موجودہ گھنٹہ
آدھی رات کی دعا
آدھی رات کو ہم خداوند کی آمد کے منتظر جاگتے ہیں اور اس کی جتسمنی میں دعا کو یاد کرتے ہیں۔
خداوند کی دعا
بلکہ یوں دعا کیا کرو، اے ہمارے آسمانی باپ، تیرا نام مُقدّس مانا جائے۔
¶ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جس طرح آسمان میں پوری ہوتی ہے زمین پر بھی پوری ہو۔
¶ ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے۔
¶ ہمارے گناہوں کو معاف کر جس طرح ہم نے اُنہیں معاف کیا جنہوں نے ہمارا گناہ کیا ہے۔
¶ اور ہمیں آزمائش میں نہ پڑنے دے بلکہ ہمیں ابلیس سے بچائے رکھ۔ [کیونکہ بادشاہی، قدرت اور جلال ابد تک تیرے ہی ہیں۔]
شکرگزاری کی دعا
بلکہ یوں دعا کیا کرو، اے ہمارے آسمانی باپ، تیرا نام مُقدّس مانا جائے۔
¶ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جس طرح آسمان میں پوری ہوتی ہے زمین پر بھی پوری ہو۔
¶ ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے۔
¶ ہمارے گناہوں کو معاف کر جس طرح ہم نے اُنہیں معاف کیا جنہوں نے ہمارا گناہ کیا ہے۔
¶ اور ہمیں آزمائش میں نہ پڑنے دے بلکہ ہمیں ابلیس سے بچائے رکھ۔ [کیونکہ بادشاہی، قدرت اور جلال ابد تک تیرے ہی ہیں۔]
زبور 50
¶ آسف کا زبور۔ رب قادرِ مطلق خدا بول اُٹھا ہے، اُس نے طلوعِ صبح سے لے کر غروبِ آفتاب تک پوری دنیا کو بُلایا ہے۔
¶ اللہ کا نور صیون سے چمک اُٹھا ہے، اُس پہاڑ سے جو کامل حُسن کا اظہار ہے۔
¶ ہمارا خدا آ رہا ہے، وہ خاموش نہیں رہے گا۔ اُس کے آگے آگے سب کچھ بھسم ہو رہا ہے، اُس کے ارد گرد تیز آندھی چل رہی ہے۔
¶ وہ آسمان و زمین کو آواز دیتا ہے، ”اب مَیں اپنی قوم کی عدالت کروں گا۔
¶ میرے ایمان داروں کو میرے حضور جمع کرو، اُنہیں جنہوں نے قربانیاں پیش کر کے میرے ساتھ عہد باندھا ہے۔“
¶ آسمان اُس کی راستی کا اعلان کریں گے، کیونکہ اللہ خود انصاف کرنے والا ہے۔ (سِلاہ)
¶ ”اے میری قوم، سن! مجھے بات کرنے دے۔ اے اسرائیل، مَیں تیرے خلاف گواہی دوں گا۔ مَیں اللہ تیرا خدا ہوں۔
¶ مَیں تجھے تیری ذبح کی قربانیوں کے باعث ملامت نہیں کر رہا۔ تیری بھسم ہونے والی قربانیاں تو مسلسل میرے سامنے ہیں۔
¶ نہ مَیں تیرے گھر سے بَیل لوں گا، نہ تیرے باڑوں سے بکرے۔
¶ کیونکہ جنگل کے تمام جاندار میرے ہی ہیں، ہزاروں پہاڑیوں پر بسنے والے جانور میرے ہی ہیں۔
¶ مَیں پہاڑوں کے ہر پرندے کو جانتا ہوں، اور جو بھی میدانوں میں حرکت کرتا ہے وہ میرا ہے۔
¶ اگر مجھے بھوک لگتی تو مَیں تجھے نہ بتاتا، کیونکہ زمین اور جو کچھ اُس پر ہے میرا ہے۔
¶ کیا تُو سمجھتا ہے کہ مَیں سانڈوں کا گوشت کھانا یا بکروں کا خون پینا چاہتا ہوں؟
¶ اللہ کو شکرگزاری کی قربانی پیش کر، اور وہ مَنت پوری کر جو تُو نے اللہ تعالیٰ کے حضور مانی ہے۔
¶ مصیبت کے دن مجھے پکار۔ تب مَیں تجھے نجات دوں گا اور تُو میری تمجید کرے گا۔“
¶ لیکن بےدین سے اللہ فرماتا ہے، ”میرے احکام سنانے اور میرے عہد کا ذکر کرنے کا تیرا کیا حق ہے؟
¶ تُو تو تربیت سے نفرت کرتا اور میرے فرمان کچرے کی طرح اپنے پیچھے پھینک دیتا ہے۔
¶ کسی چور کو دیکھتے ہی تُو اُس کا ساتھ دیتا ہے، تُو زناکاروں سے رفاقت رکھتا ہے۔
¶ تُو اپنے منہ کو بُرے کام کے لئے استعمال کرتا، اپنی زبان کو دھوکا دینے کے لئے تیار رکھتا ہے۔
¶ تُو دوسروں کے پاس بیٹھ کر اپنے بھائی کے خلاف بولتا ہے، اپنی ہی ماں کے بیٹے پر تہمت لگاتا ہے۔
¶ یہ کچھ تُو نے کیا ہے، اور مَیں خاموش رہا۔ تب تُو سمجھا کہ مَیں بالکل تجھ جیسا ہوں۔ لیکن مَیں تجھے ملامت کروں گا، تیرے سامنے ہی معاملہ ترتیب سے سناؤں گا۔
¶ تم جو اللہ کو بھولے ہوئے ہو، بات سمجھ لو، ورنہ مَیں تمہیں پھاڑ ڈالوں گا۔ اُس وقت کوئی نہیں ہو گا جو تمہیں بچائے۔
¶ جو شکرگزاری کی قربانی پیش کرے وہ میری تعظیم کرتا ہے۔ جو مصمم ارادے سے ایسی راہ پر چلے اُسے مَیں اللہ کی نجات دکھاؤں گا۔“
پھر عبادت گزار کہتا ہے:
¶ آسف کا زبور۔ رب قادرِ مطلق خدا بول اُٹھا ہے، اُس نے طلوعِ صبح سے لے کر غروبِ آفتاب تک پوری دنیا کو بُلایا ہے۔
¶ اللہ کا نور صیون سے چمک اُٹھا ہے، اُس پہاڑ سے جو کامل حُسن کا اظہار ہے۔
¶ ہمارا خدا آ رہا ہے، وہ خاموش نہیں رہے گا۔ اُس کے آگے آگے سب کچھ بھسم ہو رہا ہے، اُس کے ارد گرد تیز آندھی چل رہی ہے۔
¶ وہ آسمان و زمین کو آواز دیتا ہے، ”اب مَیں اپنی قوم کی عدالت کروں گا۔
¶ میرے ایمان داروں کو میرے حضور جمع کرو، اُنہیں جنہوں نے قربانیاں پیش کر کے میرے ساتھ عہد باندھا ہے۔“
¶ آسمان اُس کی راستی کا اعلان کریں گے، کیونکہ اللہ خود انصاف کرنے والا ہے۔ (سِلاہ)
¶ ”اے میری قوم، سن! مجھے بات کرنے دے۔ اے اسرائیل، مَیں تیرے خلاف گواہی دوں گا۔ مَیں اللہ تیرا خدا ہوں۔
¶ مَیں تجھے تیری ذبح کی قربانیوں کے باعث ملامت نہیں کر رہا۔ تیری بھسم ہونے والی قربانیاں تو مسلسل میرے سامنے ہیں۔
¶ نہ مَیں تیرے گھر سے بَیل لوں گا، نہ تیرے باڑوں سے بکرے۔
¶ کیونکہ جنگل کے تمام جاندار میرے ہی ہیں، ہزاروں پہاڑیوں پر بسنے والے جانور میرے ہی ہیں۔
¶ مَیں پہاڑوں کے ہر پرندے کو جانتا ہوں، اور جو بھی میدانوں میں حرکت کرتا ہے وہ میرا ہے۔
¶ اگر مجھے بھوک لگتی تو مَیں تجھے نہ بتاتا، کیونکہ زمین اور جو کچھ اُس پر ہے میرا ہے۔
¶ کیا تُو سمجھتا ہے کہ مَیں سانڈوں کا گوشت کھانا یا بکروں کا خون پینا چاہتا ہوں؟
¶ اللہ کو شکرگزاری کی قربانی پیش کر، اور وہ مَنت پوری کر جو تُو نے اللہ تعالیٰ کے حضور مانی ہے۔
¶ مصیبت کے دن مجھے پکار۔ تب مَیں تجھے نجات دوں گا اور تُو میری تمجید کرے گا۔“
¶ لیکن بےدین سے اللہ فرماتا ہے، ”میرے احکام سنانے اور میرے عہد کا ذکر کرنے کا تیرا کیا حق ہے؟
¶ تُو تو تربیت سے نفرت کرتا اور میرے فرمان کچرے کی طرح اپنے پیچھے پھینک دیتا ہے۔
¶ کسی چور کو دیکھتے ہی تُو اُس کا ساتھ دیتا ہے، تُو زناکاروں سے رفاقت رکھتا ہے۔
¶ تُو اپنے منہ کو بُرے کام کے لئے استعمال کرتا، اپنی زبان کو دھوکا دینے کے لئے تیار رکھتا ہے۔
¶ تُو دوسروں کے پاس بیٹھ کر اپنے بھائی کے خلاف بولتا ہے، اپنی ہی ماں کے بیٹے پر تہمت لگاتا ہے۔
¶ یہ کچھ تُو نے کیا ہے، اور مَیں خاموش رہا۔ تب تُو سمجھا کہ مَیں بالکل تجھ جیسا ہوں۔ لیکن مَیں تجھے ملامت کروں گا، تیرے سامنے ہی معاملہ ترتیب سے سناؤں گا۔
¶ تم جو اللہ کو بھولے ہوئے ہو، بات سمجھ لو، ورنہ مَیں تمہیں پھاڑ ڈالوں گا۔ اُس وقت کوئی نہیں ہو گا جو تمہیں بچائے۔
¶ جو شکرگزاری کی قربانی پیش کرے وہ میری تعظیم کرتا ہے۔ جو مصمم ارادے سے ایسی راہ پر چلے اُسے مَیں اللہ کی نجات دکھاؤں گا۔“
زبور 133
¶ داؤد کا زبور۔ زیارت کا گیت۔ جب بھائی مل کر اور یگانگت سے رہتے ہیں یہ کتنا اچھا اور پیارا ہے۔
¶ یہ اُس نفیس تیل کی مانند ہے جو ہارون امام کے سر پر اُنڈیلا جاتا ہے اور ٹپک ٹپک کر اُس کی داڑھی اور لباس کے گریبان پر آ جاتا ہے۔
¶ یہ اُس اوس کی مانند ہے جو کوہِ حرمون سے صیون کے پہاڑوں پر پڑتی ہے۔ کیونکہ رب نے فرمایا ہے، ”وہیں ہمیشہ تک برکت اور زندگی ملے گی۔“
اُٹھو اے نور کے فرزندو
اُٹھو اے نور کے فرزندو 1
اُٹھو، اے نور کے فرزندو، تاکہ ہم ربُّ الافواج کی تسبیح کریں؛ تاکہ وہ ہماری جانوں کی نجات ہم پر عنایت فرمائے۔ جب ہم تیری حضوری میں جسمانی طور پر کھڑے ہوں تو ہماری عقلوں سے غفلت کی نیند دور کر۔ ہمیں اے رب بیداری دے، تاکہ ہم سمجھیں کہ وقتِ دعا میں تیرے روبرو کیسے کھڑے ہوں؛ اور تجھ کو اوپر لائق تمجید بھیجیں، اور اپنے بہت سے گناہوں کی مغفرت پائیں۔ (تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر)
اُٹھو اے نور کے فرزندو 2
خداوند کو مُبارِک کہو، اَے خداوند کے بندو، جو خداوند کے گھر میں کھڑے ہو، ہمارے خدا کے دیاروں میں۔ راتوں کو اپنے ہاتھوں کو مقدِس کی طرف اٹھاؤ اور خداوند کو مُبارِک کہو۔ خداوند تم کو صیّون سے برکت دے، جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا۔ (تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر)
اُٹھو اے نور کے فرزندو 3
میری فریاد تیرے حضور آئے اَے خداوند؛ تیرے کلام کے موافق مجھے سمجھ دے۔ میری درخواست تیرے حضور داخل ہو اَے خداوند؛ تیرے کلمہ کے مطابق مجھے زندہ کر۔ جب تُو مجھے اپنے قوانین سکھائے گا تو میرے ہونٹ ستائش سے لبریز ہوں گے۔ میری زبان تیرے اقوال کا بیان کرے گی، کیونکہ تیری سب وصیتیں راست ہیں۔ تیرا ہاتھ میری نجات کو ہو کیونکہ میں نے تیری وصیتوں کو پسند کیا ہے۔ اَے خداوند، میں نے تیری نجات کو چاہا ہے اور تیری شریعت میری تلاوت ہے۔ میری جان زندہ رہے اور وہ تیری تسبیح کرے؛ اور تیرے احکام میری مدد ہوں۔ میں کھوئی ہوئی بھیڑ کی مانند بھٹک گیا ہوں؛ اپنے بندہ کو ڈھونڈ نکال، کیونکہ میں نے تیری وصیتوں کو نہیں بھلایا۔
باپ اور بیٹے اور روح القدس کو جلال، اب بھی اور ہر زمانہ میں اور دہرُالدُّهور تک آمین۔ باپ اور بیٹے اور روح القدس کو جلال، اب سے لے کر سارے زمانوں کے ابداً لآباد تک، آمین۔ تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشرِ صالح۔ تیری ماں کنواری کے لیے سلامتی ہو، اور تیرے سب قدیسوں کے ساتھ۔ تجھے جلال ہو، اَے تثلیثِ اقدس، ہم پر رحم فرما۔
خدا اٹھ کھڑا ہو، اور اُس کے سب دشمن چھٹ جائیں، اور اُس کے پاک نام کے سب مُبغِض اُس کے چہرے کی حضوری سے بھاگ نکلیں۔ اور تیری امت بابرکت ہو ہزاروں ہزار، اور لاکھوں لاکھ، جو تیری مرضی بجا لائیں۔ اَے خداوند، میرے ہونٹ کھول کہ میرا منہ تیری تسبیح بیان کرے۔ آمین۔ ہللویا۔
ابتدایۂ دعا
زبور 3
¶ داؤد کا زبور۔ اُس وقت جب اُسے اپنے بیٹے ابی سلوم سے بھاگنا پڑا۔ اے رب، میرے دشمن کتنے زیادہ ہیں، کتنے لوگ میرے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں!
¶ میرے بارے میں بہتیرے کہہ رہے ہیں، ”اللہ اِسے چھٹکارا نہیں دے گا۔“ (سِلاہ)
¶ لیکن تُو اے رب، چاروں طرف میری حفاظت کرنے والی ڈھال ہے۔ تُو میری عزت ہے جو میرے سر کو اُٹھائے رکھتا ہے۔
¶ مَیں بلند آواز سے رب کو پکارتا ہوں، اور وہ اپنے مُقدّس پہاڑ سے میری سنتا ہے۔ (سِلاہ)
¶ مَیں آرام سے لیٹ کر سو گیا، پھر جاگ اُٹھا، کیونکہ رب خود مجھے سنبھالے رکھتا ہے۔
¶ اُن ہزاروں سے مَیں نہیں ڈرتا جو مجھے گھیرے رکھتے ہیں۔
¶ اے رب، اُٹھ! اے میرے خدا، مجھے رِہا کر! کیونکہ تُو نے میرے تمام دشمنوں کے منہ پر تھپڑ مارا، تُو نے بےدینوں کے دانتوں کو توڑ دیا ہے۔
¶ رب کے پاس نجات ہے۔ تیری برکت تیری قوم پر آئے۔ (سِلاہ)
زبور 6
¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ تاردار سازوں کے ساتھ گانا ہے۔ اے رب، غصے میں مجھے سزا نہ دے، طیش میں مجھے تنبیہ نہ کر۔
¶ اے رب، مجھ پر رحم کر، کیونکہ مَیں نڈھال ہوں۔ اے رب، مجھے شفا دے، کیونکہ میرے اعضا دہشت زدہ ہیں۔
¶ میری جان نہایت خوف زدہ ہے۔ اے رب، تُو کب تک دیر کرے گا؟
¶ اے رب، واپس آ کر میری جان کو بچا۔ اپنی شفقت کی خاطر مجھے چھٹکارا دے۔
¶ کیونکہ مُردہ تجھے یاد نہیں کرتا۔ پاتال میں کون تیری ستائش کرے گا؟
¶ مَیں کراہتے کراہتے تھک گیا ہوں۔ پوری رات رونے سے بستر بھیگ گیا ہے، میرے آنسوؤں سے پلنگ گل گیا ہے۔
¶ غم کے مارے میری آنکھیں سوج گئی ہیں، میرے مخالفوں کے حملوں سے وہ ضائع ہوتی جا رہی ہیں۔
¶ اے بدکارو، مجھ سے دُور ہو جاؤ، کیونکہ رب نے میری آہ و بکا سنی ہے۔
¶ رب نے میری التجاؤں کو سن لیا ہے، میری دعا رب کو قبول ہے۔
¶ میرے تمام دشمنوں کی رُسوائی ہو جائے گی، اور وہ سخت گھبرا جائیں گے۔ وہ مُڑ کر اچانک ہی شرمندہ ہو جائیں گے۔
زبور 12
¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: شمینیت۔ اے رب، مدد فرما! کیونکہ ایمان دار ختم ہو گئے ہیں۔ دیانت دار انسانوں میں سے مٹ گئے ہیں۔
¶ آپس میں سب جھوٹ بولتے ہیں۔ اُن کی زبان پر چِکنی چپڑی باتیں ہوتی ہیں جبکہ دل میں کچھ اَور ہی ہوتا ہے۔
¶ رب تمام چِکنی چپڑی اور شیخی باز زبانوں کو کاٹ ڈالے!
