطابق زندگی گزارے۔

¶ مَیں پورے دل سے تیرا طالب رہا ہوں۔ مجھے اپنے احکام سے بھٹکنے نہ دے۔

¶ مَیں نے تیرا کلام اپنے دل میں محفوظ رکھا ہے تاکہ تیرا گناہ نہ کروں۔

¶ اے رب، تیری حمد ہو! مجھے اپنے احکام سکھا۔

¶ اپنے ہونٹوں سے مَیں دوسروں کو تیرے منہ کی تمام ہدایات سناتا ہوں۔

¶ مَیں تیرے احکام کی راہ سے اُتنا لطف اندوز ہوتا ہوں جتنا کہ ہر طرح کی دولت سے۔

¶ مَیں تیری ہدایات میں محوِ خیال رہوں گا اور تیری راہوں کو تکتا رہوں گا۔

¶ مَیں تیرے فرمانوں سے لطف اندوز ہوتا ہوں اور تیرا کلام نہیں بھولتا۔

¶ اپنے خادم سے بھلائی کر تاکہ مَیں زندہ رہوں اور تیرے کلام کے مطابق زندگی گزاروں۔

¶ میری آنکھوں کو کھول تاکہ تیری شریعت کے عجائب دیکھوں۔

¶ دنیا میں مَیں پردیسی ہی ہوں۔ اپنے احکام مجھ سے چھپائے نہ رکھ!

¶ میری جان ہر وقت تیری ہدایات کی آرزو کرتے کرتے نڈھال ہو رہی ہے۔

¶ تُو مغروروں کو ڈانٹتا ہے۔ اُن پر لعنت جو تیرے احکام سے بھٹک جاتے ہیں!

¶ مجھے لوگوں کی توہین اور تحقیر سے رِہائی دے، کیونکہ مَیں تیرے احکام کے تابع رہا ہوں۔

¶ گو بزرگ میرے خلاف منصوبے باندھنے کے لئے بیٹھ گئے ہیں، تیرا خادم تیرے احکام میں محوِ خیال رہتا ہے۔

¶ تیرے احکام سے ہی مَیں لطف اُٹھاتا ہوں، وہی میرے مشیر ہیں۔

¶ میری جان خاک میں دب گئی ہے۔ اپنے کلام کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔

¶ مَیں نے اپنی راہیں بیان کیں تو تُو نے میری سنی۔ مجھے اپنے احکام سکھا۔

¶ مجھے اپنے احکام کی راہ سمجھنے کے قابل بنا تاکہ تیرے عجائب میں محوِ خیال رہوں۔

¶ میری جان دُکھ کے مارے نڈھال ہو گئی ہے۔ مجھے اپنے کلام کے مطابق تقویت دے۔

¶ فریب کی راہ مجھ سے دُور رکھ اور مجھے اپنی شریعت سے نواز۔

¶ مَیں نے وفا کی راہ اختیار کر کے تیرے آئین اپنے سامنے رکھے ہیں۔

¶ مَیں تیرے احکام سے لپٹا رہتا ہوں۔ اے رب، مجھے شرمندہ نہ ہونے دے۔

¶ مَیں تیرے فرمانوں کی راہ پر دوڑتا ہوں، کیونکہ تُو نے میرے دل کو کشادگی بخشی ہے۔

¶ اے رب، مجھے اپنے آئین کی راہ سکھا تو مَیں عمر بھر اُن پر عمل کروں گا۔

¶ مجھے سمجھ عطا کر تاکہ تیری شریعت کے مطابق زندگی گزاروں اور پورے دل سے اُس کے تابع رہوں۔

¶ اپنے احکام کی راہ پر میری راہنمائی کر، کیونکہ یہی مَیں پسند کرتا ہوں۔

¶ میرے دل کو لالچ میں آنے نہ دے بلکہ اُسے اپنے فرمانوں کی طرف مائل کر۔

¶ میری آنکھوں کو باطل چیزوں سے پھیر لے، اور مجھے اپنی راہوں پر سنبھال کر میری جان کو تازہ دم کر۔

¶ جو وعدہ تُو نے اپنے خادم سے کیا وہ پورا کر تاکہ لوگ تیرا خوف مانیں۔

¶ جس رُسوائی سے مجھے خوف ہے اُس کا خطرہ دُور کر، کیونکہ تیرے احکام اچھے ہیں۔

¶ مَیں تیری ہدایات کا شدید آرزومند ہوں، اپنی راستی سے میری جان کو تازہ دم کر۔

¶ اے رب، تیری شفقت اور وہ نجات جس کا وعدہ تُو نے کیا ہے مجھ تک پہنچے

¶ تاکہ مَیں بےعزتی کرنے والے کو جواب دے سکوں۔ کیونکہ مَیں تیرے کلام پر بھروسا رکھتا ہوں۔

¶ میرے منہ سے سچائی کا کلام نہ چھین، کیونکہ مَیں تیرے فرمانوں کے انتظار میں ہوں۔

¶ مَیں ہر وقت تیری شریعت کی پیروی کروں گا، اب سے ابد تک اُس میں قائم رہوں گا۔

¶ مَیں کھلے میدان میں چلتا پھروں گا، کیونکہ تیرے آئین کا طالب رہتا ہوں۔

¶ مَیں شرم کئے بغیر بادشاہوں کے سامنے تیرے احکام بیان کروں گا۔

¶ مَیں تیرے فرمانوں سے لطف اندوز ہوتا ہوں، وہ مجھے پیارے ہیں۔

¶ مَیں اپنے ہاتھ تیرے فرمانوں کی طرف اُٹھاؤں گا، کیونکہ وہ مجھے پیارے ہیں۔ مَیں تیری ہدایات میں محوِ خیال رہوں گا۔

¶ اُس بات کا خیال رکھ جو تُو نے اپنے خادم سے کی اور جس سے تُو نے مجھے اُمید دلائی ہے۔

¶ مصیبت میں یہی تسلی کا باعث رہا ہے کہ تیرا کلام میری جان کو تازہ دم کرتا ہے۔

¶ مغرور میرا حد سے زیادہ مذاق اُڑاتے ہیں، لیکن مَیں تیری شریعت سے دُور نہیں ہوتا۔

¶ اے رب، مَیں تیرے قدیم فرمان یاد کرتا ہوں تو مجھے تسلی ملتی ہے۔

¶ بےدینوں کو دیکھ کر مَیں آگ بگولا ہو جاتا ہوں، کیونکہ اُنہوں نے تیری شریعت کو ترک کیا ہے۔

¶ جس گھر میں مَیں پردیسی ہوں اُس میں مَیں تیرے احکام کے گیت گاتا رہتا ہوں۔

¶ اے رب، رات کو مَیں تیرا نام یاد کرتا ہوں، تیری شریعت پر عمل کرتا رہتا ہوں۔

¶ یہ تیری بخشش ہے کہ مَیں تیرے آئین کی پیروی کرتا ہوں۔

¶ رب میری میراث ہے۔ مَیں نے تیرے فرمانوں پر عمل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

¶ مَیں پورے دل سے تیری شفقت کا طالب رہا ہوں۔ اپنے وعدے کے مطابق مجھ پر مہربانی کر۔

¶ مَیں نے اپنی راہوں پر دھیان دے کر تیرے احکام کی طرف قدم بڑھائے ہیں۔

¶ مَیں نہیں جھجکتا بلکہ بھاگ کر تیرے احکام پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

¶ بےدینوں کے رسّوں نے مجھے جکڑ لیا ہے، لیکن مَیں تیری شریعت نہیں بھولتا۔

¶ آدھی رات کو مَیں جاگ اُٹھتا ہوں تاکہ تیرے راست فرمانوں کے لئے تیرا شکر کروں۔

¶ مَیں اُن سب کا ساتھی ہوں جو تیرا خوف مانتے ہیں، اُن سب کا دوست جو تیری ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔

¶ اے رب، دنیا تیری شفقت سے معمور ہے۔ مجھے اپنے احکام سکھا!

¶ اے رب، تُو نے اپنے کلام کے مطابق اپنے خادم سے بھلائی کی ہے۔

¶ مجھے صحیح امتیاز اور عرفان سکھا، کیونکہ مَیں تیرے احکام پر ایمان رکھتا ہوں۔

¶ اِس سے پہلے کہ مجھے پست کیا گیا مَیں آوارہ پھرتا تھا، لیکن اب مَیں تیرے کلام کے تابع رہتا ہوں۔

¶ تُو بھلا ہے اور بھلائی کرتا ہے۔ مجھے اپنے آئین سکھا!

¶ مغروروں نے جھوٹ بول کر مجھ پر کیچڑ اُچھالی ہے، لیکن مَیں پورے دل سے تیری ہدایات کی فرماں برداری کرتا ہوں۔

¶ اُن کے دل اکڑ کر بےحس ہو گئے ہیں، لیکن مَیں تیری شریعت سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔

¶ میرے لئے اچھا تھا کہ مجھے پست کیا گیا، کیونکہ اِس طرح مَیں نے تیرے احکام سیکھ لئے۔

¶ جو شریعت تیرے منہ سے صادر ہوئی ہے وہ مجھے سونے چاندی کے ہزاروں سِکوں سے زیادہ پسند ہے۔

¶ تیرے ہاتھوں نے مجھے بنا کر مضبوط بنیاد پر رکھ دیا ہے۔ مجھے سمجھ عطا فرما تاکہ تیرے احکام سیکھ لوں۔

¶ جو تیرا خوف مانتے ہیں وہ مجھے دیکھ کر خوش ہو جائیں، کیونکہ مَیں تیرے کلام کے انتظار میں رہتا ہوں۔

¶ اے رب، مَیں نے جان لیا ہے کہ تیرے فیصلے راست ہیں۔ یہ بھی تیری وفاداری کا اظہار ہے کہ تُو نے مجھے پست کیا ہے۔

¶ تیری شفقت مجھے تسلی دے، جس طرح تُو نے اپنے خادم سے وعدہ کیا ہے۔

¶ مجھ پر اپنے رحم کا اظہار کر تاکہ میری جان میں جان آئے، کیونکہ مَیں تیری شریعت سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔

¶ جو مغرور مجھے جھوٹ سے پست کر رہے ہیں وہ شرمندہ ہو جائیں۔ لیکن مَیں تیرے فرمانوں میں محوِ خیال رہوں گا۔

¶ کاش جو تیرا خوف مانتے اور تیرے احکام جانتے ہیں وہ میرے پاس واپس آئیں!