¶ وہ اُن سب کو مٹا دے جو کہتے ہیں، ”ہم اپنی لائق زبان کے باعث طاقت ور ہیں۔ ہمارے ہونٹ ہمیں سہارا دیتے ہیں تو کون ہمارا مالک ہو گا؟ کوئی نہیں!“
¶ لیکن رب فرماتا ہے، ”ناچاروں پر تمہارے ظلم کی خبر اور ضرورت مندوں کی کراہتی آوازیں میرے سامنے آئی ہیں۔ اب مَیں اُٹھ کر اُنہیں اُن سے چھٹکارا دوں گا جو اُن کے خلاف پھنکارتے ہیں۔“
¶ رب کے فرمان پاک ہیں، وہ بھٹی میں سات بار صاف کی گئی چاندی کی مانند خالص ہیں۔
¶ اے رب، تُو ہی اُنہیں محفوظ رکھے گا، تُو ہی اُنہیں ابد تک اِس نسل سے بچائے رکھے گا،
¶ گو بےدین آزادی سے اِدھر اُدھر پھرتے ہیں، اور انسانوں کے درمیان کمینہ پن کا راج ہے۔
زبور 69
¶ داؤد کا زبور۔ طرز: سوسن کے پھول۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے اللہ، مجھے بچا! کیونکہ پانی میرے گلے تک پہنچ گیا ہے۔
¶ مَیں گہری دلدل میں دھنس گیا ہوں، کہیں پاؤں جمانے کی جگہ نہیں ملتی۔ مَیں پانی کی گہرائیوں میں آ گیا ہوں، سیلاب مجھ پر غالب آ گیا ہے۔
¶ مَیں چلّاتے چلّاتے تھک گیا ہوں۔ میرا گلا بیٹھ گیا ہے۔ اپنے خدا کا انتظار کرتے کرتے میری آنکھیں دُھندلا گئیں۔
¶ جو بلاوجہ مجھ سے کینہ رکھتے ہیں وہ میرے سر کے بالوں سے زیادہ ہیں، جو بےسبب میرے دشمن ہیں اور مجھے تباہ کرنا چاہتے ہیں وہ طاقت ور ہیں۔ جو کچھ مَیں نے نہیں لُوٹا اُسے مجھ سے طلب کیا جاتا ہے۔
¶ اے اللہ، تُو میری حماقت سے واقف ہے، میرا قصور تجھ سے پوشیدہ نہیں ہے۔
¶ اے قادرِ مطلق رب الافواج، جو تیرے انتظار میں رہتے ہیں وہ میرے باعث شرمندہ نہ ہوں۔ اے اسرائیل کے خدا، میرے باعث تیرے طالب کی رُسوائی نہ ہو۔
¶ کیونکہ تیری خاطر مَیں شرمندگی برداشت کر رہا ہوں، تیری خاطر میرا چہرہ شرم سار ہی رہتا ہے۔
¶ مَیں اپنے سگے بھائیوں کے نزدیک اجنبی اور اپنی ماں کے بیٹوں کے نزدیک پردیسی بن گیا ہوں۔
¶ کیونکہ تیرے گھر کی غیرت مجھے کھا گئی ہے، جو تجھے گالیاں دیتے ہیں اُن کی گالیاں مجھ پر آ گئی ہیں۔
¶ جب مَیں روزہ رکھ کر روتا تھا تو لوگ میرا مذاق اُڑاتے تھے۔
¶ جب ماتمی لباس پہنے پھرتا تھا تو اُن کے لئے عبرت انگیز مثال بن گیا۔
¶ جو بزرگ شہر کے دروازے پر بیٹھے ہیں وہ میرے بارے میں گپیں ہانکتے ہیں۔ شرابی مجھے اپنے طنز بھرے گیتوں کا نشانہ بناتے ہیں۔
¶ لیکن اے رب، میری تجھ سے دعا ہے کہ مَیں تجھے دوبارہ منظور ہو جاؤں۔ اے اللہ، اپنی عظیم شفقت کے مطابق میری سن، اپنی یقینی نجات کے مطابق مجھے بچا۔
¶ مجھے دلدل سے نکال تاکہ غرق نہ ہو جاؤں۔ مجھے اُن سے چھٹکارا دے جو مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ پانی کی گہرائیوں سے مجھے بچا۔
¶ سیلاب مجھ پر غالب نہ آئے، سمندر کی گہرائی مجھے ہڑپ نہ کر لے، گڑھا میرے اوپر اپنا منہ بند نہ کر لے۔
¶ اے رب، میری سن، کیونکہ تیری شفقت بھلی ہے۔ اپنے عظیم رحم کے مطابق میری طرف رجوع کر۔
¶ اپنا چہرہ اپنے خادم سے چھپائے نہ رکھ، کیونکہ مَیں مصیبت میں ہوں۔ جلدی سے میری سن!
¶ قریب آ کر میری جان کا فدیہ دے، میرے دشمنوں کے سبب سے عوضانہ دے کر مجھے چھڑا۔
¶ تُو میری رُسوائی، میری شرمندگی اور تذلیل سے واقف ہے۔ تیری آنکھیں میرے تمام دشمنوں پر لگی رہتی ہیں۔
¶ اُن کے طعنوں سے میرا دل ٹوٹ گیا ہے، مَیں بیمار پڑ گیا ہوں۔ مَیں ہم دردی کے انتظار میں رہا، لیکن بےفائدہ۔ مَیں نے توقع کی کہ کوئی مجھے دلاسا دے، لیکن ایک بھی نہ ملا۔
¶ اُنہوں نے میری خوراک میں کڑوا زہر ملایا، مجھے سرکہ پلایا جب پیاسا تھا۔
¶ اُن کی میز اُن کے لئے پھندا اور اُن کے ساتھیوں کے لئے جال بن جائے۔
¶ اُن کی آنکھیں تاریک ہو جائیں تاکہ وہ دیکھ نہ سکیں۔ اُن کی کمر ہمیشہ تک ڈگمگاتی رہے۔
¶ اپنا پورا غصہ اُن پر اُتار، تیرا سخت غضب اُن پر آ پڑے۔
¶ اُن کی رہائش گاہ سنسان ہو جائے اور کوئی اُن کے خیموں میں آباد نہ ہو،
¶ کیونکہ جسے تُو ہی نے سزا دی اُسے وہ ستاتے ہیں، جسے تُو ہی نے زخمی کیا اُس کا دُکھ دوسروں کو سنا کر خوش ہوتے ہیں۔
¶ اُن کے قصور کا سختی سے حساب کتاب کر، وہ تیرے سامنے راست باز نہ ٹھہریں۔
¶ اُنہیں کتابِ حیات سے مٹایا جائے، اُن کا نام راست بازوں کی فہرست میں درج نہ ہو۔
¶ ہائے، مَیں مصیبت میں پھنسا ہوا ہوں، مجھے بہت درد ہے۔ اے اللہ، تیری نجات مجھے محفوظ رکھے۔
¶ مَیں اللہ کے نام کی مدح سرائی کروں گا، شکرگزاری سے اُس کی تعظیم کروں گا۔
¶ یہ رب کو بَیل یا سینگ اور کُھر رکھنے والے سانڈ سے کہیں زیادہ پسند آئے گا۔
¶ حلیم اللہ کا کام دیکھ کر خوش ہو جائیں گے۔ اے اللہ کے طالبو، تسلی پاؤ!
¶ کیونکہ رب محتاجوں کی سنتا اور اپنے قیدیوں کو حقیر نہیں جانتا۔
¶ آسمان و زمین اُس کی تمجید کریں، سمندر اور جو کچھ اُس میں حرکت کرتا ہے اُس کی ستائش کرے۔
¶ کیونکہ اللہ صیون کو نجات دے کر یہوداہ کے شہروں کو تعمیر کرے گا، اور اُس کے خادم اُن پر قبضہ کر کے اُن میں آباد ہو جائیں گے۔
¶ اُن کی اولاد ملک کو میراث میں پائے گی، اور اُس کے نام سے محبت رکھنے والے اُس میں بسے رہیں گے۔
زبور 85
¶ قورح کی اولاد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے رب، پہلے تُو نے اپنے ملک کو پسند کیا، پہلے یعقوب کو بحال کیا۔
¶ پہلے تُو نے اپنی قوم کا قصور معاف کیا، اُس کا تمام گناہ ڈھانپ دیا۔ (سِلاہ)
¶ جو غضب ہم پر نازل ہو رہا تھا اُس کا سلسلہ تُو نے روک دیا، جو قہر ہمارے خلاف بھڑک رہا تھا اُسے چھوڑ دیا۔
¶ اے ہماری نجات کے خدا، ہمیں دوبارہ بحال کر۔ ہم سے ناراض ہونے سے باز آ۔
¶ کیا تُو ہمیشہ تک ہم سے غصے رہے گا؟ کیا تُو اپنا قہر پشت در پشت قائم رکھے گا؟
¶ کیا تُو دوبارہ ہماری جان کو تازہ دم نہیں کرے گا تاکہ تیری قوم تجھ سے خوش ہو جائے؟
¶ اے رب، اپنی شفقت ہم پر ظاہر کر، اپنی نجات ہمیں عطا فرما۔
¶ مَیں وہ کچھ سنوں گا جو خدا رب فرمائے گا۔ کیونکہ وہ اپنی قوم اور اپنے ایمان داروں سے سلامتی کا وعدہ کرے گا، البتہ لازم ہے کہ وہ دوبارہ حماقت میں اُلجھ نہ جائیں۔
¶ یقیناً اُس کی نجات اُن کے قریب ہے جو اُس کا خوف مانتے ہیں تاکہ جلال ہمارے ملک میں سکونت کرے۔
¶ شفقت اور وفاداری ایک دوسرے کے گلے لگ گئے ہیں، راستی اور سلامتی نے ایک دوسرے کو بوسہ دیا ہے۔
¶ سچائی زمین سے پھوٹ نکلے گی اور راستی آسمان سے زمین پر نظر ڈالے گی۔
¶ اللہ ضرور وہ کچھ دے گا جو اچھا ہے، ہماری زمین ضرور اپنی فصلیں پیدا کرے گی۔
¶ راستی اُس کے آگے آگے چل کر اُس کے قدموں کے لئے راستہ تیار کرے گی۔
زابور 90
¶ مردِ خدا موسیٰ کی دعا۔ اے رب، پشت در پشت تُو ہماری پناہ گاہ رہا ہے۔
¶ اِس سے پہلے کہ پہاڑ پیدا ہوئے اور تُو زمین اور دنیا کو وجود میں لایا تُو ہی تھا۔ اے اللہ، تُو ازل سے ابد تک ہے۔
¶ تُو انسان کو دوبارہ خاک ہونے دیتا ہے۔ تُو فرماتا ہے، ’اے آدم زادو، دوبارہ خاک میں مل جاؤ!‘
¶ کیونکہ تیری نظر میں ہزار سال کل کے گزرے ہوئے دن کے برابر یا رات کے ایک پہر کی مانند ہیں۔
¶ تُو لوگوں کو سیلاب کی طرح بہا لے جاتا ہے، وہ نیند اور اُس گھاس کی مانند ہیں جو صبح کو پھوٹ نکلتی ہے۔
¶ وہ صبح کو پھوٹ نکلتی اور اُگتی ہے، لیکن شام کو مُرجھا کر سوکھ جاتی ہے۔
¶ کیونکہ ہم تیرے غضب سے فنا ہو جاتے اور تیرے قہر سے حواس باختہ ہو جاتے ہیں۔
¶ تُو نے ہماری خطاؤں کو اپنے سامنے رکھا، ہمارے پوشیدہ گناہوں کو اپنے چہرے کے نور میں لایا ہے۔
¶ چنانچہ ہمارے تمام دن تیرے قہر کے تحت گھٹتے گھٹتے ختم ہو جاتے ہیں۔ جب ہم اپنے سالوں کے اختتام پر پہنچتے ہیں تو زندگی سرد آہ کے برابر ہی ہوتی ہے۔
¶ ہماری عمر 70 سال یا اگر زیادہ طاقت ہو تو 80 سال تک پہنچتی ہے، اور جو دن فخر کا باعث تھے وہ بھی تکلیف دہ اور بےکار ہیں۔ جلد ہی وہ گزر جاتے ہیں، اور ہم پرندوں کی طرح اُڑ کر چلے جاتے ہیں۔
¶ کون تیرے غضب کی پوری شدت جانتا ہے؟ کون سمجھتا ہے کہ تیرا قہر ہماری خدا ترسی کی کمی کے مطابق ہی ہے؟
¶ چنانچہ ہمیں ہمارے دنوں کا صحیح حساب کرنا سکھا تاکہ ہمارے دل دانش مند ہو جائیں۔
¶ اے رب، دوبارہ ہماری طرف رجوع فرما! تُو کب تک دُور رہے گا؟ اپنے خادموں پر ترس کھا!
¶ صبح کو ہمیں اپنی شفقت سے سیر کر! تب ہم زندگی بھر باغ باغ ہوں گے اور خوشی منائیں گے۔
¶ ہمیں اُتنے ہی دن خوشی دلا جتنے تُو نے ہمیں پست کیا ہے، اُتنے ہی سال جتنے ہمیں دُکھ سہنا پڑا ہے۔
¶ اپنے خادموں پر اپنے کام اور اُن کی اولاد پر اپنی عظمت ظاہر کر۔
¶ رب ہمارا خدا ہمیں اپنی مہربانی دکھائے۔ ہمارے ہاتھوں کا کام مضبوط کر، ہاں ہمارے ہاتھوں کا کام مضبوط کر!
زبور 116
¶ مَیں رب سے محبت رکھتا ہوں، کیونکہ اُس نے میری آواز اور میری التجا سنی ہے۔
¶ اُس نے اپنا کان میری طرف جھکایا ہے، اِس لئے مَیں عمر بھر اُسے پکاروں گا۔
¶ موت نے مجھے اپنی زنجیروں میں جکڑ لیا، اور پاتال کی پریشانیاں مجھ پر غالب آئیں۔ مَیں مصیبت اور دُکھ میں پھنس گیا۔
¶ تب مَیں نے رب کا نام پکارا، ”اے رب، مہربانی کر کے مجھے بچا!“
¶ رب مہربان اور راست ہے، ہمارا خدا رحیم ہے۔
¶ رب سادہ لوگوں کی حفاظت کرتا ہے۔ جب مَیں پست حال تھا تو اُس نے مجھے بچایا۔
¶ اے میری جان، اپنی آرام گاہ کے پاس واپس آ، کیونکہ رب نے تیرے ساتھ بھلائی کی ہے۔
¶ کیونکہ اے رب، تُو نے میری جان کو موت سے، میری آنکھوں کو آنسو بہانے سے اور میرے پاؤں کو پھسلنے سے بچایا ہے۔
¶ اب مَیں زندوں کی زمین میں رہ کر رب کے حضور چلوں گا۔
¶ مَیں ایمان لایا اور اِس لئے بولا، ”مَیں شدید مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔“
¶ مَیں سخت گھبرا گیا اور بولا، ”تمام انسان دروغ گو ہیں۔“
¶ جو بھلائیاں رب نے میرے ساتھ کی ہیں اُن سب کے عوض مَیں کیا دوں؟
¶ مَیں نجات کا پیالہ اُٹھا کر رب کا نام پکاروں گا۔
¶ مَیں رب کے حضور اُس کی ساری قوم کے سامنے ہی اپنی مَنتیں پوری کروں گا۔
¶ رب کی نگاہ میں اُس کے ایمان داروں کی موت گراں قدر ہے۔
¶ اے رب، یقیناً مَیں تیرا خادم، ہاں تیرا خادم اور تیری خادمہ کا بیٹا ہوں۔ تُو نے میری زنجیروں کو توڑ ڈالا ہے۔
¶ مَیں تجھے شکرگزاری کی قربانی پیش کر کے تیرا نام پکاروں گا۔
¶ مَیں رب کے حضور اُس کی ساری قوم کے سامنے ہی اپنی مَنتیں پوری کروں گا۔
¶ مَیں رب کے گھر کی بارگاہوں میں، اے یروشلم تیرے بیچ میں ہی اُنہیں پورا کروں گا۔ رب کی حمد ہو۔
زبور 117
¶ اے تمام اقوام، رب کی تمجید کرو! اے تمام اُمّتو، اُس کی مدح سرائی کرو!
¶ کیونکہ اُس کی ہم پر شفقت عظیم ہے، اور رب کی وفاداری ابدی ہے۔ رب کی حمد ہو!
زبور 118 (I)
¶ رب کا شکر کرو، کیونکہ وہ بھلا ہے، اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔
¶ اسرائیل کہے، ”اُس کی شفقت ابدی ہے۔“
¶ ہارون کا گھرانا کہے، ”اُس کی شفقت ابدی ہے۔“
¶ رب کا خوف ماننے والے کہیں، ”اُس کی شفقت ابدی ہے۔“
¶ مصیبت میں مَیں نے رب کو پکارا تو رب نے میری سن کر میرے پاؤں کو کھلے میدان میں قائم کر دیا ہے۔
¶ رب میرے حق میں ہے، اِس لئے مَیں نہیں ڈروں گا۔ انسان میرا کیا بگاڑ سکتا ہے؟
¶ رب میرے حق میں ہے اور میرا سہارا ہے، اِس لئے مَیں اُن کی شکست دیکھ کر خوش ہوں گا جو مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔
¶ رب میں پناہ لینا انسان پر اعتماد کرنے سے کہیں بہتر ہے۔
¶ رب میں پناہ لینا شرفا پر اعتماد کرنے سے کہیں بہتر ہے۔
¶ تمام اقوام نے مجھے گھیر لیا، لیکن مَیں نے اللہ کا نام لے کر اُنہیں بھگا دیا۔
¶ اُنہوں نے مجھے گھیر لیا، ہاں چاروں طرف سے گھیر لیا، لیکن مَیں نے اللہ کا نام لے کر اُنہیں بھگا دیا۔
¶ وہ شہد کی مکھیوں کی طرح چاروں طرف سے مجھ پر حملہ آور ہوئے، لیکن کانٹےدار جھاڑیوں کی آگ کی طرح جلد ہی بجھ گئے۔ مَیں نے رب کا نام لے کر اُنہیں بھگا دیا۔
¶ دشمن نے مجھے دھکا دے کر گرانے کی کوشش کی، لیکن رب نے میری مدد کی۔
¶ رب میری قوت اور میرا گیت ہے، وہ میری نجات بن گیا ہے۔
¶ خوشی اور فتح کے نعرے راست بازوں کے خیموں میں گونجتے ہیں، ”رب کا دہنا ہاتھ زبردست کام کرتا ہے!
¶ رب کا دہنا ہاتھ سرفراز کرتا ہے، رب کا دہنا ہاتھ زبردست کام کرتا ہے!“
¶ مَیں نہیں مروں گا بلکہ زندہ رہ کر رب کے کام بیان کروں گا۔
¶ گو رب نے میری سخت تادیب کی ہے، اُس نے مجھے موت کے حوالے نہیں کیا۔
¶ راستی کے دروازے میرے لئے کھول دو تاکہ مَیں اُن میں داخل ہو کر رب کا شکر کروں۔
¶ یہ رب کا دروازہ ہے، اِسی میں راست باز داخل ہوتے ہیں۔
¶ مَیں تیرا شکر کرتا ہوں، کیونکہ تُو نے میری سن کر مجھے بچایا ہے۔
¶ جس پتھر کو مکان بنانے والوں نے رد کیا وہ کونے کا بنیادی پتھر بن گیا۔
¶ یہ رب نے کیا اور دیکھنے میں کتنا حیرت انگیز ہے۔
¶ اِسی دن رب نے اپنی قدرت دکھائی ہے۔ آؤ، ہم شادیانہ بجا کر اُس کی خوشی منائیں۔
¶ اے رب، مہربانی کر کے ہمیں بچا! اے رب، مہربانی کر کے کامیابی عطا فرما!