¶ میرا دل تیرے آئین کی پیروی کرنے میں بےالزام رہے تاکہ میری رُسوائی نہ ہو جائے۔

¶ میری جان تیری نجات کی آرزو کرتے کرتے نڈھال ہو رہی ہے، مَیں تیرے کلام کے انتظار میں ہوں۔

¶ میری آنکھیں تیرے وعدے کی راہ دیکھتے دیکھتے دُھندلا رہی ہیں۔ تُو مجھے کب تسلی دے گا؟

¶ مَیں دھوئیں میں سکڑی ہوئی مشک کی مانند ہوں لیکن تیرے فرمانوں کو نہیں بھولتا۔

¶ تیرے خادم کو مزید کتنی دیر انتظار کرنا پڑے گا؟ تُو میرا تعاقب کرنے والوں کی عدالت کب کرے گا؟

¶ جو مغرور تیری شریعت کے تابع نہیں ہوتے اُنہوں نے مجھے پھنسانے کے لئے گڑھے کھود لئے ہیں۔

¶ تیرے تمام احکام پُروفا ہیں۔ میری مدد کر، کیونکہ وہ جھوٹ کا سہارا لے کر میرا تعاقب کر رہے ہیں۔

¶ وہ مجھے رُوئے زمین پر سے مٹانے کے قریب ہی ہیں، لیکن مَیں نے تیرے آئین کو ترک نہیں کیا۔

¶ اپنی شفقت کا اظہار کر کے میری جان کو تازہ دم کر تاکہ تیرے منہ کے فرمانوں پر عمل کروں۔

¶ اے رب، تیرا کلام ابد تک آسمان پر قائم و دائم ہے۔

¶ تیری وفاداری پشت در پشت رہتی ہے۔ تُو نے زمین کی بنیاد رکھی، اور وہ وہیں کی وہیں برقرار رہتی ہے۔

¶ آج تک آسمان و زمین تیرے فرمانوں کو پورا کرنے کے لئے حاضر رہتے ہیں، کیونکہ تمام چیزیں تیری خدمت کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں۔

¶ اگر تیری شریعت میری خوشی نہ ہوتی تو مَیں اپنی مصیبت میں ہلاک ہو گیا ہوتا۔

¶ مَیں تیری ہدایات کبھی نہیں بھولوں گا، کیونکہ اُن ہی کے ذریعے تُو میری جان کو تازہ دم کرتا ہے۔

¶ مَیں تیرا ہی ہوں، مجھے بچا! کیونکہ مَیں تیرے احکام کا طالب رہا ہوں۔

¶ بےدین میری تاک میں بیٹھ گئے ہیں تاکہ مجھے مار ڈالیں، لیکن مَیں تیرے آئین پر دھیان دیتا رہوں گا۔

¶ مَیں نے دیکھا ہے کہ ہر کامل چیز کی حد ہوتی ہے، لیکن تیرے فرمان کی کوئی حد نہیں ہوتی۔

¶ تیری شریعت مجھے کتنی پیاری ہے! دن بھر مَیں اُس میں محوِ خیال رہتا ہوں۔

¶ تیرا فرمان مجھے میرے دشمنوں سے زیادہ دانش مند بنا دیتا ہے، کیونکہ وہ ہمیشہ تک میرا خزانہ ہے۔

¶ مجھے اپنے تمام اُستادوں سے زیادہ سمجھ حاصل ہے، کیونکہ مَیں تیرے آئین میں محوِ خیال رہتا ہوں۔

¶ مجھے بزرگوں سے زیادہ سمجھ حاصل ہے، کیونکہ مَیں وفاداری سے تیرے احکام کی پیروی کرتا ہوں۔

¶ مَیں نے ہر بُری راہ پر قدم رکھنے سے گریز کیا ہے تاکہ تیرے کلام سے لپٹا رہوں۔

¶ مَیں تیرے فرمانوں سے دُور نہیں ہوا، کیونکہ تُو ہی نے مجھے تعلیم دی ہے۔

¶ تیرا کلام کتنا لذیذ ہے، وہ میرے منہ میں شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔

¶ تیرے احکام سے مجھے سمجھ حاصل ہوتی ہے، اِس لئے مَیں جھوٹ کی ہر راہ سے نفرت کرتا ہوں۔

¶ تیرا کلام میرے پاؤں کے لئے چراغ ہے جو میری راہ کو روشن کرتا ہے۔

¶ مَیں نے قَسم کھائی ہے کہ تیرے راست فرمانوں کی پیروی کروں گا، اور مَیں یہ وعدہ پورا بھی کروں گا۔

¶ مجھے بہت پست کیا گیا ہے۔ اے رب، اپنے کلام کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔

¶ اے رب، میرے منہ کی رضاکارانہ قربانیوں کو پسند کر اور مجھے اپنے آئین سکھا!

¶ میری جان ہمیشہ خطرے میں ہے، لیکن مَیں تیری شریعت نہیں بھولتا۔

¶ بےدینوں نے میرے لئے پھندا تیار کر رکھا ہے، لیکن مَیں تیرے فرمانوں سے نہیں بھٹکا۔

¶ تیرے احکام میری ابدی میراث بن گئے ہیں، کیونکہ اُن سے میرا دل خوشی سے اُچھلتا ہے۔

¶ مَیں نے اپنا دل تیرے احکام پر عمل کرنے کی طرف مائل کیا ہے، کیونکہ اِس کا اجر ابدی ہے۔

¶ مَیں دو دلوں سے نفرت لیکن تیری شریعت سے محبت کرتا ہوں۔

¶ تُو میری پناہ گاہ اور میری ڈھال ہے، مَیں تیرے کلام کے انتظار میں رہتا ہوں۔

¶ اے بدکارو، مجھ سے دُور ہو جاؤ، کیونکہ مَیں اپنے خدا کے احکام سے لپٹا رہوں گا۔

¶ اپنے فرمان کے مطابق مجھے سنبھال تاکہ زندہ رہوں۔ میری آس ٹوٹنے نہ دے تاکہ شرمندہ نہ ہو جاؤں۔

¶ میرا سہارا بن تاکہ بچ کر ہر وقت تیرے آئین کا لحاظ رکھوں۔

¶ تُو اُن سب کو رد کرتا ہے جو تیرے احکام سے بھٹکے پھرتے ہیں، کیونکہ اُن کی دھوکے بازی فریب ہی ہے۔

¶ تُو زمین کے تمام بےدینوں کو ناپاک چاندی سے خارج کی ہوئی مَیل کی طرح پھینک کر نیست کر دیتا ہے، اِس لئے تیرے فرمان مجھے پیارے ہیں۔

¶ میرا جسم تجھ سے دہشت کھا کر تھرتھراتا ہے، اور مَیں تیرے فیصلوں سے ڈرتا ہوں۔

¶ مَیں نے راست اور باانصاف کام کیا ہے، چنانچہ مجھے اُن کے حوالے نہ کر جو مجھ پر ظلم کرتے ہیں۔

¶ اپنے خادم کی خوش حالی کا ضامن بن کر مغروروں کو مجھ پر ظلم کرنے نہ دے۔

¶ میری آنکھیں تیری نجات اور تیرے راست وعدے کی راہ دیکھتے دیکھتے رہ گئی ہیں۔

¶ اپنے خادم سے تیرا سلوک تیری شفقت کے مطابق ہو۔ مجھے اپنے احکام سکھا۔

¶ مَیں تیرا ہی خادم ہوں۔ مجھے فہم عطا فرما تاکہ تیرے آئین کی پوری سمجھ آئے۔

¶ اب وقت آ گیا ہے کہ رب قدم اُٹھائے، کیونکہ لوگوں نے تیری شریعت کو توڑ ڈالا ہے۔

¶ اِس لئے مَیں تیرے احکام کو سونے بلکہ خالص سونے سے زیادہ پیار کرتا ہوں۔

¶ اِس لئے مَیں احتیاط سے تیرے تمام آئین کے مطابق زندگی گزارتا ہوں۔ مَیں ہر فریب دہ راہ سے نفرت کرتا ہوں۔

¶ تیرے احکام تعجب انگیز ہیں، اِس لئے میری جان اُن پر عمل کرتی ہے۔

¶ تیرے کلام کا انکشاف روشنی بخشتا اور سادہ لوح کو سمجھ عطا کرتا ہے۔

¶ مَیں تیرے فرمانوں کے لئے اِتنا پیاسا ہوں کہ منہ کھول کر ہانپ رہا ہوں۔

¶ میری طرف رجوع فرما اور مجھ پر وہی مہربانی کر جو تُو اُن سب پر کرتا ہے جو تیرے نام سے پیار کرتے ہیں۔

¶ اپنے کلام سے میرے قدم مضبوط کر، کسی بھی گناہ کو مجھ پر حکومت نہ کرنے دے۔

¶ فدیہ دے کر مجھے انسان کے ظلم سے چھٹکارا دے تاکہ مَیں تیرے احکام کے تابع رہوں۔

¶ اپنے چہرے کا نور اپنے خادم پر چمکا اور مجھے اپنے احکام سکھا۔

¶ میری آنکھوں سے آنسوؤں کی ندیاں بہہ رہی ہیں، کیونکہ لوگ تیری شریعت کے تابع نہیں رہتے۔

¶ اے رب، تُو راست ہے، اور تیرے فیصلے درست ہیں۔

¶ تُو نے راستی اور بڑی وفاداری کے ساتھ اپنے فرمان جاری کئے ہیں۔

¶ میری جان غیرت کے باعث تباہ ہو گئی ہے، کیونکہ میرے دشمن تیرے فرمان بھول گئے ہیں۔

¶ تیرا کلام آزما کر پاک صاف ثابت ہوا ہے، تیرا خادم اُسے پیار کرتا ہے۔

¶ مجھے ذلیل اور حقیر جانا جاتا ہے، لیکن مَیں تیرے آئین نہیں بھولتا۔

¶ تیری راستی ابدی ہے، اور تیری شریعت سچائی ہے۔

¶ مصیبت اور پریشانی مجھ پر غالب آ گئی ہیں، لیکن مَیں تیرے احکام سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔

¶ تیرے احکام ابد تک راست ہیں۔ مجھے سمجھ عطا فرما تاکہ مَیں جیتا رہوں۔

¶ مَیں پورے دل سے پکارتا ہوں، ”اے رب، میری سن! مَیں تیرے آئین کے مطابق زندگی گزاروں گا۔“

¶ مَیں پکارتا ہوں، ”مجھے بچا! مَیں تیرے احکام کی پیروی کروں گا۔“

¶ پَو پھٹنے سے پہلے پہلے مَیں اُٹھ کر مدد کے لئے پکارتا ہوں۔ مَیں تیرے کلام کے انتظار میں ہوں۔

¶ رات کے وقت ہی میری آنکھیں کھل جاتی ہیں تاکہ تیرے کلام پر غور و خوض کروں۔

¶ اپنی شفقت کے مطابق میری آواز سن! اے رب، اپنے فرمانوں کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔

¶ جو چالاکی سے میرا تعاقب کر رہے ہیں وہ قریب پہنچ گئے ہیں۔ لیکن وہ تیری شریعت سے انتہائی دُور ہیں۔