¶ مبارک ہے وہ جو رب کے نام سے آتا ہے۔ رب کی سکونت گاہ سے ہم تمہیں برکت دیتے ہیں۔
¶ رب ہی خدا ہے، اور اُس نے ہمیں روشنی بخشی ہے۔ آؤ، عید کی قربانی رسّیوں سے قربان گاہ کے سینگوں کے ساتھ باندھو۔
¶ تُو میرا خدا ہے، اور مَیں تیرا شکر کرتا ہوں۔ اے میرے خدا، مَیں تیری تعظیم کرتا ہوں۔
¶ رب کی ستائش کرو، کیونکہ وہ بھلا ہے اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔
(زبوُر ایک سو انیسواں)
(1) مبارک ہیں وہ جو راہ میں بےعیب ہیں، جو خداوند کی شریعت میں چلتے ہیں۔ مبارک ہیں وہ جو اُس کی شہادتوں کو ڈھونڈتے ہیں اور دل سے اُسے تلاش کرتے ہیں؛ کیونکہ بدی کرنے والوں نے اُس کی راہوں پر چلنا پسند نہ کیا۔ تُو نے تاکید کی کہ تیری وصیتیں بہت احتیاط سے رکھی جائیں۔ کاش میرے راستے تیرے قوانین پر قائم ہوں۔ تب جب میں تیری سب وصیتوں پر نگاہ کروں گا تو شرمندہ نہ ہوں گا۔ میں سیدھے دل سے تیرا شکر کروں گا جب میں نے تیرے صداقت کے احکام جان لیے۔ میں تیرے قوانین کی حفاظت کروں گا؛ پس مجھے بالکل ترک نہ کر۔ (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(2) نوجوان اپنی راہ کو کیسے پاک رکھے؟ تیرے کلام کی پَیروی کر کے۔ میں نے سارے دل سے تیرا طالب ہوں؛ مجھے اپنی وصیتوں سے دور نہ کر۔ میں نے تیرے اقوال کو اپنے دل میں چھپا رکھا تاکہ میں تیرے خلاف گناہ نہ کروں۔ تو مبارک ہے اَے خداوند، مجھے اپنے قوانین سکھا۔ میرے ہونٹوں سے میں نے تیرے منہ کے سب احکام ظاہر کیے؛ اور میں تیری شہادتوں کی راہ سے ایسے خوش ہوا جیسے ہر دولت سے۔ میں تیری وصیتوں پر گفتگو کروں گا، اور تیری راہوں پر غور کروں گا۔ میں تیرے فرائض میں مشغول رہوں گا اور تیرا کلام نہ بھلاؤں گا۔ (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(3) اپنے بندہ پر احسان کر کہ میں زندہ رہوں اور تیرے کلام کو محفوظ رکھوں۔ میری آنکھیں کھول کہ میں تیری شریعت کے عجائب دیکھوں۔ میں زمین پر پردیسی ہوں؛ اپنی وصیتیں مجھ سے نہ چھپا۔ ہر وقت تیری عدالتوں کی خواہش سے میری جان بجھتی رہتی ہے۔ تو نے مغروروں کو ملامت کی ہے، لعنتی ہیں جو تیری وصیتوں سے بھٹکے۔ میری رسوائی اور شرمندگی مجھ سے دور کر، کیونکہ میں نے تیری شہادتوں کی طلب رکھی ہے۔ رئیس بیٹھ کر میرے خلاف گفتگو کرتے ہیں، لیکن تیرا بندہ تیرے قوانین میں مشغول رہا؛ کیونکہ تیری شہادتیں میری تعلیم ہیں اور تیرے قوانین میری مشورت۔ (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(4) میری جان خاک سے چمٹ گئی ہے؛ مجھے تیرے کلام کے مطابق زندہ کر۔ میں نے اپنی راہوں کا حال بیان کیا اور تُو نے مجھے جواب دیا؛ مجھے اپنے قوانین سکھا۔ مجھے تیری عدل کی راہ سمجھا کہ میں تیرے عجائبات پر غور کروں۔ غم سے میری جان پگھل گئی؛ مجھے تیرے کلام کے مطابق مضبوط کر۔ ظلم کی راہ مجھ سے دور کر؛ اور اپنی شریعت کی خاطر مجھ پر رحم کر۔ میں نے سچائی کی راہ اختیار کی اور تیری عدالتوں کو نہ بھلایا۔ میں تیری شہادتوں سے چمٹا ہوں؛ اَے خداوند، مجھے رسوا نہ ہونے دے۔ جب تُو نے میرا دل وسیع کیا، میں تیری وصیتوں کی راہ میں دوڑا۔ (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(5) اَے خداوند، مجھے اپنے قوانین کی راہ بتا کہ میں ہمیشہ اُس کی پیروی کروں۔ مجھے سمجھ دے کہ میں تیری شریعت کی تلاش کروں اور اُسے سارے دل سے محفوظ رکھوں۔ مجھے تیری وصیتوں کی راہ پر چلا، کیونکہ میں نے اُسی کو پسند کیا ہے۔ میرے دل کو اپنی شہادتوں کی طرف جھکا دے نہ کہ ناحق کے لالچ کی طرف۔ میری آنکھیں پھیر دے کہ بطالت کو نہ دیکھیں؛ اور مجھے تیری راہوں میں زندہ کر۔ اپنے کلام کو اپنے بندہ پر پورا کر جو تیرے خوف میں ہے۔ میری اس رسوائی کو دور کر جس سے میں ڈرتا تھا؛ کیونکہ تیرے فیصلے نیکو ہیں۔ دیکھ، میں نے تیری وصیتوں کو چاہا ہے؛ اپنی صداقت کے مطابق مجھے زندہ کر۔ (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(6) تیری رحمتیں اَے خداوند، اور تیرا نجات تیرے کلام کے مطابق مجھ پر آئے؛ تو میں اپنے ملامت کرنے والے کو جواب دوں گا؛ کیونکہ میں نے تیرے کلام پر توکل کیا ہے۔ سچائی کا کلام میرے منہ سے مت چھین؛ کیونکہ میں نے تیری عدالتوں کی اُمید باندھی ہے۔ اور میں ہمیشہ، اَبدُالآباد تک، تیری شریعت کی حفاظت کروں گا۔ اور میں فراخی میں چلوں گا؛ کیونکہ میں نے تیری وصیتوں کو ڈھونڈا۔ میں بادشاہوں کے روبرو تیری شہادتوں کی بات کروں گا اور شرمندہ نہ ہوں گا۔ اور میں تیری وصیتوں میں خوش رہوں گا جن سے میں نے بہت محبت رکھی۔ اور میں نے اپنی ہاتھیں تیری اُن وصیتوں کی طرف اٹھائیں جن سے میں بہت محبت رکھتا ہوں؛ اور میں تیرے فرائض پر غور کروں گا۔ (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(7) اپنے بندہ سے کیا ہوا کلام یاد کر جس پر تُو نے مجھے توکل دیا۔ یہی میری مصیبت میں تسلی ہے کہ تیرے کلام نے مجھے زندہ کیا۔ مغروروں نے مجھے حد سے زیادہ ستایا، لیکن میں تیری شریعت سے نہ ہٹا۔ اَے خداوند، میں نے ابتدا سے تیری عدالتوں کو یاد کیا اور تسلّی پائی۔ شرارت کرنے والوں کے سبب مجھے غم نے آ لیا، کیونکہ انہوں نے تیری شریعت کو چھوڑ دیا ہے۔ تیری آئین میرے غُربت خانہ میں میرے لیے مزامیر رہے۔ میں نے رات کو تیرا نام یاد کیا، اَے خداوند، اور تیری شریعت کو مانا۔ یہ میرے لیے اس لیے ہوا کہ میں نے تیرے قوانین کو ڈھونڈا۔ (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(8) اَے خداوند، تُو میرا حصہ ہے؛ میں نے کہا کہ میں تیری وصیتوں کی حفاظت کروں گا۔ میں نے سارے دل سے تیرا چہرہ طلب کیا؛ اپنے کلام کے مطابق مجھ پر رحم کر۔ میں نے اپنی راہوں پر غور کیا اور اپنی قدموں کو تیری شہادتوں کی طرف پھیرا۔ میں نے جلدی کی اور تیرے احکام کی پابندی کرنے میں دیر نہ کی۔ شریروں کی رسیاں مجھے جکٹ گئیں، لیکن میں نے تیری شریعت کو نہ بھلایا۔ آدھی رات کو میں تیرے راست فیصلوں کے سبب تیرا شکر کرنے کو اٹھا۔ میں اُن سب کا رفیق ہوں جو تجھ سے ڈرتے اور تیری وصیتوں کو مانتے ہیں۔ اَے خداوند، تیری رحمت سے زمین معمور ہے؛ مجھے اپنے عدل سکھا۔ (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(9) تُو نے اپنے بندہ پر بھلائی کی ہے اَے خداوند، اپنے کلام کے مطابق؛ بھلائی اور تأدیب اور دانش مجھے سکھا؛ کیونکہ میں نے تیری وصیتوں پر ایمان لایا ہے۔ اس سے پہلے کہ میں فروتن ہوتا، میں بہک گیا تھا؛ اسی لیے میں نے اب تیرا کلام رکھا ہے۔ تُو نیک ہے اَے خداوند؛ اپنی نیکی سے مجھے اپنے قوانین سکھا۔ مغروروں نے مجھ پر بہتان باندھا؛ لیکن میں سارے دل سے تیری وصیتوں کی تلاش کروں گا۔ ان کا دل مکھن کی مانند موٹا ہو گیا ہے؛ لیکن میں تیری شریعت میں مشغول ہوں۔ میرے لیے یہ اچھا ہے کہ میں فروتن ہوا تاکہ میں تیرے قوانین سیکھوں۔ تیرے منہ کی شریعت میرے لیے ہزاروں سونے اور چاندی سے بہتر ہے۔ (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(10) تیرے ہاتھوں نے مجھے بنایا اور رچا؛ مجھے سمجھ دے کہ میں تیری وصیتوں کو سیکھوں۔ جو تجھ سے ڈرتے ہیں مجھے دیکھ کر خوش ہوں گے، کیونکہ میں نے تیرے کلام پر توکل کیا ہے۔ میں جانتا ہوں، اَے خداوند، کہ تیری عدالتیں راست ہیں، اور تُو نے سچائی سے مجھے فروتن کیا۔ تیری رحمت میرے دل کی تسلّی ہو، جیسا کہ تو نے اپنے بندہ سے کہا ہے۔ تیری شفقتیں مجھ پر آئیں تاکہ میں زندہ رہوں؛ کیونکہ تیری شریعت میری تلاوت ہے۔ مغرور شرمندہ ہوں، کیونکہ انہوں نے بےانصافی سے مجھ پر ظلم کیا؛ لیکن میں تیرے احکام میں مستحکم رہوں گا۔ جو تجھ سے ڈرتے ہیں اور تیری شہادتیں جانتے ہیں وہ میری طرف پلٹ آئیں۔ میرا دل تیرے عدل میں بےعیب ہو، تاکہ میں شرمندہ نہ ہوں۔ (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(11) میری جان تیرے نجات کی مشتاق ہے، اور میں نے تیرے کلام پر توکل کیا۔ میری آنکھیں تیرے کلام کے انتظار سے تھک گئیں، کہتی ہیں: تو مجھے کب تسلّی دے گا؟ میں دُھوپ میں کھال کی مشک کی مانند ہو گیا، پر میں نے تیرے قوانین کو نہیں بھلایا۔ تیرے بندہ کے ایام کتنے ہیں؟ جو مجھے ستاتے ہیں اُن پر کب تو انصاف کرے گا؟ شریعت شکنوں نے میرے ساتھ ہذیان کی باتیں کیں؛ لیکن وہ تیرے قانون کے موافق نہیں۔ تیری سب وصیتیں حق ہیں؛ انہوں نے ظلم سے مجھے ستایا؛ میری مدد کر۔ وہ مجھے زمین پر فنا کرنے کو تھے؛ لیکن میں نے تیری وصیتوں کو نہ چھوڑا۔ تیری رحمت کے مطابق مجھے زندہ کر؛ تو میں تیرے منہ کی شہادتوں کو رکھوں گا۔ (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(12) اَے خداوند، تيرا کلام ہمیشہ کے لیے آسمان میں قائم ہے۔ نسل در نسل تیری سچائی ہے۔ تُو نے زمین کی بنیاد ڈالی اور وہ قائم ہے؛ تیرے احکام کے مطابق وہ آج تک قائم ہے، کیونکہ سب چیزیں تیری خادم ہیں۔ اگر تیری شریعت میری تلاوت نہ ہوتی تو میں اپنی مصیبت میں ہلاک ہو جاتا۔ میں تیری وصیتوں کو ابد تک نہیں بھلاؤں گا، کیونکہ اُن ہی کے وسیلہ سے تُو نے مجھے زندہ کیا۔ میں تیرا ہوں؛ مجھے بچا، کیونکہ میں نے تیری وصیتوں کو ڈھونڈا ہے۔ شریروں نے مجھے ہلاک کرنے کے لیے تاک لگائی؛ لیکن میں نے تیری شہادتوں پر دھیان کیا۔ میں نے ہر کمال کا خاتمہ دیکھا؛ لیکن تیری وصیتیں بہت وسیع ہیں۔ (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(13) اَے خداوند، تیرا نام محبوب ہے؛ وہی دن بھر میری تلاوت ہے۔ تیری وصیتوں کے باعث تو نے مجھے اپنے دشمنوں سے زیادہ دانا کیا، کیونکہ وہ ہمیشہ میرے لیے ہیں۔ سب اپنے معلّمین سے بھی میں نے زیادہ سمجھ حاصل کی، کیونکہ تیری شہادتیں میری تعلیم ہیں۔ بزرگوں سے بھی میں نے زیادہ فہم پایا، کیونکہ میں نے تیری وصیتوں کو ڈھونڈا۔ میں نے ہر بری راہ سے اپنے قدم روکے تاکہ میں تیرا کلام رکھوں۔ میں تیرے احکام سے نہ ہٹا، کیونکہ تُو نے مجھے شریعت دی ہے۔ تیرے اقوال میرے ذائقہ میں کس قدر میٹھے ہیں! میرے منہ میں شہد سے بھی زیادہ میٹھے! تیری وصیتوں سے مجھے فہم حاصل ہوا؛ اسی لیے میں ہر جھوٹی راہ سے نفرت کرتا ہوں۔ (کیونکہ تُو نے مجھے شریعت دی ہے) (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(14) تیرا کلام میرے قدموں کے لیے چراغ اور میری راہ کے لیے نور ہے۔ میں نے قسم کھائی اور قائم بھی رہا کہ میں تیرے راست احکام کو رکھوں گا۔ میں نہایت ہی فروتن ہوا، اَے خداوند، اپنے کلام کے موافق مجھے زندہ کر۔ میرے منہ کی منت قبول کر اَے خداوند، اور مجھے اپنے احکام سکھا۔ میری جان ہمیشہ میرے ہاتھ میں رہتی ہے، پر میں نے تیری شریعت کو نہیں بھلایا۔ شریروں نے میرے لیے پھندہ لگایا، لیکن میں تیری وصیتوں سے نہ بہکا۔ میں نے تیری شہادتوں کو ابد تک میراث میں پایا، کیونکہ وہ میرے دل کی خوشی ہیں۔ میں نے اپنے دل کو تیری صداقت کرنے کے لیے جھکا دیا ہے ابد تک (اجر کے سبب)۔ (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(15) میں نے شریعت شکنوں سے نفرت کی، لیکن تیری شریعت سے محبت رکھی؛ کیونکہ تُو میرا مددگار اور میرا ناصر ہے؛ اور میں نے تیرے کلام پر توکل کیا ہے۔ مجھ سے دور ہو جاؤ، اَے بدکارو، تاکہ میں اپنے خدا کی وصیتوں کو ڈھونڈوں۔ اپنے کلام کے مطابق مجھے سنبھال کہ میں زندہ رہوں، اور میری اُمّید کو شرمندہ نہ کر۔ مجھے سہارا دے تو میں بچ جاؤں گا، اور ہمیشہ تیری وصیتوں پر دھیان کروں گا۔ تُو اُن سب کو رد کر دیتا ہے جو تیری وصیتوں سے پھر گئے؛ کیونکہ ان کا خیال جھوٹ ہے۔ تُو زمین کے سب شریروں کو کچرے کی مانند ٹھہراتا ہے؛ اسی لیے میں نے تیری شہادتوں سے محبت رکھی۔ تیرا خوف میرے جسم میں پیوست ہو گیا ہے؛ کیونکہ میں تیرے فیصلوں سے ڈرتا ہوں۔ (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(16) میں نے انصاف اور صداقت کی ہے؛ مجھے اپنے ظالموں کے حوالہ نہ کر۔ اپنے بندہ کے لیے خیر میں ضامن ہو جا؛ تاکہ مغرور میرے اوپر غالب نہ آئیں۔ تیری نجات اور تیرے راست کلام کے انتظار سے میری آنکھیں تھک گئیں۔ اپنے بندہ کے ساتھ اپنی رحمت کے مطابق برتاؤ کر، اور مجھے اپنے قوانین سکھا۔ میں تیرا بندہ ہوں، مجھے فہم دے تاکہ میں تیری شہادتوں کو جانوں۔ یہ وہ وقت ہے کہ خداوند کے لیے کام کیا جائے، کیونکہ لوگوں نے تیری شریعت توڑ دی ہے۔ اسی سبب میں نے تیری وصیتوں سے محبت کی—سونے اور جوہر سے بھی زیادہ۔ اسی وجہ سے میں نے تیری سب وصیتوں کو راست ٹھہرایا اور ہر جھوٹی راہ سے نفرت کی۔ (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(17) تیری شہادتیں عجیب ہیں؛ اسی لیے میری جان نے اُنہیں محفوظ رکھا ہے۔ تیرے کلام کے کھلنے سے روشنی ملتی ہے؛ اور سادوں کو سمجھ بخشتا ہے۔ میں نے منہ کھولا اور سانس کھینچی، کیونکہ میں تیری وصیتوں کا مشتاق تھا۔ میری طرف نگاہ کر اور مجھ پر رحم کر جیسے تو اُن پر کرتا ہے جو تیرے نام سے محبت رکھتے ہیں۔ میرے قدموں کو اپنے کلام کے مطابق مضبوط کر، اور کسی بدی کو مجھ پر تسلّط نہ کرنے دے۔ مجھے آدمیوں کے ظلم سے چھڑا، تو میں تیری وصیتوں کو رکھوں گا۔ اپنے بندہ پر اپنا چہرہ روشن کر، اور مجھے اپنے قوانین سکھا۔ میری آنکھیں پانی کی نہروں کی مانند بہتی ہیں، کیونکہ اُنہوں نے تیری شریعت کو نہیں رکھا۔ (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(18) اَے خداوند، تُو راست ہے اور تیرا انصاف سیدھا ہے۔ تُو نے اپنی شہادتوں کو صداقت اور بہت امانتداری سے قائم کیا ہے۔ تیرے گھر کی غیرت نے مجھے کھا لیا؛ کیونکہ میرے مخالفوں نے تیری وصیتوں کو بھلا دیا ہے۔ تیرا کلام سخت جانچا ہوا ہے، اور تیرے بندہ نے اُسے محبت کی ہے۔ میں چھوٹا اور حقیر ہوں، تو بھی میں نے تیرے قوانین کو نہیں بھلایا۔ تیری صداقت اَبد تک صداقت ہے، اور تیرا کلام حق ہے۔ مصیبت اور تنگی مجھ پر آ پڑی ہیں؛ لیکن تیری وصیتیں میری تلاوت ہیں۔ تیری شہادتیں ابد تک راست ہیں؛ مجھے سمجھ دے تاکہ میں زندہ رہوں۔ (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(19) میں نے سارے دل سے پکارا؛ اَے خداوند، مجھے جواب دے—میں تیرے قوانین کو تلاش کرتا ہوں۔ میں نے تجھے پکارا؛ مجھے بچا کہ میں تیری شہادتوں کو رکھوں۔ میں نے صبحِ صادق سے پہلے اٹھ کر فریاد کی؛ اور میں نے تیرے کلام پر توکل کیا۔ میری آنکھیں رات کے پہروں سے پہلے کھلی رہیں، تاکہ میں تیرے اقوال میں تلاوت کروں۔ میری آواز کو سن لے اَے خداوند، اپنی رحمت کے مطابق؛ اور اپنی عدالتوں کے مطابق مجھے زندہ کر۔ وہ جو بُرے منصوبے باندھتے ہیں قریب آ گئے؛ لیکن وہ تیری شریعت سے دور ہوئے۔ تُو قریب ہے اَے خداوند، اور تیری سب وصیتیں سچ ہیں۔ میں نے ابتدا سے تیری شہادتوں کے بارے میں جان لیا ہے کہ تُو نے اُنہیں ابد تک قائم کیا۔ (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(20) میری مصیبت پر نگاہ کر اور مجھے چھڑا، کیونکہ میں نے تیری شریعت کو نہیں بھلایا۔ میری فریاد کی پیروی کر اور مجھے چھڑا؛ اپنے کلام کے مطابق مجھے زندہ کر۔ شریروں سے نجات دور ہے، کیونکہ انہوں نے تیرے قوانین کو طلب نہیں کیا۔ تیری شفقتیں بہت ہیں اَے خداوند؛ اپنی عدالتوں کے موافق مجھے زندہ کر۔ بہت سے ہیں جو مجھے ستاتے اور دکھ دیتے ہیں؛ تو بھی میں تیری شہادتوں سے نہ ہٹا۔ میں نے بےفہموں کو دیکھا اور مغموم ہوا، کیونکہ انہوں نے تیرے اقوال کو نہیں رکھا۔ دیکھ، میں نے تیری وصیتوں سے محبت رکھی؛ اپنی رحمت کے موافق مجھے زندہ کر۔ تیرے کلام کا خلاصہ سچائی ہے، اور تیرے صداقت کے سب احکام ہمیشہ کے لیے ہیں۔ (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(21) رئیسوں نے بےسبب مجھے ستایا؛ لیکن میرا دل تیرے اقوال سے ڈر گیا۔ میں تیرے کلام میں ایسے خوش ہوتا ہوں جیسے کوئی بڑے مالِ غنیمت پائے۔ میں جھوٹ سے نفرت کرتا اور اسے مکروہ جانتا ہوں؛ لیکن تیری شریعت سے محبت رکھتا ہوں۔ میں دن میں سات بار تیرے راست احکام کے سبب تیرا شکر کرتا ہوں۔ بڑی سلامتی اُن کے لیے ہے جو تیری شریعت سے محبت رکھتے ہیں، اور اُن کے لیے ٹھوکر نہیں۔ اَے خداوند، میں نے تیری نجات کی اُمّید رکھی اور تیری وصیتیں کیں۔ میری جان نے تیری شہادتوں کو رکھا، اور میں نے اُن سے بڑی محبت رکھی۔ میں نے تیری وصیتوں اور تیری شہادتوں کو رکھا ہے، کیونکہ میری سب راہیں تیرے حضور ہیں اَے خداوند۔ (ذكصاسي فيلا نيثروبي: تجھے جلال ہو، اے محبِّ بشر Doxa ci Vilan`;rwpe)
(22) میری فریاد تیرے حضور آئے اَے خداوند؛ تیرے کلام کے مطابق مجھے سمجھ دے۔ میری درخواست تیری حضوری میں پہنچے اَے خداوند؛ تیرے کلمہ کے موافق مجھے زندہ کر۔ جب تُو مجھے اپنے قوانین سکھائے گا تو میرے ہونٹ ستائش سے لبریز ہوں گے۔ میری زبان تیرے اقوال کا اعلان کرے گی، کیونکہ تیری سب وصیتیں راست ہیں۔ تیرا ہاتھ میری نجات کے لیے ہو کیونکہ میں نے تیری وصیتوں کی خواہش کی ہے۔ میں نے تیری نجات کو چاہا اَے خداوند، اور تیری شریعت میری تلاوت ہے۔ میری جان زندہ رہے اور وہ تیری تسبیح کرے؛ اور تیرے فیصلے میری مدد ہوں۔ میں گمراہ بھیڑ کی مانند بھٹک گیا ہوں؛ اپنے بندہ کو ڈھونڈ نکال، کیونکہ میں نے تیری وصیتوں کو نہیں بھلایا۔ ہللویا۔
(مَتّی 25: 1-13) تب آسمان کی بادشاہی دس کنواریوں کی مانند ہوگی جنہوں نے اپنے چراغ لیے اور دلہا کے استقبال کے لیے نکلیں۔ اُن میں سے پانچ نادان تھیں اور پانچ دانا۔ کیونکہ نادانوں نے اپنے چراغ تو لیے لیکن اپنے ساتھ تیل نہ لیا؛ اور داناؤں نے اپنے چراغوں کے ساتھ اپنی برتنوں میں تیل بھی لیا۔ اور جب دلہا نے دیر کی تو وہ سب اُنگھنے اور سونے لگیں۔ آدھی رات کو صدا ہوئی: دیکھو دلہا آیا! اُس کے استقبال کو نکلو۔ تب وہ سب کنواریاں اٹھیں اور اپنے چراغ درست کیے۔ اور نادانوں نے داناؤں سے کہا: اپنے تیل میں سے ہمیں دو کیونکہ ہمارے چراغ بجھتے جاتے ہیں۔ لیکن داناؤں نے جواب دیا: شاید ہمارے اور تمہارے لیے کافی نہ ہو؛ بلکہ بیچنے والوں کے پاس جاؤ اور اپنے لیے خرید لو۔ جب وہ خریدنے کو گئیں تو دلہا آ پہنچا؛ اور جو تیار تھیں وہ اُس کے ساتھ شادی میں داخل ہوئیں اور دروازہ بند کر دیا گیا۔ بعد میں باقی کنواریاں بھی آ کر کہنے لگیں: اَے خداوند! اَے خداوند! ہمارے لیے دروازہ کھول۔ اُس نے جواب میں کہا: میں تم سے سچ کہتا ہوں، میں تمہیں نہیں جانتا۔ پس جاگو، کیونکہ تم نہ اُس دن کو جانتے ہو اور نہ اُس ساعت کو جس میں ابنِ آدم آتا ہے۔ (اور ہمیشہ خدا ہی کا جلال ہو)
القطع (حصہ/تروپار)
دیکھو دلہا آدھی رات کو آتا ہے؛ مبارک ہے وہ بندہ جسے وہ جاگتا پائے۔ لیکن جسے غافل پائے وہ اُس کے ساتھ چلنے کے لائق نہیں۔ پس اے میری جان، خبردار! کہ نیند سے بوجھل نہ ہو جانا، ورنہ بادشاہی سے باہر پھینک دی جائے گی؛ بلکہ جاگتی رہ اور پکار کر کہہ: قدوس، قدوس، قدوس تُو ہے، اَے خدا؛ والدۂ الٰہ کے سبب ہم پر رحم فرما۔ (ذوكصابتري كيه إيو كي آجيو ابنيفماتي Δόξα Πατρί καὶ Υἱῷ καὶ Ἁγίῳ Πνεύματι - باپ اور ابن اور روح القدس کو جلال)
اَے میری جان، اُس ہولناک دن کو سمجھ اور جاگ، اور اپنے چراغ کو شادمانی کے تیل سے روشن کر؛ کیونکہ تُو نہیں جانتی کہ کب تیری طرف وہ آواز آئے گی: دیکھو دلہا آ پہنچا۔ پس اے میری جان، غافل نہ ہو جانا تاکہ پانچ نادان کنواریوں کی مانند باہر کھڑی دستک نہ دیتی رہ جائے؛ بلکہ چُربیالے تیل کے ساتھ مناجات کر کہ تُو مسیح خداوند سے ملاقی ہو، اور وہ اپنے الٰہی حقیقی جلال کی شادی میں تجھ پر کرم کرے۔ (كي نين، كي آ إي، كي ايستوس إي أوناس تون إي أونون آمين Καὶ νῦν καὶ ἀεὶ καὶ εἰς τοὺς αἰῶνας τῶν αἰώνων. Ἀμήν - اب بھی اور ہر زمانہ میں اور اَبدُالآباد تک، آمین)
تُو ہماری نجات کی فصیل ہے، اَے والدۂ الٰہ؛ ناقابلِ شکست محکم قلعہ؛ مخالفوں کی مشورت کو باطل کر، اور اپنے بندوں کے غم کو خوشی میں بدل دے؛ ہماری بستی (ہمارے دیر) کی حفاظت کر، اور ہمارے بادشاہوں (ہمارے سرداروں) کے خلاف لڑ، اور جہان کے امن کے لیے شفاعت کر؛ کیونکہ تُو ہی ہماری امید ہے، اَے والدۂ الٰہ۔ (كي نين، كي آ إي، كي ايستوس إي أوناس تون إي أونون آمين Καὶ νῦν καὶ ἀεὶ καὶ εἰς τοὺς αἰῶνας τῶν αἰώνων. Ἀμήν - اب بھی اور ہر زمانہ میں اور اَبدُالآباد تک، آمین)
اَے آسمانی بادشاہ، تعزیت دینے والے، سچائی کے روح، جو ہر جگہ حاضر اور سب کچھ کو بھرنے والا ہے؛ نیکیوں کا خزانہ اور حیات دینے والا؛ آ، عنایت فرما اور ہم میں سکونت کر، اور ہمیں ہر ناپاکی سے پاک کر، اَے نیکوکار، اور ہماری جانوں کی نجات کر۔ (ذوكصابتري كيه إيو كي آجيو ابنيفماتي Δόξα Πατρί καὶ Υἱῷ καὶ Ἁγίῳ Πνεύματι - باپ اور ابن اور روح القدس کو جلال)
اَے مخلّص، جیسے تُو اپنے شاگردوں کے ساتھ تھا اور انہیں سلامتی دی تھی، آ، ہمارے ساتھ بھی ہو، اور ہمیں اپنی سلامتی عطا فرما، اور ہمیں بچا اور ہماری جانوں کو نجات دے۔ (كي نين، كي آ إي، كي ايستوس إي أوناس تون إي أونون آمين Καὶ νῦν καὶ ἀεὶ καὶ εἰς τοὺς αἰῶνας τῶν αἰώνων. Ἀμήν - اب بھی اور ہر زمانہ میں اور اَبدُالآباد تک، آمین)
جب ہم تیرے مقدس ہیکل میں کھڑے ہوتے ہیں تو ہم گویا آسمان میں کھڑے سمجھے جاتے ہیں۔ اَے والدۂ الٰہ، تُو ہی آسمان کا دروازہ ہے؛ ہمارے لیے رحمت کا دروازہ کھول۔
Κύριε ἐλέησون کیریالیسون (خداوندا، رحم فرما) 41 بار
قدوس، قدوس، قدوس
قدوس، قدوس، قدوس، ربُّ الصباؤوت۔ آسمان اور زمین تیری جلال اور تیری کرامت سے معمور ہیں۔ اے خدا باپ قادرِ مطلق، ہم پر رحم فرما۔ اَے تثلیثِ اقدس، ہم پر رحم فرما۔ اَے رب، افواج کے خدا، ہمارے ساتھ رہ؛ کیونکہ مصیبتوں اور تنگیوں میں تیرے سوا ہمارا کوئی مددگار نہیں۔
اَے خدا، ہماری بدیوں کو حل کر، معاف کر اور درگزر فرما، جو ہم نے ارادے سے کیں اور جو بغیر ارادے کے کیں، جو دانستہ کیں اور جو نادانستہ؛ پوشیدہ اور ظاہر۔ اَے رب، اپنے اُس پاک نام کی خاطر جو ہم پر لیا گیا ہے، اُن سب کو ہمیں بخش دے۔ اَے رب، اپنی رحمت کے موافق، نہ کہ ہمارے گناہوں کے موافق۔
اور ہمیں اس لائق بنا کہ ہم شکرگزاری کے ساتھ کہیں: اے ہمارے باپ جو آسمان پر ہے۔۔۔
خدمتِ ثانیہ
زبور 118 (VIII)
¶ مبارک ہیں وہ جن کا چال چلن بےالزام ہے، جو رب کی شریعت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔
¶ مبارک ہیں وہ جو اُس کے احکام پر عمل کرتے اور پورے دل سے اُس کے طالب رہتے ہیں،
¶ جو بدی نہیں کرتے بلکہ اُس کی راہوں پر چلتے ہیں۔
¶ تُو نے ہمیں اپنے احکام دیئے ہیں، اور تُو چاہتا ہے کہ ہم ہر لحاظ سے اُن کے تابع رہیں۔
¶ کاش میری راہیں اِتنی پختہ ہوں کہ مَیں ثابت قدمی سے تیرے احکام پر عمل کروں!
¶ تب مَیں شرمندہ نہیں ہوں گا، کیونکہ میری آنکھیں تیرے تمام احکام پر لگی رہیں گی۔
¶ جتنا مَیں تیرے باانصاف فیصلوں کے بارے میں سیکھوں گا اُتنا ہی دیانت دار دل سے تیری ستائش کروں گا۔
¶ تیرے احکام پر مَیں ہر وقت عمل کروں گا۔ مجھے پوری طرح ترک نہ کر!
¶ نوجوان اپنی راہ کو کس طرح پاک رکھے؟ اِس طرح کہ تیرے کلام کے مطابق زندگی گزارے۔
¶ مَیں پورے دل سے تیرا طالب رہا ہوں۔ مجھے اپنے احکام سے بھٹکنے نہ دے۔
¶ مَیں نے تیرا کلام اپنے دل میں محفوظ رکھا ہے تاکہ تیرا گناہ نہ کروں۔
¶ اے رب، تیری حمد ہو! مجھے اپنے احکام سکھا۔
¶ اپنے ہونٹوں سے مَیں دوسروں کو تیرے منہ کی تمام ہدایات سناتا ہوں۔
¶ مَیں تیرے احکام کی راہ سے اُتنا لطف اندوز ہوتا ہوں جتنا کہ ہر طرح کی دولت سے۔
¶ مَیں تیری ہدایات میں محوِ خیال رہوں گا اور تیری راہوں کو تکتا رہوں گا۔
¶ مَیں تیرے فرمانوں سے لطف اندوز ہوتا ہوں اور تیرا کلام نہیں بھولتا۔
¶ اپنے خادم سے بھلائی کر تاکہ مَیں زندہ رہوں اور تیرے کلام کے مطابق زندگی گزاروں۔
¶ میری آنکھوں کو کھول تاکہ تیری شریعت کے عجائب دیکھوں۔
¶ دنیا میں مَیں پردیسی ہی ہوں۔ اپنے احکام مجھ سے چھپائے نہ رکھ!
¶ میری جان ہر وقت تیری ہدایات کی آرزو کرتے کرتے نڈھال ہو رہی ہے۔
¶ تُو مغروروں کو ڈانٹتا ہے۔ اُن پر لعنت جو تیرے احکام سے بھٹک جاتے ہیں!
¶ مجھے لوگوں کی توہین اور تحقیر سے رِہائی دے، کیونکہ مَیں تیرے احکام کے تابع رہا ہوں۔
¶ گو بزرگ میرے خلاف منصوبے باندھنے کے لئے بیٹھ گئے ہیں، تیرا خادم تیرے احکام میں محوِ خیال رہتا ہے۔
¶ تیرے احکام سے ہی مَیں لطف اُٹھاتا ہوں، وہی میرے مشیر ہیں۔
¶ میری جان خاک میں دب گئی ہے۔ اپنے کلام کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔
¶ مَیں نے اپنی راہیں بیان کیں تو تُو نے میری سنی۔ مجھے اپنے احکام سکھا۔
¶ مجھے اپنے احکام کی راہ سمجھنے کے قابل بنا تاکہ تیرے عجائب میں محوِ خیال رہوں۔
¶ میری جان دُکھ کے مارے نڈھال ہو گئی ہے۔ مجھے اپنے کلام کے مطابق تقویت دے۔
¶ فریب کی راہ مجھ سے دُور رکھ اور مجھے اپنی شریعت سے نواز۔
¶ مَیں نے وفا کی راہ اختیار کر کے تیرے آئین اپنے سامنے رکھے ہیں۔
¶ مَیں تیرے احکام سے لپٹا رہتا ہوں۔ اے رب، مجھے شرمندہ نہ ہونے دے۔
¶ مَیں تیرے فرمانوں کی راہ پر دوڑتا ہوں، کیونکہ تُو نے میرے دل کو کشادگی بخشی ہے۔
¶ اے رب، مجھے اپنے آئین کی راہ سکھا تو مَیں عمر بھر اُن پر عمل کروں گا۔
¶ مجھے سمجھ عطا کر تاکہ تیری شریعت کے مطابق زندگی گزاروں اور پورے دل سے اُس کے تابع رہوں۔
¶ اپنے احکام کی راہ پر میری راہنمائی کر، کیونکہ یہی مَیں پسند کرتا ہوں۔
¶ میرے دل کو لالچ میں آنے نہ دے بلکہ اُسے اپنے فرمانوں کی طرف مائل کر۔
¶ میری آنکھوں کو باطل چیزوں سے پھیر لے، اور مجھے اپنی راہوں پر سنبھال کر میری جان کو تازہ دم کر۔
¶ جو وعدہ تُو نے اپنے خادم سے کیا وہ پورا کر تاکہ لوگ تیرا خوف مانیں۔
¶ جس رُسوائی سے مجھے خوف ہے اُس کا خطرہ دُور کر، کیونکہ تیرے احکام اچھے ہیں۔
¶ مَیں تیری ہدایات کا شدید آرزومند ہوں، اپنی راستی سے میری جان کو تازہ دم کر۔
¶ اے رب، تیری شفقت اور وہ نجات جس کا وعدہ تُو نے کیا ہے مجھ تک پہنچے
¶ تاکہ مَیں بےعزتی کرنے والے کو جواب دے سکوں۔ کیونکہ مَیں تیرے کلام پر بھروسا رکھتا ہوں۔
¶ میرے منہ سے سچائی کا کلام نہ چھین، کیونکہ مَیں تیرے فرمانوں کے انتظار میں ہوں۔
¶ مَیں ہر وقت تیری شریعت کی پیروی کروں گا، اب سے ابد تک اُس میں قائم رہوں گا۔
¶ مَیں کھلے میدان میں چلتا پھروں گا، کیونکہ تیرے آئین کا طالب رہتا ہوں۔
¶ مَیں شرم کئے بغیر بادشاہوں کے سامنے تیرے احکام بیان کروں گا۔
¶ مَیں تیرے فرمانوں سے لطف اندوز ہوتا ہوں، وہ مجھے پیارے ہیں۔
¶ مَیں اپنے ہاتھ تیرے فرمانوں کی طرف اُٹھاؤں گا، کیونکہ وہ مجھے پیارے ہیں۔ مَیں تیری ہدایات میں محوِ خیال رہوں گا۔
¶ اُس بات کا خیال رکھ جو تُو نے اپنے خادم سے کی اور جس سے تُو نے مجھے اُمید دلائی ہے۔
¶ مصیبت میں یہی تسلی کا باعث رہا ہے کہ تیرا کلام میری جان کو تازہ دم کرتا ہے۔
¶ مغرور میرا حد سے زیادہ مذاق اُڑاتے ہیں، لیکن مَیں تیری شریعت سے دُور نہیں ہوتا۔
¶ اے رب، مَیں تیرے قدیم فرمان یاد کرتا ہوں تو مجھے تسلی ملتی ہے۔
¶ بےدینوں کو دیکھ کر مَیں آگ بگولا ہو جاتا ہوں، کیونکہ اُنہوں نے تیری شریعت کو ترک کیا ہے۔
¶ جس گھر میں مَیں پردیسی ہوں اُس میں مَیں تیرے احکام کے گیت گاتا رہتا ہوں۔
¶ اے رب، رات کو مَیں تیرا نام یاد کرتا ہوں، تیری شریعت پر عمل کرتا رہتا ہوں۔
¶ یہ تیری بخشش ہے کہ مَیں تیرے آئین کی پیروی کرتا ہوں۔
¶ رب میری میراث ہے۔ مَیں نے تیرے فرمانوں پر عمل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
¶ مَیں پورے دل سے تیری شفقت کا طالب رہا ہوں۔ اپنے وعدے کے مطابق مجھ پر مہربانی کر۔
¶ مَیں نے اپنی راہوں پر دھیان دے کر تیرے احکام کی طرف قدم بڑھائے ہیں۔
¶ مَیں نہیں جھجکتا بلکہ بھاگ کر تیرے احکام پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
¶ بےدینوں کے رسّوں نے مجھے جکڑ لیا ہے، لیکن مَیں تیری شریعت نہیں بھولتا۔
¶ آدھی رات کو مَیں جاگ اُٹھتا ہوں تاکہ تیرے راست فرمانوں کے لئے تیرا شکر کروں۔
¶ مَیں اُن سب کا ساتھی ہوں جو تیرا خوف مانتے ہیں، اُن سب کا دوست جو تیری ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔
¶ اے رب، دنیا تیری شفقت سے معمور ہے۔ مجھے اپنے احکام سکھا!
¶ اے رب، تُو نے اپنے کلام کے مطابق اپنے خادم سے بھلائی کی ہے۔
¶ مجھے صحیح امتیاز اور عرفان سکھا، کیونکہ مَیں تیرے احکام پر ایمان رکھتا ہوں۔
¶ اِس سے پہلے کہ مجھے پست کیا گیا مَیں آوارہ پھرتا تھا، لیکن اب مَیں تیرے کلام کے تابع رہتا ہوں۔
¶ تُو بھلا ہے اور بھلائی کرتا ہے۔ مجھے اپنے آئین سکھا!