¶ اے رب، تُو قریب ہی ہے، اور تیرے احکام سچائی ہیں۔

¶ بڑی دیر پہلے مجھے تیرے فرمانوں سے معلوم ہوا ہے کہ تُو نے اُنہیں ہمیشہ کے لئے قائم رکھا ہے۔

¶ میری مصیبت کا خیال کر کے مجھے بچا! کیونکہ مَیں تیری شریعت نہیں بھولتا۔

¶ عدالت میں میرے حق میں لڑ کر میرا عوضانہ دے تاکہ میری جان چھوٹ جائے۔ اپنے وعدے کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔

¶ نجات بےدینوں سے بہت دُور ہے، کیونکہ وہ تیرے احکام کے طالب نہیں ہوتے۔

¶ اے رب، تُو متعدد طریقوں سے اپنے رحم کا اظہار کرتا ہے۔ اپنے آئین کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔

¶ میرا تعاقب کرنے والوں اور میرے دشمنوں کی بڑی تعداد ہے، لیکن مَیں تیرے احکام سے دُور نہیں ہوا۔

¶ بےوفاؤں کو دیکھ کر مجھے گھن آتی ہے، کیونکہ وہ تیرے کلام کے مطابق زندگی نہیں گزارتے۔

¶ دیکھ، مجھے تیرے احکام سے پیار ہے۔ اے رب، اپنی شفقت کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔

¶ تیرے کلام کا لُبِ لباب سچائی ہے، تیرے تمام راست فرمان ابد تک قائم ہیں۔

¶ سردار بلاوجہ میرا پیچھا کرتے ہیں، لیکن میرا دل تیرے کلام سے ہی ڈرتا ہے۔

¶ مَیں تیرے کلام کی خوشی اُس کی طرح مناتا ہوں جسے کثرت کا مالِ غنیمت مل گیا ہو۔

¶ مَیں جھوٹ سے نفرت کرتا بلکہ گھن کھاتا ہوں، لیکن تیری شریعت مجھے پیاری ہے۔

¶ مَیں دن میں سات بار تیری ستائش کرتا ہوں، کیونکہ تیرے احکام راست ہیں۔

¶ جنہیں شریعت پیاری ہے اُنہیں بڑا سکون حاصل ہے، وہ کسی بھی چیز سے ٹھوکر کھا کر نہیں گریں گے۔

¶ اے رب، مَیں تیری نجات کے انتظار میں رہتے ہوئے تیرے احکام کی پیروی کرتا ہوں۔

¶ میری جان تیرے فرمانوں سے لپٹی رہتی ہے، وہ اُسے نہایت پیارے ہیں۔

¶ مَیں تیرے آئین اور ہدایات کی پیروی کرتا ہوں، کیونکہ میری تمام راہیں تیرے سامنے ہیں۔

¶ اے رب، میری آہیں تیرے سامنے آئیں، مجھے اپنے کلام کے مطابق سمجھ عطا فرما۔

¶ میری التجائیں تیرے سامنے آئیں، مجھے اپنے کلام کے مطابق چھڑا!

¶ میرے ہونٹوں سے حمد و ثنا پھوٹ نکلے، کیونکہ تُو مجھے اپنے احکام سکھاتا ہے۔

¶ میری زبان تیرے کلام کی مدح سرائی کرے، کیونکہ تیرے تمام فرمان راست ہیں۔

¶ تیرا ہاتھ میری مدد کرنے کے لئے تیار رہے، کیونکہ مَیں نے تیرے احکام اختیار کئے ہیں۔

¶ اے رب، مَیں تیری نجات کا آرزومند ہوں، تیری شریعت سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔

¶ میری جان زندہ رہے تاکہ تیری ستائش کر سکے۔ تیرے آئین میری مدد کریں۔

¶ مَیں بھٹکی ہوئی بھیڑ کی طرح آوارہ پھر رہا ہوں۔ اپنے خادم کو تلاش کر، کیونکہ مَیں تیرے احکام نہیں بھولتا۔

زبور 120

¶ زیارت کا گیت۔ مصیبت میں مَیں نے رب کو پکارا، اور اُس نے میری سنی۔

¶ اے رب، میری جان کو جھوٹے ہونٹوں اور فریب دہ زبان سے بچا۔

¶ اے فریب دہ زبان، وہ تیرے ساتھ کیا کرے، مزید تجھے کیا دے؟

¶ وہ تجھ پر جنگجو کے تیز تیر اور دہکتے کوئلے برسائے!

¶ مجھ پر افسوس! مجھے اجنبی ملک مسک میں، قیدار کے خیموں کے پاس رہنا پڑتا ہے۔

¶ اِتنی دیر سے امن کے دشمنوں کے پاس رہنے سے میری جان تنگ آ گئی ہے۔

¶ مَیں تو امن چاہتا ہوں، لیکن جب کبھی بولوں تو وہ جنگ کرنے پر تُلے ہوتے ہیں۔

زبور 121

¶ زیارت کا گیت۔ مَیں اپنی آنکھوں کو پہاڑوں کی طرف اُٹھاتا ہوں۔ میری مدد کہاں سے آتی ہے؟

¶ میری مدد رب سے آتی ہے، جو آسمان و زمین کا خالق ہے۔

¶ وہ تیرا پاؤں پھسلنے نہیں دے گا۔ تیرا محافظ اونگھنے کا نہیں۔

¶ یقیناً اسرائیل کا محافظ نہ اونگھتا ہے، نہ سوتا ہے۔

¶ رب تیرا محافظ ہے، رب تیرے دہنے ہاتھ پر سائبان ہے۔

¶ نہ دن کو سورج، نہ رات کو چاند تجھے ضرر پہنچائے گا۔

¶ رب تجھے ہر نقصان سے بچائے گا، وہ تیری جان کو محفوظ رکھے گا۔

¶ رب اب سے ابد تک تیرے آنے جانے کی پہرا داری کرے گا۔

زبور 122

¶ داؤد کا زیارت کا گیت۔ مَیں اُن سے خوش ہوا جنہوں نے مجھ سے کہا، ”آؤ، ہم رب کے گھر چلیں۔“

¶ اے یروشلم، اب ہمارے پاؤں تیرے دروازوں میں کھڑے ہیں۔

¶ یروشلم شہر یوں بنایا گیا ہے کہ اُس کے تمام حصے مضبوطی سے ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں۔

¶ وہاں قبیلے، ہاں رب کے قبیلے حاضر ہوتے ہیں تاکہ رب کے نام کی ستائش کریں جس طرح اسرائیل کو فرمایا گیا ہے۔

¶ کیونکہ وہاں تخت عدالت کرنے کے لئے لگائے گئے ہیں، وہاں داؤد کے گھرانے کے تخت ہیں۔

¶ یروشلم کے لئے سلامتی مانگو! ”جو تجھ سے پیار کرتے ہیں وہ سکون پائیں۔

¶ تیری فصیل میں سلامتی اور تیرے محلوں میں سکون ہو۔“

¶ اپنے بھائیوں اور ہم سایوں کی خاطر مَیں کہوں گا، ”تیرے اندر سلامتی ہو!“

¶ رب ہمارے خدا کے گھر کی خاطر مَیں تیری خوش حالی کا طالب رہوں گا۔

زبور 123

¶ زیارت کا گیت۔ مَیں اپنی آنکھوں کو تیری طرف اُٹھاتا ہوں، تیری طرف جو آسمان پر تخت نشین ہے۔

¶ جس طرح غلام کی آنکھیں اپنے مالک کے ہاتھ کی طرف اور لونڈی کی آنکھیں اپنی مالکن کے ہاتھ کی طرف لگی رہتی ہیں اُسی طرح ہماری آنکھیں رب اپنے خدا پر لگی رہتی ہیں، جب تک وہ ہم پر مہربانی نہ کرے۔

¶ اے رب، ہم پر مہربانی کر، ہم پر مہربانی کر! کیونکہ ہم حد سے زیادہ حقارت کا نشانہ بن گئے ہیں۔

¶ سکون سے زندگی گزارنے والوں کی لعن طعن اور مغروروں کی تحقیر سے ہماری جان دوبھر ہو گئی ہے۔

زبور 124

¶ اسرائیل کہے، ”اگر رب ہمارے ساتھ نہ ہوتا،

¶ اگر رب ہمارے ساتھ نہ ہوتا جب لوگ ہمارے خلاف اُٹھے

¶ اور آگ بگولا ہو کر اپنا پورا غصہ ہم پر اُتارا، تو وہ ہمیں زندہ ہڑپ کر لیتے۔

¶ پھر سیلاب ہم پر ٹوٹ پڑتا، ندی کا تیز دھارا ہم پر غالب آ جاتا

¶ اور متلاطم پانی ہم پر سے گزر جاتا۔“

¶ رب کی حمد ہو جس نے ہمیں اُن کے دانتوں کے حوالے نہ کیا، ورنہ وہ ہمیں پھاڑ کھاتے۔

¶ ہماری جان اُس چڑیا کی طرح چھوٹ گئی ہے جو چڑی مار کے پھندے سے نکل کر اُڑ گئی ہے۔ پھندا ٹوٹ گیا ہے، اور ہم بچ نکلے ہیں۔

¶ رب کا نام، ہاں اُسی کا نام ہمارا سہارا ہے جو آسمان و زمین کا خالق ہے۔

زبور 125

¶ زیارت کا گیت۔ جو رب پر بھروسا رکھتے ہیں وہ کوہِ صیون کی مانند ہیں جو کبھی نہیں ڈگمگاتا بلکہ ابد تک قائم رہتا ہے۔

¶ جس طرح یروشلم پہاڑوں سے گھرا رہتا ہے اُسی طرح رب اپنی قوم کو اب سے ابد تک چاروں طرف سے محفوظ رکھتا ہے۔

¶ کیونکہ بےدینوں کی راست بازوں کی میراث پر حکومت نہیں رہے گی، ایسا نہ ہو کہ راست باز بدکاری کرنے کی آزمائش میں پڑ جائیں۔

¶ اے رب، اُن سے بھلائی کر جو نیک ہیں، جو دل سے سیدھی راہ پر چلتے ہیں۔

¶ لیکن جو بھٹک کر اپنی ٹیڑھی میڑھی راہوں پر چلتے ہیں اُنہیں رب بدکاروں کے ساتھ خارج کر دے۔ اسرائیل کی سلامتی ہو!

زبور 126

¶ زیارت کا گیت۔ جب رب نے صیون کو بحال کیا تو ایسا لگ رہا تھا کہ ہم خواب دیکھ رہے ہیں۔

¶ تب ہمارا منہ ہنسی خوشی سے بھر گیا، اور ہماری زبان شادمانی کے نعرے لگانے سے رُک نہ سکی۔ تب دیگر قوموں میں کہا گیا، ”رب نے اُن کے لئے زبردست کام کیا ہے۔“

¶ رب نے واقعی ہمارے لئے زبردست کام کیا ہے۔ ہم کتنے خوش تھے، کتنے خوش!