¶ مغروروں نے جھوٹ بول کر مجھ پر کیچڑ اُچھالی ہے، لیکن مَیں پورے دل سے تیری ہدایات کی فرماں برداری کرتا ہوں۔
¶ اُن کے دل اکڑ کر بےحس ہو گئے ہیں، لیکن مَیں تیری شریعت سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔
¶ میرے لئے اچھا تھا کہ مجھے پست کیا گیا، کیونکہ اِس طرح مَیں نے تیرے احکام سیکھ لئے۔
¶ جو شریعت تیرے منہ سے صادر ہوئی ہے وہ مجھے سونے چاندی کے ہزاروں سِکوں سے زیادہ پسند ہے۔
¶ تیرے ہاتھوں نے مجھے بنا کر مضبوط بنیاد پر رکھ دیا ہے۔ مجھے سمجھ عطا فرما تاکہ تیرے احکام سیکھ لوں۔
¶ جو تیرا خوف مانتے ہیں وہ مجھے دیکھ کر خوش ہو جائیں، کیونکہ مَیں تیرے کلام کے انتظار میں رہتا ہوں۔
¶ اے رب، مَیں نے جان لیا ہے کہ تیرے فیصلے راست ہیں۔ یہ بھی تیری وفاداری کا اظہار ہے کہ تُو نے مجھے پست کیا ہے۔
¶ تیری شفقت مجھے تسلی دے، جس طرح تُو نے اپنے خادم سے وعدہ کیا ہے۔
¶ مجھ پر اپنے رحم کا اظہار کر تاکہ میری جان میں جان آئے، کیونکہ مَیں تیری شریعت سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔
¶ جو مغرور مجھے جھوٹ سے پست کر رہے ہیں وہ شرمندہ ہو جائیں۔ لیکن مَیں تیرے فرمانوں میں محوِ خیال رہوں گا۔
¶ کاش جو تیرا خوف مانتے اور تیرے احکام جانتے ہیں وہ میرے پاس واپس آئیں!
¶ میرا دل تیرے آئین کی پیروی کرنے میں بےالزام رہے تاکہ میری رُسوائی نہ ہو جائے۔
¶ میری جان تیری نجات کی آرزو کرتے کرتے نڈھال ہو رہی ہے، مَیں تیرے کلام کے انتظار میں ہوں۔
¶ میری آنکھیں تیرے وعدے کی راہ دیکھتے دیکھتے دُھندلا رہی ہیں۔ تُو مجھے کب تسلی دے گا؟
¶ مَیں دھوئیں میں سکڑی ہوئی مشک کی مانند ہوں لیکن تیرے فرمانوں کو نہیں بھولتا۔
¶ تیرے خادم کو مزید کتنی دیر انتظار کرنا پڑے گا؟ تُو میرا تعاقب کرنے والوں کی عدالت کب کرے گا؟
¶ جو مغرور تیری شریعت کے تابع نہیں ہوتے اُنہوں نے مجھے پھنسانے کے لئے گڑھے کھود لئے ہیں۔
¶ تیرے تمام احکام پُروفا ہیں۔ میری مدد کر، کیونکہ وہ جھوٹ کا سہارا لے کر میرا تعاقب کر رہے ہیں۔
¶ وہ مجھے رُوئے زمین پر سے مٹانے کے قریب ہی ہیں، لیکن مَیں نے تیرے آئین کو ترک نہیں کیا۔
¶ اپنی شفقت کا اظہار کر کے میری جان کو تازہ دم کر تاکہ تیرے منہ کے فرمانوں پر عمل کروں۔
¶ اے رب، تیرا کلام ابد تک آسمان پر قائم و دائم ہے۔
¶ تیری وفاداری پشت در پشت رہتی ہے۔ تُو نے زمین کی بنیاد رکھی، اور وہ وہیں کی وہیں برقرار رہتی ہے۔
¶ آج تک آسمان و زمین تیرے فرمانوں کو پورا کرنے کے لئے حاضر رہتے ہیں، کیونکہ تمام چیزیں تیری خدمت کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں۔
¶ اگر تیری شریعت میری خوشی نہ ہوتی تو مَیں اپنی مصیبت میں ہلاک ہو گیا ہوتا۔
¶ مَیں تیری ہدایات کبھی نہیں بھولوں گا، کیونکہ اُن ہی کے ذریعے تُو میری جان کو تازہ دم کرتا ہے۔
¶ مَیں تیرا ہی ہوں، مجھے بچا! کیونکہ مَیں تیرے احکام کا طالب رہا ہوں۔
¶ بےدین میری تاک میں بیٹھ گئے ہیں تاکہ مجھے مار ڈالیں، لیکن مَیں تیرے آئین پر دھیان دیتا رہوں گا۔
¶ مَیں نے دیکھا ہے کہ ہر کامل چیز کی حد ہوتی ہے، لیکن تیرے فرمان کی کوئی حد نہیں ہوتی۔
¶ تیری شریعت مجھے کتنی پیاری ہے! دن بھر مَیں اُس میں محوِ خیال رہتا ہوں۔
¶ تیرا فرمان مجھے میرے دشمنوں سے زیادہ دانش مند بنا دیتا ہے، کیونکہ وہ ہمیشہ تک میرا خزانہ ہے۔
¶ مجھے اپنے تمام اُستادوں سے زیادہ سمجھ حاصل ہے، کیونکہ مَیں تیرے آئین میں محوِ خیال رہتا ہوں۔
¶ مجھے بزرگوں سے زیادہ سمجھ حاصل ہے، کیونکہ مَیں وفاداری سے تیرے احکام کی پیروی کرتا ہوں۔
¶ مَیں نے ہر بُری راہ پر قدم رکھنے سے گریز کیا ہے تاکہ تیرے کلام سے لپٹا رہوں۔
¶ مَیں تیرے فرمانوں سے دُور نہیں ہوا، کیونکہ تُو ہی نے مجھے تعلیم دی ہے۔
¶ تیرا کلام کتنا لذیذ ہے، وہ میرے منہ میں شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔
¶ تیرے احکام سے مجھے سمجھ حاصل ہوتی ہے، اِس لئے مَیں جھوٹ کی ہر راہ سے نفرت کرتا ہوں۔
¶ تیرا کلام میرے پاؤں کے لئے چراغ ہے جو میری راہ کو روشن کرتا ہے۔
¶ مَیں نے قَسم کھائی ہے کہ تیرے راست فرمانوں کی پیروی کروں گا، اور مَیں یہ وعدہ پورا بھی کروں گا۔
¶ مجھے بہت پست کیا گیا ہے۔ اے رب، اپنے کلام کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔
¶ اے رب، میرے منہ کی رضاکارانہ قربانیوں کو پسند کر اور مجھے اپنے آئین سکھا!
¶ میری جان ہمیشہ خطرے میں ہے، لیکن مَیں تیری شریعت نہیں بھولتا۔
¶ بےدینوں نے میرے لئے پھندا تیار کر رکھا ہے، لیکن مَیں تیرے فرمانوں سے نہیں بھٹکا۔
¶ تیرے احکام میری ابدی میراث بن گئے ہیں، کیونکہ اُن سے میرا دل خوشی سے اُچھلتا ہے۔
¶ مَیں نے اپنا دل تیرے احکام پر عمل کرنے کی طرف مائل کیا ہے، کیونکہ اِس کا اجر ابدی ہے۔
¶ مَیں دو دلوں سے نفرت لیکن تیری شریعت سے محبت کرتا ہوں۔
¶ تُو میری پناہ گاہ اور میری ڈھال ہے، مَیں تیرے کلام کے انتظار میں رہتا ہوں۔
¶ اے بدکارو، مجھ سے دُور ہو جاؤ، کیونکہ مَیں اپنے خدا کے احکام سے لپٹا رہوں گا۔
¶ اپنے فرمان کے مطابق مجھے سنبھال تاکہ زندہ رہوں۔ میری آس ٹوٹنے نہ دے تاکہ شرمندہ نہ ہو جاؤں۔
¶ میرا سہارا بن تاکہ بچ کر ہر وقت تیرے آئین کا لحاظ رکھوں۔
¶ تُو اُن سب کو رد کرتا ہے جو تیرے احکام سے بھٹکے پھرتے ہیں، کیونکہ اُن کی دھوکے بازی فریب ہی ہے۔
¶ تُو زمین کے تمام بےدینوں کو ناپاک چاندی سے خارج کی ہوئی مَیل کی طرح پھینک کر نیست کر دیتا ہے، اِس لئے تیرے فرمان مجھے پیارے ہیں۔
¶ میرا جسم تجھ سے دہشت کھا کر تھرتھراتا ہے، اور مَیں تیرے فیصلوں سے ڈرتا ہوں۔
¶ مَیں نے راست اور باانصاف کام کیا ہے، چنانچہ مجھے اُن کے حوالے نہ کر جو مجھ پر ظلم کرتے ہیں۔
¶ اپنے خادم کی خوش حالی کا ضامن بن کر مغروروں کو مجھ پر ظلم کرنے نہ دے۔
¶ میری آنکھیں تیری نجات اور تیرے راست وعدے کی راہ دیکھتے دیکھتے رہ گئی ہیں۔
¶ اپنے خادم سے تیرا سلوک تیری شفقت کے مطابق ہو۔ مجھے اپنے احکام سکھا۔
¶ مَیں تیرا ہی خادم ہوں۔ مجھے فہم عطا فرما تاکہ تیرے آئین کی پوری سمجھ آئے۔
¶ اب وقت آ گیا ہے کہ رب قدم اُٹھائے، کیونکہ لوگوں نے تیری شریعت کو توڑ ڈالا ہے۔
¶ اِس لئے مَیں تیرے احکام کو سونے بلکہ خالص سونے سے زیادہ پیار کرتا ہوں۔
¶ اِس لئے مَیں احتیاط سے تیرے تمام آئین کے مطابق زندگی گزارتا ہوں۔ مَیں ہر فریب دہ راہ سے نفرت کرتا ہوں۔
¶ تیرے احکام تعجب انگیز ہیں، اِس لئے میری جان اُن پر عمل کرتی ہے۔
¶ تیرے کلام کا انکشاف روشنی بخشتا اور سادہ لوح کو سمجھ عطا کرتا ہے۔
¶ مَیں تیرے فرمانوں کے لئے اِتنا پیاسا ہوں کہ منہ کھول کر ہانپ رہا ہوں۔
¶ میری طرف رجوع فرما اور مجھ پر وہی مہربانی کر جو تُو اُن سب پر کرتا ہے جو تیرے نام سے پیار کرتے ہیں۔
¶ اپنے کلام سے میرے قدم مضبوط کر، کسی بھی گناہ کو مجھ پر حکومت نہ کرنے دے۔
¶ فدیہ دے کر مجھے انسان کے ظلم سے چھٹکارا دے تاکہ مَیں تیرے احکام کے تابع رہوں۔
¶ اپنے چہرے کا نور اپنے خادم پر چمکا اور مجھے اپنے احکام سکھا۔
¶ میری آنکھوں سے آنسوؤں کی ندیاں بہہ رہی ہیں، کیونکہ لوگ تیری شریعت کے تابع نہیں رہتے۔
¶ اے رب، تُو راست ہے، اور تیرے فیصلے درست ہیں۔
¶ تُو نے راستی اور بڑی وفاداری کے ساتھ اپنے فرمان جاری کئے ہیں۔
¶ میری جان غیرت کے باعث تباہ ہو گئی ہے، کیونکہ میرے دشمن تیرے فرمان بھول گئے ہیں۔
¶ تیرا کلام آزما کر پاک صاف ثابت ہوا ہے، تیرا خادم اُسے پیار کرتا ہے۔
¶ مجھے ذلیل اور حقیر جانا جاتا ہے، لیکن مَیں تیرے آئین نہیں بھولتا۔
¶ تیری راستی ابدی ہے، اور تیری شریعت سچائی ہے۔
¶ مصیبت اور پریشانی مجھ پر غالب آ گئی ہیں، لیکن مَیں تیرے احکام سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔
¶ تیرے احکام ابد تک راست ہیں۔ مجھے سمجھ عطا فرما تاکہ مَیں جیتا رہوں۔
¶ مَیں پورے دل سے پکارتا ہوں، ”اے رب، میری سن! مَیں تیرے آئین کے مطابق زندگی گزاروں گا۔“
¶ مَیں پکارتا ہوں، ”مجھے بچا! مَیں تیرے احکام کی پیروی کروں گا۔“
¶ پَو پھٹنے سے پہلے پہلے مَیں اُٹھ کر مدد کے لئے پکارتا ہوں۔ مَیں تیرے کلام کے انتظار میں ہوں۔
¶ رات کے وقت ہی میری آنکھیں کھل جاتی ہیں تاکہ تیرے کلام پر غور و خوض کروں۔
¶ اپنی شفقت کے مطابق میری آواز سن! اے رب، اپنے فرمانوں کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔
¶ جو چالاکی سے میرا تعاقب کر رہے ہیں وہ قریب پہنچ گئے ہیں۔ لیکن وہ تیری شریعت سے انتہائی دُور ہیں۔
¶ اے رب، تُو قریب ہی ہے، اور تیرے احکام سچائی ہیں۔
¶ بڑی دیر پہلے مجھے تیرے فرمانوں سے معلوم ہوا ہے کہ تُو نے اُنہیں ہمیشہ کے لئے قائم رکھا ہے۔
¶ میری مصیبت کا خیال کر کے مجھے بچا! کیونکہ مَیں تیری شریعت نہیں بھولتا۔
¶ عدالت میں میرے حق میں لڑ کر میرا عوضانہ دے تاکہ میری جان چھوٹ جائے۔ اپنے وعدے کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔
¶ نجات بےدینوں سے بہت دُور ہے، کیونکہ وہ تیرے احکام کے طالب نہیں ہوتے۔
¶ اے رب، تُو متعدد طریقوں سے اپنے رحم کا اظہار کرتا ہے۔ اپنے آئین کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔
¶ میرا تعاقب کرنے والوں اور میرے دشمنوں کی بڑی تعداد ہے، لیکن مَیں تیرے احکام سے دُور نہیں ہوا۔
¶ بےوفاؤں کو دیکھ کر مجھے گھن آتی ہے، کیونکہ وہ تیرے کلام کے مطابق زندگی نہیں گزارتے۔
¶ دیکھ، مجھے تیرے احکام سے پیار ہے۔ اے رب، اپنی شفقت کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔
¶ تیرے کلام کا لُبِ لباب سچائی ہے، تیرے تمام راست فرمان ابد تک قائم ہیں۔
¶ سردار بلاوجہ میرا پیچھا کرتے ہیں، لیکن میرا دل تیرے کلام سے ہی ڈرتا ہے۔
¶ مَیں تیرے کلام کی خوشی اُس کی طرح مناتا ہوں جسے کثرت کا مالِ غنیمت مل گیا ہو۔
¶ مَیں جھوٹ سے نفرت کرتا بلکہ گھن کھاتا ہوں، لیکن تیری شریعت مجھے پیاری ہے۔
¶ مَیں دن میں سات بار تیری ستائش کرتا ہوں، کیونکہ تیرے احکام راست ہیں۔
¶ جنہیں شریعت پیاری ہے اُنہیں بڑا سکون حاصل ہے، وہ کسی بھی چیز سے ٹھوکر کھا کر نہیں گریں گے۔
¶ اے رب، مَیں تیری نجات کے انتظار میں رہتے ہوئے تیرے احکام کی پیروی کرتا ہوں۔
¶ میری جان تیرے فرمانوں سے لپٹی رہتی ہے، وہ اُسے نہایت پیارے ہیں۔
¶ مَیں تیرے آئین اور ہدایات کی پیروی کرتا ہوں، کیونکہ میری تمام راہیں تیرے سامنے ہیں۔
¶ اے رب، میری آہیں تیرے سامنے آئیں، مجھے اپنے کلام کے مطابق سمجھ عطا فرما۔
¶ میری التجائیں تیرے سامنے آئیں، مجھے اپنے کلام کے مطابق چھڑا!
¶ میرے ہونٹوں سے حمد و ثنا پھوٹ نکلے، کیونکہ تُو مجھے اپنے احکام سکھاتا ہے۔
¶ میری زبان تیرے کلام کی مدح سرائی کرے، کیونکہ تیرے تمام فرمان راست ہیں۔
¶ تیرا ہاتھ میری مدد کرنے کے لئے تیار رہے، کیونکہ مَیں نے تیرے احکام اختیار کئے ہیں۔
¶ اے رب، مَیں تیری نجات کا آرزومند ہوں، تیری شریعت سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔
¶ میری جان زندہ رہے تاکہ تیری ستائش کر سکے۔ تیرے آئین میری مدد کریں۔
¶ مَیں بھٹکی ہوئی بھیڑ کی طرح آوارہ پھر رہا ہوں۔ اپنے خادم کو تلاش کر، کیونکہ مَیں تیرے احکام نہیں بھولتا۔
زبور 118 (IX)
¶ زیارت کا گیت۔ مصیبت میں مَیں نے رب کو پکارا، اور اُس نے میری سنی۔
¶ اے رب، میری جان کو جھوٹے ہونٹوں اور فریب دہ زبان سے بچا۔
¶ اے فریب دہ زبان، وہ تیرے ساتھ کیا کرے، مزید تجھے کیا دے؟
¶ وہ تجھ پر جنگجو کے تیز تیر اور دہکتے کوئلے برسائے!