¶ اے رب، ہمیں بحال کر۔ جس طرح موسمِ برسات میں دشتِ نجب کے خشک نالے پانی سے بھر جاتے ہیں اُسی طرح ہمیں بحال کر۔

¶ جو آنسو بہا بہا کر بیج بوئیں وہ خوشی کے نعرے لگا کر فصل کاٹیں گے۔

¶ وہ روتے ہوئے بیج بونے کے لئے نکلیں گے، لیکن جب فصل پک جائے تو خوشی کے نعرے لگا کر پُولے اُٹھائے اپنے گھر لوٹیں گے۔

زبور 127

¶ سلیمان کا زیارت کا گیت۔ اگر رب گھر کو تعمیر نہ کرے تو اُس پر کام کرنے والوں کی محنت عبث ہے۔ اگر رب شہر کی پہرا داری نہ کرے تو انسانی پہرے داروں کی نگہبانی عبث ہے۔

¶ یہ بھی عبث ہے کہ تم صبح سویرے اُٹھو اور پورے دن محنت مشقت کے ساتھ روزی کما کر رات گئے سو جاؤ۔ کیونکہ جو اللہ کو پیارے ہیں اُنہیں وہ اُن کی ضروریات اُن کے سوتے میں پوری کر دیتا ہے۔

¶ بچے ایسی نعمت ہیں جو ہم میراث میں رب سے پاتے ہیں، اولاد ایک اجر ہے جو وہی ہمیں دیتا ہے۔

¶ جوانی میں پیدا ہوئے بیٹے سورمے کے ہاتھ میں تیروں کی مانند ہیں۔

¶ مبارک ہے وہ آدمی جس کا ترکش اُن سے بھرا ہے۔ جب وہ شہر کے دروازے پر اپنے دشمنوں سے جھگڑے گا تو شرمندہ نہیں ہو گا۔

زبور 128

¶ زیارت کا گیت۔ مبارک ہے وہ جو رب کا خوف مان کر اُس کی راہوں پر چلتا ہے۔

¶ یقیناً تُو اپنی محنت کا پھل کھائے گا۔ مبارک ہو، کیونکہ تُو کامیاب ہو گا۔

¶ گھر میں تیری بیوی انگور کی پھل دار بیل کی مانند ہو گی، اور تیرے بیٹے میز کے ارد گرد بیٹھ کر زیتون کی تازہ شاخوں کی مانند ہوں گے۔

¶ جو آدمی رب کا خوف مانے اُسے ایسی ہی برکت ملے گی۔

¶ رب تجھے کوہِ صیون سے برکت دے۔ وہ کرے کہ تُو جیتے جی یروشلم کی خوش حالی دیکھے،

¶ کہ تُو اپنے پوتوں نواسوں کو بھی دیکھے۔ اسرائیل کی سلامتی ہو!

پاک انجیل مقدّس لوقا کے مطابق (باب 4: 38-41)

¶ پھر عیسیٰ عبادت خانے کو چھوڑ کر شمعون کے گھر گیا۔ وہاں شمعون کی ساس شدید بخار میں مبتلا تھی۔ اُنہوں نے عیسیٰ سے گزارش کی کہ وہ اُس کی مدد کرے۔

اُس نے اُس کے سرہانے کھڑے ہو کر بخار کو ڈانٹا تو وہ اُتر گیا اور شمعون کی ساس اُسی وقت اُٹھ کر اُن کی خدمت کرنے لگی۔

¶ جب دن ڈھل گیا تو سب مقامی لوگ اپنے مریضوں کو عیسیٰ کے پاس لائے۔ خواہ اُن کی بیماریاں کچھ بھی کیوں نہ تھیں، اُس نے ہر ایک پر اپنے ہاتھ رکھ کر اُسے شفا دی۔

بہتوں میں بدروحیں بھی تھیں جنہوں نے نکلتے وقت چلّا کر کہا، ”تُو اللہ کا فرزند ہے۔“ لیکن چونکہ وہ جانتی تھیں کہ وہ مسیح ہے اِس لئے اُس نے اُنہیں ڈانٹ کر بولنے نہ دیا۔

Tenoo oasht emmok o piekhristos nem pekyot en aghathos nem pi epnevma ethowab je akee ak soati emmon nai nan

ہم تیری عبادت کرتے ہیں، اے مسیح، تیرے نیک باپ اور روح القدس کے ساتھ، کیونکہ تو آیا اور تو نے ہمیں نجات دی۔

1. اگر راستباز بمشکل نجات پاتا ہے تو میں گناہگار کہاں ظاہر ہوں گا؟ انسانی کمزوری کے باعث میں نے دن کے بوجھ اور گرمی کو برداشت نہ کیا۔ مگر اے رحیم خدا، مجھے گیارہویں ساعت کے مزدوروں میں شمار کر۔ دیکھ، میں بدکاریوں میں بنا، اور گناہوں میں میری ماں نے مجھے جنا۔ اس لیے میں آسمان کی طرف اپنی آنکھیں اٹھانے کی جرأت نہیں کرتا؛ بلکہ تیری رحمت اور انسان دوستی کی فراوانی پر بھروسا رکھتا ہوں اور پکارتا ہوں: “اے خدا، مجھ گناہگار کو بخش دے اور مجھ پر رحم کر۔”

باپ اور بیٹے اور روح القدس کا جلال ہو

باپ اور بیٹے اور روح القدس کا جلال ہو۔

2. اے نجات دہندہ، جلدی کر کہ باپ کی آغوش میرے لیے کھول دے، کیونکہ میں نے اپنی زندگی عیش و ہوس میں ضائع کی، اور دن مجھ پر سے گزر کر معدوم ہو گیا۔ اس لیے اب میں تیری لاانتہا شفقت کی دولت پر تکیہ کرتا ہوں۔ تو پھر اس فرمانبردار دل کو جو تیری رحمت کا محتاج ہے ترک نہ کر۔ کیونکہ میں عاجزی سے پکارتا ہوں، اے خداوند: “اَے باپ، میں نے آسمان کے خلاف اور تیرے حضور گناہ کیا؛ اور اب لائق نہیں کہ تیرا بیٹا کہلاؤں؛ مجھے اپنے کرائے کے مزدوروں میں سے ایک بنا لے۔”

اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک۔ آمین۔

اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک، آمین۔

3. میں نے ہر بدی سمجھ بوجھ سے اور کوشش سے کی؛ اور ہر گناہ تندی اور محنت سے کیا؛ اور ہر عذاب اور عدالت کا میں مستحق ہوں۔ اس لیے اے خاتونِ باکرہ، میرے لیے توبہ کی راہیں تیار فرما؛ کیونکہ میں تیری طرف پناہ لیتا ہوں، اور تیرے ذریعے شفاعت چاہتا ہوں، اور تجھ ہی کو مدد کے لیے پکارتا ہوں، تا کہ میں رسوا نہ ہوں۔ اور جب میری جان میرے بدن سے جدا ہو تو میری طرف متوجہ ہونا؛ دشمنوں کی سازش کو شکست دے؛ اور ہادس کے دروازوں کو بند کر کہ وہ میری جان کو نگل نہ لیں، اے بے عیب اس حقیقی دولہے کی دلہن۔

پھر عبادت گزار دعا کرتا ہے:

خداوندا، ہماری سُن لے، ہم پر رحم کر، اور ہمارے گناہ معاف فرما۔ آمین۔

(خداوندا، رحم کر) 41 بار

تحلیل

ہم تیرا شکر کرتے ہیں، اَے ہمارے شفقت والے بادشاہ، کہ تُو نے ہمیں بخشا کہ ہم اس دن کو سلامتی سے گزاریں، اور ہمیں شام تک شکرگزاری کرتے ہوئے لے آیا؛ اور ہمیں اِس لائق بنایا کہ ہم شام کے نور کو دیکھیں۔ اَے خدا، اس تمجید کو قبول فرما جو اب گزری ہے۔ اور ہمیں مخالف کی چالوں سے نجات دے، اور اُس کے ہمارے خلاف بچھائے ہوئے سب داموں کو باطل کر۔ ہمیں آنے والی اس رات میں سلامتی عطا فرما—بلا درد، بلا اضطراب، بلا مشقت اور بلا وَہم—تاکہ ہم اسے بھی سلامتی اور عفت میں گزاریں؛ اور ہر وقت اور ہر مقام پر تسبیح اور دعاؤں کے لیے بیدار ہوں؛ ہر چیز میں تیرے اُس پاک نام کو جلال دیں؛ اُس باپ کے ساتھ جو غیر مدرَک اور غیر مبدءِ ہے، اور جان بخش روح القدس کے ساتھ جو تیرے برابر ہے؛ اب بھی اور ہر زمانہ میں اور دہرُالدُّهور تک۔ آمین۔

ہر ساعت کے آخر میں پڑھی جانے والی درخواست

ہم پر رحم فرما، اے خدا، پھر ہم پر رحم فرما۔ تُو جو ہر وقت اور ہر ساعت، آسمان پر اور زمین پر، سجدہ اور تمجید پانے کے لائق ہے؛ مسیح، ہمارے نیک خدا؛ دیر غصہ، کثیرالرحم، اور نہایت ترس والا؛ جو صادقوں سے محبت رکھتا اور گنہگاروں پر رحم کرتا ہے—جن میں پہلا میں ہوں—جو نہ شریر کی موت چاہتا ہے بلکہ یہ کہ وہ رجوع لائے اور زندہ رہے؛ جو سب کو نجات کی طرف بُلانے والا ہے، آئندہ کی نیک باتوں کے وعدے کے سبب۔

اَے رب، اس ساعت اور ہر ساعت ہماری درخواستیں قبول فرما۔ ہماری زندگی آسان بنا۔ ہمیں اپنی وصیتوں پر عمل کرنے کی راہ دکھا۔ ہماری روحوں کو مقدس کر۔ ہمارے جسموں کو پاک کر۔ ہمارے خیالات کو سیدھا کر۔ ہماری نیتوں کو صاف کر۔ ہماری بیماریوں کو شفا دے اور ہمارے گناہ معاف کر۔ اور ہمیں ہر بُرے غم اور دِل کے درد سے نجات دے۔ اپنے مقدس فرشتوں سے ہمیں گھیر لے، تاکہ ہم اُن کے لشکر کے ساتھ محفوظ اور راہ یافتہ رہیں، اور ایمان کی یگانگت تک اور تیری اُس جلال کی پہچان تک پہنچیں جو حسّ و حد سے باہر ہے؛ کیونکہ تُو ابد تک مبارک ہے۔ آمین۔

اَے خدا، ہمیں اس لائق بنا کہ ہم شکر کے ساتھ یہ کہیں: اَے ہمارے باپ جو آسمان پر ہے۔۔۔