¶ مجھ پر افسوس! مجھے اجنبی ملک مسک میں، قیدار کے خیموں کے پاس رہنا پڑتا ہے۔
¶ اِتنی دیر سے امن کے دشمنوں کے پاس رہنے سے میری جان تنگ آ گئی ہے۔
¶ مَیں تو امن چاہتا ہوں، لیکن جب کبھی بولوں تو وہ جنگ کرنے پر تُلے ہوتے ہیں۔
زبور 118 (X)
¶ زیارت کا گیت۔ مَیں اپنی آنکھوں کو پہاڑوں کی طرف اُٹھاتا ہوں۔ میری مدد کہاں سے آتی ہے؟
¶ میری مدد رب سے آتی ہے، جو آسمان و زمین کا خالق ہے۔
¶ وہ تیرا پاؤں پھسلنے نہیں دے گا۔ تیرا محافظ اونگھنے کا نہیں۔
¶ یقیناً اسرائیل کا محافظ نہ اونگھتا ہے، نہ سوتا ہے۔
¶ رب تیرا محافظ ہے، رب تیرے دہنے ہاتھ پر سائبان ہے۔
¶ نہ دن کو سورج، نہ رات کو چاند تجھے ضرر پہنچائے گا۔
¶ رب تجھے ہر نقصان سے بچائے گا، وہ تیری جان کو محفوظ رکھے گا۔
¶ رب اب سے ابد تک تیرے آنے جانے کی پہرا داری کرے گا۔
زبور 118 (XI)
¶ داؤد کا زیارت کا گیت۔ مَیں اُن سے خوش ہوا جنہوں نے مجھ سے کہا، ”آؤ، ہم رب کے گھر چلیں۔“
¶ اے یروشلم، اب ہمارے پاؤں تیرے دروازوں میں کھڑے ہیں۔
¶ یروشلم شہر یوں بنایا گیا ہے کہ اُس کے تمام حصے مضبوطی سے ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں۔
¶ وہاں قبیلے، ہاں رب کے قبیلے حاضر ہوتے ہیں تاکہ رب کے نام کی ستائش کریں جس طرح اسرائیل کو فرمایا گیا ہے۔
¶ کیونکہ وہاں تخت عدالت کرنے کے لئے لگائے گئے ہیں، وہاں داؤد کے گھرانے کے تخت ہیں۔
¶ یروشلم کے لئے سلامتی مانگو! ”جو تجھ سے پیار کرتے ہیں وہ سکون پائیں۔
¶ تیری فصیل میں سلامتی اور تیرے محلوں میں سکون ہو۔“
¶ اپنے بھائیوں اور ہم سایوں کی خاطر مَیں کہوں گا، ”تیرے اندر سلامتی ہو!“
¶ رب ہمارے خدا کے گھر کی خاطر مَیں تیری خوش حالی کا طالب رہوں گا۔
زبور 118 (XII)
¶ زیارت کا گیت۔ مَیں اپنی آنکھوں کو تیری طرف اُٹھاتا ہوں، تیری طرف جو آسمان پر تخت نشین ہے۔
¶ جس طرح غلام کی آنکھیں اپنے مالک کے ہاتھ کی طرف اور لونڈی کی آنکھیں اپنی مالکن کے ہاتھ کی طرف لگی رہتی ہیں اُسی طرح ہماری آنکھیں رب اپنے خدا پر لگی رہتی ہیں، جب تک وہ ہم پر مہربانی نہ کرے۔
¶ اے رب، ہم پر مہربانی کر، ہم پر مہربانی کر! کیونکہ ہم حد سے زیادہ حقارت کا نشانہ بن گئے ہیں۔
¶ سکون سے زندگی گزارنے والوں کی لعن طعن اور مغروروں کی تحقیر سے ہماری جان دوبھر ہو گئی ہے۔
زبور 118 (XIII)
¶ اسرائیل کہے، ”اگر رب ہمارے ساتھ نہ ہوتا،
¶ اگر رب ہمارے ساتھ نہ ہوتا جب لوگ ہمارے خلاف اُٹھے
¶ اور آگ بگولا ہو کر اپنا پورا غصہ ہم پر اُتارا، تو وہ ہمیں زندہ ہڑپ کر لیتے۔
¶ پھر سیلاب ہم پر ٹوٹ پڑتا، ندی کا تیز دھارا ہم پر غالب آ جاتا
¶ اور متلاطم پانی ہم پر سے گزر جاتا۔“
¶ رب کی حمد ہو جس نے ہمیں اُن کے دانتوں کے حوالے نہ کیا، ورنہ وہ ہمیں پھاڑ کھاتے۔
¶ ہماری جان اُس چڑیا کی طرح چھوٹ گئی ہے جو چڑی مار کے پھندے سے نکل کر اُڑ گئی ہے۔ پھندا ٹوٹ گیا ہے، اور ہم بچ نکلے ہیں۔
¶ رب کا نام، ہاں اُسی کا نام ہمارا سہارا ہے جو آسمان و زمین کا خالق ہے۔
زبور 118 (XIV)
¶ زیارت کا گیت۔ جو رب پر بھروسا رکھتے ہیں وہ کوہِ صیون کی مانند ہیں جو کبھی نہیں ڈگمگاتا بلکہ ابد تک قائم رہتا ہے۔
¶ جس طرح یروشلم پہاڑوں سے گھرا رہتا ہے اُسی طرح رب اپنی قوم کو اب سے ابد تک چاروں طرف سے محفوظ رکھتا ہے۔
¶ کیونکہ بےدینوں کی راست بازوں کی میراث پر حکومت نہیں رہے گی، ایسا نہ ہو کہ راست باز بدکاری کرنے کی آزمائش میں پڑ جائیں۔
¶ اے رب، اُن سے بھلائی کر جو نیک ہیں، جو دل سے سیدھی راہ پر چلتے ہیں۔
¶ لیکن جو بھٹک کر اپنی ٹیڑھی میڑھی راہوں پر چلتے ہیں اُنہیں رب بدکاروں کے ساتھ خارج کر دے۔ اسرائیل کی سلامتی ہو!
زبور 118 (XV)
¶ زیارت کا گیت۔ جب رب نے صیون کو بحال کیا تو ایسا لگ رہا تھا کہ ہم خواب دیکھ رہے ہیں۔
¶ تب ہمارا منہ ہنسی خوشی سے بھر گیا، اور ہماری زبان شادمانی کے نعرے لگانے سے رُک نہ سکی۔ تب دیگر قوموں میں کہا گیا، ”رب نے اُن کے لئے زبردست کام کیا ہے۔“
¶ رب نے واقعی ہمارے لئے زبردست کام کیا ہے۔ ہم کتنے خوش تھے، کتنے خوش!
¶ اے رب، ہمیں بحال کر۔ جس طرح موسمِ برسات میں دشتِ نجب کے خشک نالے پانی سے بھر جاتے ہیں اُسی طرح ہمیں بحال کر۔
¶ جو آنسو بہا بہا کر بیج بوئیں وہ خوشی کے نعرے لگا کر فصل کاٹیں گے۔
¶ وہ روتے ہوئے بیج بونے کے لئے نکلیں گے، لیکن جب فصل پک جائے تو خوشی کے نعرے لگا کر پُولے اُٹھائے اپنے گھر لوٹیں گے۔
زبور 118 (XVI)
¶ سلیمان کا زیارت کا گیت۔ اگر رب گھر کو تعمیر نہ کرے تو اُس پر کام کرنے والوں کی محنت عبث ہے۔ اگر رب شہر کی پہرا داری نہ کرے تو انسانی پہرے داروں کی نگہبانی عبث ہے۔
¶ یہ بھی عبث ہے کہ تم صبح سویرے اُٹھو اور پورے دن محنت مشقت کے ساتھ روزی کما کر رات گئے سو جاؤ۔ کیونکہ جو اللہ کو پیارے ہیں اُنہیں وہ اُن کی ضروریات اُن کے سوتے میں پوری کر دیتا ہے۔
¶ بچے ایسی نعمت ہیں جو ہم میراث میں رب سے پاتے ہیں، اولاد ایک اجر ہے جو وہی ہمیں دیتا ہے۔
¶ جوانی میں پیدا ہوئے بیٹے سورمے کے ہاتھ میں تیروں کی مانند ہیں۔
¶ مبارک ہے وہ آدمی جس کا ترکش اُن سے بھرا ہے۔ جب وہ شہر کے دروازے پر اپنے دشمنوں سے جھگڑے گا تو شرمندہ نہیں ہو گا۔
زبور 118 (XVII)
¶ زیارت کا گیت۔ مبارک ہے وہ جو رب کا خوف مان کر اُس کی راہوں پر چلتا ہے۔
¶ یقیناً تُو اپنی محنت کا پھل کھائے گا۔ مبارک ہو، کیونکہ تُو کامیاب ہو گا۔
¶ گھر میں تیری بیوی انگور کی پھل دار بیل کی مانند ہو گی، اور تیرے بیٹے میز کے ارد گرد بیٹھ کر زیتون کی تازہ شاخوں کی مانند ہوں گے۔
¶ جو آدمی رب کا خوف مانے اُسے ایسی ہی برکت ملے گی۔
¶ رب تجھے کوہِ صیون سے برکت دے۔ وہ کرے کہ تُو جیتے جی یروشلم کی خوش حالی دیکھے،
¶ کہ تُو اپنے پوتوں نواسوں کو بھی دیکھے۔ اسرائیل کی سلامتی ہو!
زبوُر ایک سو ستائیسواں
مبارک ہیں سب جو خداوند سے ڈرتے ہیں، جو اُس کی راہوں میں چلتے ہیں۔ تُو اپنے ہاتھوں کی کمائی کھائے گا؛ تو مبارک اور تیرا بھلا ہوگا۔ تیری بیوی تیرے گھر کے ایک طرف بارآور تاک کی مانند ہوگی؛ تیرے بیٹے تیری میز کے گرد زیتون کے پودوں کی مانند ہوں گے۔ دیکھ، یوں ہی وہ آدمی برکت پائے گا جو خداوند سے ڈرتا ہے۔ خداوند تجھے صیّون سے برکت دے، اور تُو اپنی زندگی کے سب دنوں میں یروشلیم کی اقبال مندی دیکھے؛ اور اپنے بیٹوں کے بیٹے دیکھے۔ اسرائیل پر سلامتی ہو۔ ہللویا۔
زبوُر ایک سو اٹھائیسواں
بہت بار اُنہوں نے مجھے بچپن سے ستایا—اسرائیل یوں کہے—بہت بار اُنہوں نے مجھے جوانی سے لڑا؛ تو بھی وہ مجھ پر قابو نہ پا سکے۔ بدکاروں نے میری پیٹھ کو جوتا، انہوں نے اپنی ہَل کی لمبی لمبی لکیر کھینچی۔ خداوند راست ہے؛ اُس نے شریروں کی رسیوں کو کاٹ دیا۔ صیّون سے بغض رکھنے والے سب شرمندہ ہوں اور پیچھے ہٹیں۔ وہ چھتوں کی گھاس کی مانند ہوں جو اُکھیڑے جانے سے پہلے سوکھ جاتی ہے؛ جس سے کاٹنے والے نے اپنا ہاتھ نہ بھرا، نہ گٹھیاں باندھنے والے نے اپنی جھولی۔ اور راہ گیر نہ کہیں کہ خداوند کی برکت تم پر ہو؛ ہم نے تمہیں خداوند کے نام سے برکت دی۔ ہللویا۔
(لوقا 7: 36-50) پھر ایک فریسی نے اُس سے درخواست کی کہ وہ اُس کے ساتھ کھانا کھائے؛ پس وہ فریسی کے گھر میں داخل ہو کر بیٹھ گیا۔ اور دیکھو، شہر میں ایک عورت جو گنہگار تھی؛ جب اُس نے جانا کہ وہ فریسی کے گھر میں کھانا کھانے بیٹھا ہے تو خوشبودار عطر کی شیشی لے کر آئی، اور اُس کے پیچھے اُس کے پاؤں کے پاس کھڑی ہو کر رونے لگی؛ اور اُس کے پاؤں آنسوؤں سے تر کیے اور اپنے سر کے بالوں سے پونچھے؛ اور اُس کے پاؤں چومتی اور اُن پر عطر ملتی رہی۔ جب اُس فریسی نے جس نے اُسے بلایا تھا یہ دیکھا تو اپنے دل میں کہا: اگر یہ نبی ہوتا تو جان لیتا کہ جو عورت اسے چھو رہی ہے یہ کون ہے اور کیسی ہے—کہ گنہگار ہے۔ یسوع نے جواب میں اُس سے کہا: اَے شمعون، میرے پاس تیرے لیے ایک بات ہے۔ اُس نے کہا: اے اُستاد، کہہ۔ اُس نے کہا: ایک قرض خواں کے دو قرض دار تھے؛ ایک پانسو دینار اور دوسرا پچاس کا مقروض؛ اور چونکہ اُن کے پاس ادا کرنے کو کچھ نہ تھا اُس نے دونوں کو معاف کر دیا؛ پس ان میں سے کون اُس سے زیادہ محبت رکھے گا؟ شمعون نے جواب میں کہا: میرا خیال ہے وہ جسے زیادہ معاف کیا گیا۔ اُس نے اُس سے کہا: تُو نے درست فیصلہ کیا۔ پھر اُس عورت کی طرف مُنہ کر کے شمعون سے کہا: کیا تُو اس عورت کو دیکھتا ہے؟ میں تیرے گھر آیا؛ تُو نے میرے پاؤں کے لیے پانی نہ دیا، مگر اِس نے میرے پاؤں آنسوؤں سے دھوئے اور اپنے بالوں سے پونچھے۔ تُو نے مجھے بوسہ نہ دیا، مگر یہ جب سے میں داخل ہوا ہوں میرے پاؤں چومنے سے باز نہ آئی۔ تُو نے میرے سر پر تیل نہ ڈالا، مگر اِس نے میرے پاؤں پر عطر ملا۔ اس لیے میں تجھ سے کہتا ہوں کہ اس کے بہت سے گناہ معاف ہوئے ہیں، کیونکہ اس نے بہت محبت رکھی؛ مگر جس کو تھوڑا معاف ہوتا ہے وہ تھوڑا محبت رکھتا ہے۔ پھر اُس نے اُس عورت سے کہا: تیرے گناہ معاف ہوئے۔ تب جو ساتھ بیٹھے تھے وہ اپنے دل میں کہنے لگے: یہ کون ہے جو گناہ بھی معاف کرتا ہے؟ مگر اُس نے اُس عورت سے کہا: تیرے ایمان نے تجھے بچا لیا؛ سلامتی سے جا۔ (اور ہمیشہ خدا ہی کا جلال ہو)
القطع (حصہ/تروپار)
مجھے، اَے خداوند، آنسوؤں کے بہت سارے چشمے بخش جیسے تُو نے پہلے زمانہ میں گنہگار عورت کو بخشے تھے؛ اور مجھے اس لائق بنا کہ میں تیرے اُن پاؤں کو تر کروں جنہوں نے مجھے گمراہی کی راہ سے آزاد کیا؛ اور میں تجھے نہایت نفیس عطر پیش کروں، اور توبہ کے ذریعے اپنے لیے پاکیزہ زندگی حاصل کروں؛ تاکہ میں وہ خوشی سے بھری آواز سنوں: تیرا ایمان تجھے بچا گیا۔ (ذوكصابتري كيه إيو كي آجيو ابنيفماتي Δόξα Πατρί καὶ Υἱῷ καὶ Ἁγίῳ Πνεύματι - باپ اور ابن اور روح القدس کو جلال)
جب میں اپنی بہت سی بُری اعمال پر غور کرتا ہوں اور میرے دل میں اُس ہولناک عدالت کا خیال آتا ہے تو میں کانپ اٹھتا ہوں؛ پس میں تیری طرف بھاگتا ہوں، اَے محبِّ بشر خدا؛ مجھے اپنے سے دور نہ کر۔ میں تجھ سے التجا کرتا ہوں، اَے واحد بےگناہ، کہ انجام آنے سے پہلے میری غریب جان پر خشوع عنایت کر، اور مجھے بچا۔ (كي نين، كي آ إي، كي ايستوس إي أوناس تون إي أونون آمين Καὶ νῦν καὶ ἀεὶ καὶ εἰς τοὺς αἰῶνας τῶν αἰώνων. Ἀμήν - اب بھی اور ہر زمانہ میں اور اَبدُالآباد تک، آمین)
آسمانیں تجھے مبارک کہتی ہیں، اَے فضل سے معمورہ، بے شوہر دلہن؛ اور ہم بھی تیرے ناقابلِ ادراک جنم کی تمجید کرتے ہیں؛ اَے والدۂ الٰہ، اَے رحمت اور نجات کی ماں، ہماری جانوں کی نجات کے لیے شفاعت کر۔ (كي نين، كي آ إي، كي ايستوس إي أوناس تون إي أونون آمين Καὶ νῦν καὶ ἀεὶ καὶ εἰς τοὺς αἰῶνας τῶν αἰώνων. Ἀμήν - اب بھی اور ہر زمانہ میں اور اَبدُالآباد تک، آمین)
اَے آسمانی بادشاہ، تعزیت دینے والے، سچائی کے روح، جو ہر جگہ حاضر اور سب کچھ کو بھرنے والا ہے؛ نیکیوں کا خزانہ اور حیات دینے والا؛ آ، عنایت فرما اور ہم میں سکونت کر، اور ہمیں ہر ناپاکی سے پاک کر، اَے نیکوکار، اور ہماری جانوں کی نجات کر۔ (ذوكصابتري كيه إيو كي آجيو ابنيفماتي Δόξα Πατρί καὶ Υἱῷ καὶ Ἁγίῳ Πνεύματι - باپ اور ابن اور روح القدس کو جلال)
اَے مخلّص، جیسے تُو اپنے شاگردوں کے ساتھ تھا اور انہیں سلامتی دی تھی، آ، ہمارے ساتھ بھی ہو، اور ہمیں اپنی سلامتی عطا فرما، اور ہمیں بچا اور ہماری جانوں کو نجات دے۔ (كي نين، كي آ إي، كي ايستوس إي أوناس تون إي أونون آمين Καὶ νῦν καὶ ἀεὶ καὶ εἰς τοὺς αἰῶνας τῶν αἰώνων. Ἀμήν - اب بھی اور ہر زمانہ میں اور اَبدُالآباد تک، آمین)
جب ہم تیرے مقدس ہیکل میں کھڑے ہوتے ہیں تو ہم گویا آسمان میں کھڑے سمجھے جاتے ہیں۔ اَے والدۂ الٰہ، تُو ہی آسمان کا دروازہ ہے؛ ہمارے لیے رحمت کا دروازہ کھول۔
Κύριε ἐλέησون کیریالیسون (خداوندا، رحم فرما) 41 بار
تین تقدیسات (تریساگیون)
پاک ہے خدا، پاک ہے زورآور، پاک ہے زندہ جو کبھی نہیں مرتا، جو کنواری سے پیدا ہوا، ہم پر رحم کر۔ پاک ہے خدا، پاک ہے زورآور، پاک ہے زندہ جو کبھی نہیں مرتا، جو ہمارے لیے مصلوب ہوا، ہم پر رحم کر۔ پاک ہے خدا، پاک ہے زورآور، پاک ہے زندہ جو کبھی نہیں مرتا، جو مُردوں میں سے جی اٹھا اور آسمانوں پر چڑھا، ہم پر رحم کر۔ باپ اور بیٹے اور روح القدس کو جلال، اب بھی اور ہر زمانہ میں اور دَہرُالدُّهور تک۔ آمین۔ اَے تثلیثِ اقدس، ہم پر رحم فرما۔ اَے تثلیثِ اقدس، ہم پر رحم فرما۔ اَے تثلیثِ اقدس، ہم پر رحم فرما۔
اَے رب، ہمارے گناہ معاف کر۔ اَے رب، ہماری خطائیں بخش دے۔ اَے رب، ہماری لغزشیں درگزر فرما۔ اَے رب، اپنی مقدس نام کی خاطر اپنے لوگوں کے بیماروں کی خبر لے اور انہیں شفا دے۔ ہمارے آباء اور بھائی جو سو گئے، اَے رب، اُن کی جانوں کو آرام دے۔ اَے تو جو بےگناہ ہے، اَے رب، ہم پر رحم کر۔ اَے بےگناہ رب، ہماری مدد کر، اور ہماری درخواستیں تیرے حضور قبول کر؛ کیونکہ تیرے ہی لیے جلال، عزت اور سہ گانہ تقدیس ہے۔ اَے رب رحم فرما۔ اَے رب رحم فرما۔ اَے رب برکت دے۔ آمین۔
اور ہمیں اس لائق بنا کہ ہم شکرگزاری کے ساتھ کہیں: اَے ہمارے باپ جو آسمان پر ہے۔۔۔
Tenoo oasht emmok o piekhristos nem pekyot en aghathos nem pi epnevma ethowab je akee ak soati emmon nai nan
¶ زیارت کا گیت۔ اسرائیل کہے، ”میری جوانی سے ہی میرے دشمن بار بار مجھ پر حملہ آور ہوئے ہیں۔
¶ میری جوانی سے ہی وہ بار بار مجھ پر حملہ آور ہوئے ہیں۔ توبھی وہ مجھ پر غالب نہ آئے۔“
¶ ہل چلانے والوں نے میری پیٹھ پر ہل چلا کر اُس پر اپنی لمبی لمبی ریگھاریاں بنائی ہیں۔
¶ رب راست ہے۔ اُس نے بےدینوں کے رسّے کاٹ کر مجھے آزاد کر دیا ہے۔
¶ اللہ کرے کہ جتنے بھی صیون سے نفرت رکھیں وہ شرمندہ ہو کر پیچھے ہٹ جائیں۔
¶ وہ چھتوں پر کی گھاس کی مانند ہوں جو صحیح طور پر بڑھنے سے پہلے ہی مُرجھا جاتی ہے
¶ اور جس سے نہ فصل کاٹنے والا اپنا ہاتھ، نہ پُولے باندھنے والا اپنا بازو بھر سکے۔
¶ جو بھی اُن سے گزرے وہ نہ کہے، ”رب تمہیں برکت دے۔“ ہم رب کا نام لے کر تمہیں برکت دیتے ہیں!
پھر عبادت گزار دعا کرتا ہے:
¶ زیارت کا گیت۔ اے رب، مَیں تجھے گہرائیوں سے پکارتا ہوں۔
¶ اے رب، میری آواز سن! کان لگا کر میری التجاؤں پر دھیان دے!
¶ اے رب، اگر تُو ہمارے گناہوں کا حساب کرے تو کون قائم رہے گا؟ کوئی بھی نہیں!
¶ لیکن تجھ سے معافی حاصل ہوتی ہے تاکہ تیرا خوف مانا جائے۔
¶ مَیں رب کے انتظار میں ہوں، میری جان شدت سے انتظار کرتی ہے۔ مَیں اُس کے کلام سے اُمید رکھتا ہوں۔
¶ پہرے دار جس شدت سے پَو پھٹنے کے انتظار میں رہتے ہیں، میری جان اُس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ، ہاں زیادہ شدت کے ساتھ رب کی منتظر رہتی ہے۔
¶ اے اسرائیل، رب کی راہ دیکھتا رہ! کیونکہ رب کے پاس شفقت اور فدیہ کا ٹھوس بندوبست ہے۔
¶ وہ اسرائیل کے تمام گناہوں کا فدیہ دے کر اُسے نجات دے گا۔
قدوس، قدوس، قدوس
¶ زیارت کا گیت۔ اے رب، نہ میرا دل گھمنڈی ہے، نہ میری آنکھیں مغرور ہیں۔ جو باتیں اِتنی عظیم اور حیران کن ہیں کہ مَیں اُن سے نپٹ نہیں سکتا اُنہیں مَیں نہیں چھیڑتا۔
¶ یقیناً مَیں نے اپنی جان کو راحت اور سکون دلایا ہے، اور اب وہ ماں کی گود میں بیٹھے چھوٹے بچے کی مانند ہے، ہاں میری جان چھوٹے بچے کی مانند ہے۔
¶ اے اسرائیل، اب سے ابد تک رب کے انتظار میں رہ!
ہر ساعت کا اختتام
¶ زیارت کا گیت۔ اے رب، داؤد کا خیال رکھ، اُس کی تمام مصیبتوں کو یاد کر۔
¶ اُس نے قَسم کھا کر رب سے وعدہ کیا اور یعقوب کے قوی خدا کے حضور مَنت مانی،
¶ ”نہ مَیں اپنے گھر میں داخل ہوں گا، نہ بستر پر لیٹوں گا،
¶ نہ مَیں اپنی آنکھوں کو سونے دوں گا، نہ اپنے پپوٹوں کو اونگھنے دوں گا
¶ جب تک رب کے لئے مقام اور یعقوب کے سورمے کے لئے سکونت گاہ نہ ملے۔“
¶ ہم نے اِفراتہ میں عہد کے صندوق کی خبر سنی اور یعر کے کھلے میدان میں اُسے پا لیا۔
¶ آؤ، ہم اُس کی سکونت گاہ میں داخل ہو کر اُس کے پاؤں کی چوکی کے سامنے سجدہ کریں۔
¶ اے رب، اُٹھ کر اپنی آرام گاہ کے پاس آ، تُو اور عہد کا صندوق جو تیری قدرت کا اظہار ہے۔
¶ تیرے امام راستی سے ملبّس ہو جائیں، اور تیرے ایمان دار خوشی کے نعرے لگائیں۔
¶ اے اللہ، اپنے خادم داؤد کی خاطر اپنے مسح کئے ہوئے بندے کے چہرے کو رد نہ کر۔
¶ رب نے قَسم کھا کر داؤد سے وعدہ کیا ہے، اور وہ اُس سے کبھی نہیں پھرے گا، ”مَیں تیری اولاد میں سے ایک کو تیرے تخت پر بٹھاؤں گا۔
¶ اگر تیرے بیٹے میرے عہد کے وفادار رہیں اور اُن احکام کی پیروی کریں جو مَیں اُنہیں سکھاؤں گا تو اُن کے بیٹے بھی ہمیشہ تک تیرے تخت پر بیٹھیں گے۔“
¶ کیونکہ رب نے کوہِ صیون کو چن لیا ہے، اور وہی وہاں سکونت کرنے کا آرزومند تھا۔
¶ اُس نے فرمایا، ”یہ ہمیشہ تک میری آرام گاہ ہے، اور یہاں مَیں سکونت کروں گا، کیونکہ مَیں اِس کا آرزومند ہوں۔
¶ مَیں صیون کی خوراک کو کثرت کی برکت دے کر اُس کے غریبوں کو روٹی سے سیر کروں گا۔
¶ مَیں اُس کے اماموں کو نجات سے ملبّس کروں گا، اور اُس کے ایمان دار خوشی سے زوردار نعرے لگائیں گے۔
¶ یہاں مَیں داؤد کی طاقت بڑھا دوں گا، اور یہاں مَیں نے اپنے مسح کئے ہوئے خادم کے لئے چراغ تیار کر رکھا ہے۔
¶ مَیں اُس کے دشمنوں کو شرمندگی سے ملبّس کروں گا جبکہ اُس کے سر کا تاج چمکتا رہے گا۔“
دوسرا پہر
¶ داؤد کا زبور۔ زیارت کا گیت۔ جب بھائی مل کر اور یگانگت سے رہتے ہیں یہ کتنا اچھا اور پیارا ہے۔
¶ یہ اُس نفیس تیل کی مانند ہے جو ہارون امام کے سر پر اُنڈیلا جاتا ہے اور ٹپک ٹپک کر اُس کی داڑھی اور لباس کے گریبان پر آ جاتا ہے۔
¶ یہ اُس اوس کی مانند ہے جو کوہِ حرمون سے صیون کے پہاڑوں پر پڑتی ہے۔ کیونکہ رب نے فرمایا ہے، ”وہیں ہمیشہ تک برکت اور زندگی ملے گی۔“
زبور 119
¶ مبارک ہیں وہ جن کا چال چلن بےالزام ہے، جو رب کی شریعت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔
¶ مبارک ہیں وہ جو اُس کے احکام پر عمل کرتے اور پورے دل سے اُس کے طالب رہتے ہیں،
¶ جو بدی نہیں کرتے بلکہ اُس کی راہوں پر چلتے ہیں۔
¶ تُو نے ہمیں اپنے احکام دیئے ہیں، اور تُو چاہتا ہے کہ ہم ہر لحاظ سے اُن کے تابع رہیں۔
¶ کاش میری راہیں اِتنی پختہ ہوں کہ مَیں ثابت قدمی سے تیرے احکام پر عمل کروں!
¶ تب مَیں شرمندہ نہیں ہوں گا، کیونکہ میری آنکھیں تیرے تمام احکام پر لگی رہیں گی۔
¶ جتنا مَیں تیرے باانصاف فیصلوں کے بارے میں سیکھوں گا اُتنا ہی دیانت دار دل سے تیری ستائش کروں گا۔
¶ تیرے احکام پر مَیں ہر وقت عمل کروں گا۔ مجھے پوری طرح ترک نہ کر!
¶ نوجوان اپنی راہ کو کس طرح پاک رکھے؟ اِس طرح کہ تیرے کلام کے مطابق زندگی گزارے۔
¶ مَیں پورے دل سے تیرا طالب رہا ہوں۔ مجھے اپنے احکام سے بھٹکنے نہ دے۔
¶ مَیں نے تیرا کلام اپنے دل میں محفوظ رکھا ہے تاکہ تیرا گناہ نہ کروں۔
¶ اے رب، تیری حمد ہو! مجھے اپنے احکام سکھا۔
¶ اپنے ہونٹوں سے مَیں دوسروں کو تیرے منہ کی تمام ہدایات سناتا ہوں۔
¶ مَیں تیرے احکام کی راہ سے اُتنا لطف اندوز ہوتا ہوں جتنا کہ ہر طرح کی دولت سے۔
¶ مَیں تیری ہدایات میں محوِ خیال رہوں گا اور تیری راہوں کو تکتا رہوں گا۔
¶ مَیں تیرے فرمانوں سے لطف اندوز ہوتا ہوں اور تیرا کلام نہیں بھولتا۔
¶ اپنے خادم سے بھلائی کر تاکہ مَیں زندہ رہوں اور تیرے کلام کے مطابق زندگی گزاروں۔
¶ میری آنکھوں کو کھول تاکہ تیری شریعت کے عجائب دیکھوں۔
¶ دنیا میں مَیں پردیسی ہی ہوں۔ اپنے احکام مجھ سے چھپائے نہ رکھ!
¶ میری جان ہر وقت تیری ہدایات کی آرزو کرتے کرتے نڈھال ہو رہی ہے۔
¶ تُو مغروروں کو ڈانٹتا ہے۔ اُن پر لعنت جو تیرے احکام سے بھٹک جاتے ہیں!
¶ مجھے لوگوں کی توہین اور تحقیر سے رِہائی دے، کیونکہ مَیں تیرے احکام کے تابع رہا ہوں۔
¶ گو بزرگ میرے خلاف منصوبے باندھنے کے لئے بیٹھ گئے ہیں، تیرا خادم تیرے احکام میں محوِ خیال رہتا ہے۔
¶ تیرے احکام سے ہی مَیں لطف اُٹھاتا ہوں، وہی میرے مشیر ہیں۔
¶ میری جان خاک میں دب گئی ہے۔ اپنے کلام کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔
¶ مَیں نے اپنی راہیں بیان کیں تو تُو نے میری سنی۔ مجھے اپنے احکام سکھا۔
¶ مجھے اپنے احکام کی راہ سمجھنے کے قابل بنا تاکہ تیرے عجائب میں محوِ خیال رہوں۔
¶ میری جان دُکھ کے مارے نڈھال ہو گئی ہے۔ مجھے اپنے کلام کے مطابق تقویت دے۔
¶ فریب کی راہ مجھ سے دُور رکھ اور مجھے اپنی شریعت سے نواز۔
¶ مَیں نے وفا کی راہ اختیار کر کے تیرے آئین اپنے سامنے رکھے ہیں۔
¶ مَیں تیرے احکام سے لپٹا رہتا ہوں۔ اے رب، مجھے شرمندہ نہ ہونے دے۔
¶ مَیں تیرے فرمانوں کی راہ پر دوڑتا ہوں، کیونکہ تُو نے میرے دل کو کشادگی بخشی ہے۔
¶ اے رب، مجھے اپنے آئین کی راہ سکھا تو مَیں عمر بھر اُن پر عمل کروں گا۔
¶ مجھے سمجھ عطا کر تاکہ تیری شریعت کے مطابق زندگی گزاروں اور پورے دل سے اُس کے تابع رہوں۔
¶ اپنے احکام کی راہ پر میری راہنمائی کر، کیونکہ یہی مَیں پسند کرتا ہوں۔
¶ میرے دل کو لالچ میں آنے نہ دے بلکہ اُسے اپنے فرمانوں کی طرف مائل کر۔
¶ میری آنکھوں کو باطل چیزوں سے پھیر لے، اور مجھے اپنی راہوں پر سنبھال کر میری جان کو تازہ دم کر۔
¶ جو وعدہ تُو نے اپنے خادم سے کیا وہ پورا کر تاکہ لوگ تیرا خوف مانیں۔
¶ جس رُسوائی سے مجھے خوف ہے اُس کا خطرہ دُور کر، کیونکہ تیرے احکام اچھے ہیں۔
¶ مَیں تیری ہدایات کا شدید آرزومند ہوں، اپنی راستی سے میری جان کو تازہ دم کر۔
¶ اے رب، تیری شفقت اور وہ نجات جس کا وعدہ تُو نے کیا ہے مجھ تک پہنچے
¶ تاکہ مَیں بےعزتی کرنے والے کو جواب دے سکوں۔ کیونکہ مَیں تیرے کلام پر بھروسا رکھتا ہوں۔
¶ میرے منہ سے سچائی کا کلام نہ چھین، کیونکہ مَیں تیرے فرمانوں کے انتظار میں ہوں۔
¶ مَیں ہر وقت تیری شریعت کی پیروی کروں گا، اب سے ابد تک اُس میں قائم رہوں گا۔
¶ مَیں کھلے میدان میں چلتا پھروں گا، کیونکہ تیرے آئین کا طالب رہتا ہوں۔
¶ مَیں شرم کئے بغیر بادشاہوں کے سامنے تیرے احکام بیان کروں گا۔
¶ مَیں تیرے فرمانوں سے لطف اندوز ہوتا ہوں، وہ مجھے پیارے ہیں۔
¶ مَیں اپنے ہاتھ تیرے فرمانوں کی طرف اُٹھاؤں گا، کیونکہ وہ مجھے پیارے ہیں۔ مَیں تیری ہدایات میں محوِ خیال رہوں گا۔
¶ اُس بات کا خیال رکھ جو تُو نے اپنے خادم سے کی اور جس سے تُو نے مجھے اُمید دلائی ہے۔
¶ مصیبت میں یہی تسلی کا باعث رہا ہے کہ تیرا کلام میری جان کو تازہ دم کرتا ہے۔
¶ مغرور میرا حد سے زیادہ مذاق اُڑاتے ہیں، لیکن مَیں تیری شریعت سے دُور نہیں ہوتا۔
¶ اے رب، مَیں تیرے قدیم فرمان یاد کرتا ہوں تو مجھے تسلی ملتی ہے۔
¶ بےدینوں کو دیکھ کر مَیں آگ بگولا ہو جاتا ہوں، کیونکہ اُنہوں نے تیری شریعت کو ترک کیا ہے۔
¶ جس گھر میں مَیں پردیسی ہوں اُس میں مَیں تیرے احکام کے گیت گاتا رہتا ہوں۔
¶ اے رب، رات کو مَیں تیرا نام یاد کرتا ہوں، تیری شریعت پر عمل کرتا رہتا ہوں۔
¶ یہ تیری بخشش ہے کہ مَیں تیرے آئین کی پیروی کرتا ہوں۔
¶ رب میری میراث ہے۔ مَیں نے تیرے فرمانوں پر عمل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
¶ مَیں پورے دل سے تیری شفقت کا طالب رہا ہوں۔ اپنے وعدے کے مطابق مجھ پر مہربانی کر۔
¶ مَیں نے اپنی راہوں پر دھیان دے کر تیرے احکام کی طرف قدم بڑھائے ہیں۔
¶ مَیں نہیں جھجکتا بلکہ بھاگ کر تیرے احکام پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
¶ بےدینوں کے رسّوں نے مجھے جکڑ لیا ہے، لیکن مَیں تیری شریعت نہیں بھولتا۔
¶ آدھی رات کو مَیں جاگ اُٹھتا ہوں تاکہ تیرے راست فرمانوں کے لئے تیرا شکر کروں۔
¶ مَیں اُن سب کا ساتھی ہوں جو تیرا خوف مانتے ہیں، اُن سب کا دوست جو تیری ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔
¶ اے رب، دنیا تیری شفقت سے معمور ہے۔ مجھے اپنے احکام سکھا!
¶ اے رب، تُو نے اپنے کلام کے مطابق اپنے خادم سے بھلائی کی ہے۔
¶ مجھے صحیح امتیاز اور عرفان سکھا، کیونکہ مَیں تیرے احکام پر ایمان رکھتا ہوں۔
¶ اِس سے پہلے کہ مجھے پست کیا گیا مَیں آوارہ پھرتا تھا، لیکن اب مَیں تیرے کلام کے تابع رہتا ہوں۔
¶ تُو بھلا ہے اور بھلائی کرتا ہے۔ مجھے اپنے آئین سکھا!
¶ مغروروں نے جھوٹ بول کر مجھ پر کیچڑ اُچھالی ہے، لیکن مَیں پورے دل سے تیری ہدایات کی فرماں برداری کرتا ہوں۔
¶ اُن کے دل اکڑ کر بےحس ہو گئے ہیں، لیکن مَیں تیری شریعت سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔
¶ میرے لئے اچھا تھا کہ مجھے پست کیا گیا، کیونکہ اِس طرح مَیں نے تیرے احکام سیکھ لئے۔
¶ جو شریعت تیرے منہ سے صادر ہوئی ہے وہ مجھے سونے چاندی کے ہزاروں سِکوں سے زیادہ پسند ہے۔
¶ تیرے ہاتھوں نے مجھے بنا کر مضبوط بنیاد پر رکھ دیا ہے۔ مجھے سمجھ عطا فرما تاکہ تیرے احکام سیکھ لوں۔
¶ جو تیرا خوف مانتے ہیں وہ مجھے دیکھ کر خوش ہو جائیں، کیونکہ مَیں تیرے کلام کے انتظار میں رہتا ہوں۔
¶ اے رب، مَیں نے جان لیا ہے کہ تیرے فیصلے راست ہیں۔ یہ بھی تیری وفاداری کا اظہار ہے کہ تُو نے مجھے پست کیا ہے۔
¶ تیری شفقت مجھے تسلی دے، جس طرح تُو نے اپنے خادم سے وعدہ کیا ہے۔
¶ مجھ پر اپنے رحم کا اظہار کر تاکہ میری جان میں جان آئے، کیونکہ مَیں تیری شریعت سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔
¶ جو مغرور مجھے جھوٹ سے پست کر رہے ہیں وہ شرمندہ ہو جائیں۔ لیکن مَیں تیرے فرمانوں میں محوِ خیال رہوں گا۔
¶ کاش جو تیرا خوف مانتے اور تیرے احکام جانتے ہیں وہ میرے پاس واپس آئیں!
¶ میرا دل تیرے آئین کی پیروی کرنے میں بےالزام رہے تاکہ میری رُسوائی نہ ہو جائے۔
¶ میری جان تیری نجات کی آرزو کرتے کرتے نڈھال ہو رہی ہے، مَیں تیرے کلام کے انتظار میں ہوں۔
¶ میری آنکھیں تیرے وعدے کی راہ دیکھتے دیکھتے دُھندلا رہی ہیں۔ تُو مجھے کب تسلی دے گا؟
¶ مَیں دھوئیں میں سکڑی ہوئی مشک کی مانند ہوں لیکن تیرے فرمانوں کو نہیں بھولتا۔
¶ تیرے خادم کو مزید کتنی دیر انتظار کرنا پڑے گا؟ تُو میرا تعاقب کرنے والوں کی عدالت کب کرے گا؟
¶ جو مغرور تیری شریعت کے تابع نہیں ہوتے اُنہوں نے مجھے پھنسانے کے لئے گڑھے کھود لئے ہیں۔
¶ تیرے تمام احکام پُروفا ہیں۔ میری مدد کر، کیونکہ وہ جھوٹ کا سہارا لے کر میرا تعاقب کر رہے ہیں۔
¶ وہ مجھے رُوئے زمین پر سے مٹانے کے قریب ہی ہیں، لیکن مَیں نے تیرے آئین کو ترک نہیں کیا۔
¶ اپنی شفقت کا اظہار کر کے میری جان کو تازہ دم کر تاکہ تیرے منہ کے فرمانوں پر عمل کروں۔
¶ اے رب، تیرا کلام ابد تک آسمان پر قائم و دائم ہے۔
¶ تیری وفاداری پشت در پشت رہتی ہے۔ تُو نے زمین کی بنیاد رکھی، اور وہ وہیں کی وہیں برقرار رہتی ہے۔
¶ آج تک آسمان و زمین تیرے فرمانوں کو پورا کرنے کے لئے حاضر رہتے ہیں، کیونکہ تمام چیزیں تیری خدمت کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں۔
¶ اگر تیری شریعت میری خوشی نہ ہوتی تو مَیں اپنی مصیبت میں ہلاک ہو گیا ہوتا۔
¶ مَیں تیری ہدایات کبھی نہیں بھولوں گا، کیونکہ اُن ہی کے ذریعے تُو میری جان کو تازہ دم کرتا ہے۔
¶ مَیں تیرا ہی ہوں، مجھے بچا! کیونکہ مَیں تیرے احکام کا طالب رہا ہوں۔
¶ بےدین میری تاک میں بیٹھ گئے ہیں تاکہ مجھے مار ڈالیں، لیکن مَیں تیرے آئین پر دھیان دیتا رہوں گا۔
¶ مَیں نے دیکھا ہے کہ ہر کامل چیز کی حد ہوتی ہے، لیکن تیرے فرمان کی کوئی حد نہیں ہوتی۔
¶ تیری شریعت مجھے کتنی پیاری ہے! دن بھر مَیں اُس میں محوِ خیال رہتا ہوں۔
¶ تیرا فرمان مجھے میرے دشمنوں سے زیادہ دانش مند بنا دیتا ہے، کیونکہ وہ ہمیشہ تک میرا خزانہ ہے۔
¶ مجھے اپنے تمام اُستادوں سے زیادہ سمجھ حاصل ہے، کیونکہ مَیں تیرے آئین میں محوِ خیال رہتا ہوں۔
¶ مجھے بزرگوں سے زیادہ سمجھ حاصل ہے، کیونکہ مَیں وفاداری سے تیرے احکام کی پیروی کرتا ہوں۔
¶ مَیں نے ہر بُری راہ پر قدم رکھنے سے گریز کیا ہے تاکہ تیرے کلام سے لپٹا رہوں۔
¶ مَیں تیرے فرمانوں سے دُور نہیں ہوا، کیونکہ تُو ہی نے مجھے تعلیم دی ہے۔
¶ تیرا کلام کتنا لذیذ ہے، وہ میرے منہ میں شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔
¶ تیرے احکام سے مجھے سمجھ حاصل ہوتی ہے، اِس لئے مَیں جھوٹ کی ہر راہ سے نفرت کرتا ہوں۔
¶ تیرا کلام میرے پاؤں کے لئے چراغ ہے جو میری راہ کو روشن کرتا ہے۔
¶ مَیں نے قَسم کھائی ہے کہ تیرے راست فرمانوں کی پیروی کروں گا، اور مَیں یہ وعدہ پورا بھی کروں گا۔
¶ مجھے بہت پست کیا گیا ہے۔ اے رب، اپنے کلام کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔
¶ اے رب، میرے منہ کی رضاکارانہ قربانیوں کو پسند کر اور مجھے اپنے آئین سکھا!
¶ میری جان ہمیشہ خطرے میں ہے، لیکن مَیں تیری شریعت نہیں بھولتا۔
¶ بےدینوں نے میرے لئے پھندا تیار کر رکھا ہے، لیکن مَیں تیرے فرمانوں سے نہیں بھٹکا۔
¶ تیرے احکام میری ابدی میراث بن گئے ہیں، کیونکہ اُن سے میرا دل خوشی سے اُچھلتا ہے۔
¶ مَیں نے اپنا دل تیرے احکام پر عمل کرنے کی طرف مائل کیا ہے، کیونکہ اِس کا اجر ابدی ہے۔
¶ مَیں دو دلوں سے نفرت لیکن تیری شریعت سے محبت کرتا ہوں۔
¶ تُو میری پناہ گاہ اور میری ڈھال ہے، مَیں تیرے کلام کے انتظار میں رہتا ہوں۔
¶ اے بدکارو، مجھ سے دُور ہو جاؤ، کیونکہ مَیں اپنے خدا کے احکام سے لپٹا رہوں گا۔
¶ اپنے فرمان کے مطابق مجھے سنبھال تاکہ زندہ رہوں۔ میری آس ٹوٹنے نہ دے تاکہ شرمندہ نہ ہو جاؤں۔
¶ میرا سہارا بن تاکہ بچ کر ہر وقت تیرے آئین کا لحاظ رکھوں۔
¶ تُو اُن سب کو رد کرتا ہے جو تیرے احکام سے بھٹکے پھرتے ہیں، کیونکہ اُن کی دھوکے بازی فریب ہی ہے۔
¶ تُو زمین کے تمام بےدینوں کو ناپاک چاندی سے خارج کی ہوئی مَیل کی طرح پھینک کر نیست کر دیتا ہے، اِس لئے تیرے فرمان مجھے پیارے ہیں۔
¶ میرا جسم تجھ سے دہشت کھا کر تھرتھراتا ہے، اور مَیں تیرے فیصلوں سے ڈرتا ہوں۔
¶ مَیں نے راست اور باانصاف کام کیا ہے، چنانچہ مجھے اُن کے حوالے نہ کر جو مجھ پر ظلم کرتے ہیں۔
¶ اپنے خادم کی خوش حالی کا ضامن بن کر مغروروں کو مجھ پر ظلم کرنے نہ دے۔
¶ میری آنکھیں تیری نجات اور تیرے راست وعدے کی راہ دیکھتے دیکھتے رہ گئی ہیں۔
¶ اپنے خادم سے تیرا سلوک تیری شفقت کے مطابق ہو۔ مجھے اپنے احکام سکھا۔
¶ مَیں تیرا ہی خادم ہوں۔ مجھے فہم عطا فرما تاکہ تیرے آئین کی پوری سمجھ آئے۔
¶ اب وقت آ گیا ہے کہ رب قدم اُٹھائے، کیونکہ لوگوں نے تیری شریعت کو توڑ ڈالا ہے۔
¶ اِس لئے مَیں تیرے احکام کو سونے بلکہ خالص سونے سے زیادہ پیار کرتا ہوں۔
¶ اِس لئے مَیں احتیاط سے تیرے تمام آئین کے مطابق زندگی گزارتا ہوں۔ مَیں ہر فریب دہ راہ سے نفرت کرتا ہوں۔
¶ تیرے احکام تعجب انگیز ہیں، اِس لئے میری جان اُن پر عمل کرتی ہے۔
¶ تیرے کلام کا انکشاف روشنی بخشتا اور سادہ لوح کو سمجھ عطا کرتا ہے۔
¶ مَیں تیرے فرمانوں کے لئے اِتنا پیاسا ہوں کہ منہ کھول کر ہانپ رہا ہوں۔
¶ میری طرف رجوع فرما اور مجھ پر وہی مہربانی کر جو تُو اُن سب پر کرتا ہے جو تیرے نام سے پیار کرتے ہیں۔
¶ اپنے کلام سے میرے قدم مضبوط کر، کسی بھی گناہ کو مجھ پر حکومت نہ کرنے دے۔
¶ فدیہ دے کر مجھے انسان کے ظلم سے چھٹکارا دے تاکہ مَیں تیرے احکام کے تابع رہوں۔
¶ اپنے چہرے کا نور اپنے خادم پر چمکا اور مجھے اپنے احکام سکھا۔
¶ میری آنکھوں سے آنسوؤں کی ندیاں بہہ رہی ہیں، کیونکہ لوگ تیری شریعت کے تابع نہیں رہتے۔
¶ اے رب، تُو راست ہے، اور تیرے فیصلے درست ہیں۔
¶ تُو نے راستی اور بڑی وفاداری کے ساتھ اپنے فرمان جاری کئے ہیں۔
¶ میری جان غیرت کے باعث تباہ ہو گئی ہے، کیونکہ میرے دشمن تیرے فرمان بھول گئے ہیں۔
¶ تیرا کلام آزما کر پاک صاف ثابت ہوا ہے، تیرا خادم اُسے پیار کرتا ہے۔
¶ مجھے ذلیل اور حقیر جانا جاتا ہے، لیکن مَیں تیرے آئین نہیں بھولتا۔
¶ تیری راستی ابدی ہے، اور تیری شریعت سچائی ہے۔
¶ مصیبت اور پریشانی مجھ پر غالب آ گئی ہیں، لیکن مَیں تیرے احکام سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔
¶ تیرے احکام ابد تک راست ہیں۔ مجھے سمجھ عطا فرما تاکہ مَیں جیتا رہوں۔
¶ مَیں پورے دل سے پکارتا ہوں، ”اے رب، میری سن! مَیں تیرے آئین کے مطابق زندگی گزاروں گا۔“
¶ مَیں پکارتا ہوں، ”مجھے بچا! مَیں تیرے احکام کی پیروی کروں گا۔“
¶ پَو پھٹنے سے پہلے پہلے مَیں اُٹھ کر مدد کے لئے پکارتا ہوں۔ مَیں تیرے کلام کے انتظار میں ہوں۔
¶ رات کے وقت ہی میری آنکھیں کھل جاتی ہیں تاکہ تیرے کلام پر غور و خوض کروں۔
¶ اپنی شفقت کے مطابق میری آواز سن! اے رب، اپنے فرمانوں کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔
¶ جو چالاکی سے میرا تعاقب کر رہے ہیں وہ قریب پہنچ گئے ہیں۔ لیکن وہ تیری شریعت سے انتہائی دُور ہیں۔
¶ اے رب، تُو قریب ہی ہے، اور تیرے احکام سچائی ہیں۔
¶ بڑی دیر پہلے مجھے تیرے فرمانوں سے معلوم ہوا ہے کہ تُو نے اُنہیں ہمیشہ کے لئے قائم رکھا ہے۔
¶ میری مصیبت کا خیال کر کے مجھے بچا! کیونکہ مَیں تیری شریعت نہیں بھولتا۔
¶ عدالت میں میرے حق میں لڑ کر میرا عوضانہ دے تاکہ میری جان چھوٹ جائے۔ اپنے وعدے کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔
¶ نجات بےدینوں سے بہت دُور ہے، کیونکہ وہ تیرے احکام کے طالب نہیں ہوتے۔
¶ اے رب، تُو متعدد طریقوں سے اپنے رحم کا اظہار کرتا ہے۔ اپنے آئین کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔
¶ میرا تعاقب کرنے والوں اور میرے دشمنوں کی بڑی تعداد ہے، لیکن مَیں تیرے احکام سے دُور نہیں ہوا۔
¶ بےوفاؤں کو دیکھ کر مجھے گھن آتی ہے، کیونکہ وہ تیرے کلام کے مطابق زندگی نہیں گزارتے۔
¶ دیکھ، مجھے تیرے احکام سے پیار ہے۔ اے رب، اپنی شفقت کے مطابق میری جان کو تازہ دم کر۔
¶ تیرے کلام کا لُبِ لباب سچائی ہے، تیرے تمام راست فرمان ابد تک قائم ہیں۔
¶ سردار بلاوجہ میرا پیچھا کرتے ہیں، لیکن میرا دل تیرے کلام سے ہی ڈرتا ہے۔
¶ مَیں تیرے کلام کی خوشی اُس کی طرح مناتا ہوں جسے کثرت کا مالِ غنیمت مل گیا ہو۔
¶ مَیں جھوٹ سے نفرت کرتا بلکہ گھن کھاتا ہوں، لیکن تیری شریعت مجھے پیاری ہے۔
¶ مَیں دن میں سات بار تیری ستائش کرتا ہوں، کیونکہ تیرے احکام راست ہیں۔
¶ جنہیں شریعت پیاری ہے اُنہیں بڑا سکون حاصل ہے، وہ کسی بھی چیز سے ٹھوکر کھا کر نہیں گریں گے۔
¶ اے رب، مَیں تیری نجات کے انتظار میں رہتے ہوئے تیرے احکام کی پیروی کرتا ہوں۔
¶ میری جان تیرے فرمانوں سے لپٹی رہتی ہے، وہ اُسے نہایت پیارے ہیں۔
¶ مَیں تیرے آئین اور ہدایات کی پیروی کرتا ہوں، کیونکہ میری تمام راہیں تیرے سامنے ہیں۔
¶ اے رب، میری آہیں تیرے سامنے آئیں، مجھے اپنے کلام کے مطابق سمجھ عطا فرما۔
¶ میری التجائیں تیرے سامنے آئیں، مجھے اپنے کلام کے مطابق چھڑا!
¶ میرے ہونٹوں سے حمد و ثنا پھوٹ نکلے، کیونکہ تُو مجھے اپنے احکام سکھاتا ہے۔
¶ میری زبان تیرے کلام کی مدح سرائی کرے، کیونکہ تیرے تمام فرمان راست ہیں۔
¶ تیرا ہاتھ میری مدد کرنے کے لئے تیار رہے، کیونکہ مَیں نے تیرے احکام اختیار کئے ہیں۔
¶ اے رب، مَیں تیری نجات کا آرزومند ہوں، تیری شریعت سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔
¶ میری جان زندہ رہے تاکہ تیری ستائش کر سکے۔ تیرے آئین میری مدد کریں۔
¶ مَیں بھٹکی ہوئی بھیڑ کی طرح آوارہ پھر رہا ہوں۔ اپنے خادم کو تلاش کر، کیونکہ مَیں تیرے احکام نہیں بھولتا۔
زبور 120
¶ زیارت کا گیت۔ مصیبت میں مَیں نے رب کو پکارا، اور اُس نے میری سنی۔
¶ اے رب، میری جان کو جھوٹے ہونٹوں اور فریب دہ زبان سے بچا۔
¶ اے فریب دہ زبان، وہ تیرے ساتھ کیا کرے، مزید تجھے کیا دے؟
¶ وہ تجھ پر جنگجو کے تیز تیر اور دہکتے کوئلے برسائے!
¶ مجھ پر افسوس! مجھے اجنبی ملک مسک میں، قیدار کے خیموں کے پاس رہنا پڑتا ہے۔
¶ اِتنی دیر سے امن کے دشمنوں کے پاس رہنے سے میری جان تنگ آ گئی ہے۔
¶ مَیں تو امن چاہتا ہوں، لیکن جب کبھی بولوں تو وہ جنگ کرنے پر تُلے ہوتے ہیں۔
زبور 121
¶ زیارت کا گیت۔ مَیں اپنی آنکھوں کو پہاڑوں کی طرف اُٹھاتا ہوں۔ میری مدد کہاں سے آتی ہے؟
¶ میری مدد رب سے آتی ہے، جو آسمان و زمین کا خالق ہے۔
¶ وہ تیرا پاؤں پھسلنے نہیں دے گا۔ تیرا محافظ اونگھنے کا نہیں۔
¶ یقیناً اسرائیل کا محافظ نہ اونگھتا ہے، نہ سوتا ہے۔
¶ رب تیرا محافظ ہے، رب تیرے دہنے ہاتھ پر سائبان ہے۔
¶ نہ دن کو سورج، نہ رات کو چاند تجھے ضرر پہنچائے گا۔
¶ رب تجھے ہر نقصان سے بچائے گا، وہ تیری جان کو محفوظ رکھے گا۔
¶ رب اب سے ابد تک تیرے آنے جانے کی پہرا داری کرے گا۔
زبور 122
¶ داؤد کا زیارت کا گیت۔ مَیں اُن سے خوش ہوا جنہوں نے مجھ سے کہا، ”آؤ، ہم رب کے گھر چلیں۔“
¶ اے یروشلم، اب ہمارے پاؤں تیرے دروازوں میں کھڑے ہیں۔
¶ یروشلم شہر یوں بنایا گیا ہے کہ اُس کے تمام حصے مضبوطی سے ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں۔
¶ وہاں قبیلے، ہاں رب کے قبیلے حاضر ہوتے ہیں تاکہ رب کے نام کی ستائش کریں جس طرح اسرائیل کو فرمایا گیا ہے۔
¶ کیونکہ وہاں تخت عدالت کرنے کے لئے لگائے گئے ہیں، وہاں داؤد کے گھرانے کے تخت ہیں۔
¶ یروشلم کے لئے سلامتی مانگو! ”جو تجھ سے پیار کرتے ہیں وہ سکون پائیں۔
¶ تیری فصیل میں سلامتی اور تیرے محلوں میں سکون ہو۔“
¶ اپنے بھائیوں اور ہم سایوں کی خاطر مَیں کہوں گا، ”تیرے اندر سلامتی ہو!“
¶ رب ہمارے خدا کے گھر کی خاطر مَیں تیری خوش حالی کا طالب رہوں گا۔
زبور 123
¶ زیارت کا گیت۔ مَیں اپنی آنکھوں کو تیری طرف اُٹھاتا ہوں، تیری طرف جو آسمان پر تخت نشین ہے۔
¶ جس طرح غلام کی آنکھیں اپنے مالک کے ہاتھ کی طرف اور لونڈی کی آنکھیں اپنی مالکن کے ہاتھ کی طرف لگی رہتی ہیں اُسی طرح ہماری آنکھیں رب اپنے خدا پر لگی رہتی ہیں، جب تک وہ ہم پر مہربانی نہ کرے۔
¶ اے رب، ہم پر مہربانی کر، ہم پر مہربانی کر! کیونکہ ہم حد سے زیادہ حقارت کا نشانہ بن گئے ہیں۔
¶ سکون سے زندگی گزارنے والوں کی لعن طعن اور مغروروں کی تحقیر سے ہماری جان دوبھر ہو گئی ہے۔
زبور 124
¶ اسرائیل کہے، ”اگر رب ہمارے ساتھ نہ ہوتا،
¶ اگر رب ہمارے ساتھ نہ ہوتا جب لوگ ہمارے خلاف اُٹھے
¶ اور آگ بگولا ہو کر اپنا پورا غصہ ہم پر اُتارا، تو وہ ہمیں زندہ ہڑپ کر لیتے۔
¶ پھر سیلاب ہم پر ٹوٹ پڑتا، ندی کا تیز دھارا ہم پر غالب آ جاتا
¶ اور متلاطم پانی ہم پر سے گزر جاتا۔“
¶ رب کی حمد ہو جس نے ہمیں اُن کے دانتوں کے حوالے نہ کیا، ورنہ وہ ہمیں پھاڑ کھاتے۔
¶ ہماری جان اُس چڑیا کی طرح چھوٹ گئی ہے جو چڑی مار کے پھندے سے نکل کر اُڑ گئی ہے۔ پھندا ٹوٹ گیا ہے، اور ہم بچ نکلے ہیں۔
¶ رب کا نام، ہاں اُسی کا نام ہمارا سہارا ہے جو آسمان و زمین کا خالق ہے۔
زبور 125
¶ رب کی حمد ہو! اپنے خدا کی مدح سرائی کرنا کتنا بھلا ہے، اُس کی تمجید کرنا کتنا پیارا اور خوب صورت ہے۔
¶ رب یروشلم کو تعمیر کرتا اور اسرائیل کے منتشر جلاوطنوں کو جمع کرتا ہے۔
¶ وہ دل شکستوں کو شفا دے کر اُن کے زخموں پر مرہم پٹی لگاتا ہے۔
¶ وہ ستاروں کی تعداد گن لیتا اور ہر ایک کا نام لے کر اُنہیں بُلاتا ہے۔
¶ ہمارا رب عظیم ہے، اور اُس کی قدرت زبردست ہے۔ اُس کی حکمت کی کوئی انتہا نہیں۔
¶ رب مصیبت زدوں کو اُٹھا کھڑا کرتا لیکن بدکاروں کو خاک میں ملا دیتا ہے۔
¶ رب کی تمجید میں شکر کا گیت گاؤ، ہمارے خدا کی خوشی میں سرود بجاؤ۔
¶ کیونکہ وہ آسمان پر بادل چھانے دیتا، زمین کو بارش مہیا کرتا اور پہاڑوں پر گھاس پھوٹنے دیتا ہے۔
¶ وہ مویشی کو چارا اور کوّے کے بچوں کو وہ کچھ کھلاتا ہے جو وہ شور مچا کر مانگتے ہیں۔
¶ نہ وہ گھوڑے کی طاقت سے لطف اندوز ہوتا، نہ آدمی کی مضبوط ٹانگوں سے خوش ہوتا ہے۔
¶ رب اُن ہی سے خوش ہوتا ہے جو اُس کا خوف مانتے اور اُس کی شفقت کے انتظار میں رہتے ہیں۔
¶ اے یروشلم، رب کی مدح سرائی کر! اے صیون، اپنے خدا کی حمد کر!
¶ کیونکہ اُس نے تیرے دروازوں کے کنڈے مضبوط کر کے تیرے درمیان بسنے والی اولاد کو برکت دی ہے۔
¶ وہی تیرے علاقے میں امن اور سکون قائم رکھتا اور تجھے بہترین گندم سے سیر کرتا ہے۔
¶ وہ اپنا فرمان زمین پر بھیجتا ہے تو اُس کا کلام تیزی سے پہنچتا ہے۔
¶ وہ اُون جیسی برف مہیا کرتا اور پالا راکھ کی طرح چاروں طرف بکھیر دیتا ہے۔
¶ وہ اپنے اولے کنکروں کی طرح زمین پر پھینک دیتا ہے۔ کون اُس کی شدید سردی برداشت کر سکتا ہے؟
¶ وہ ایک بار پھر اپنا فرمان بھیجتا ہے تو برف پگھل جاتی ہے۔ وہ اپنی ہَوا چلنے دیتا ہے تو پانی ٹپکنے لگتا ہے۔
¶ اُس نے یعقوب کو اپنا کلام سنایا، اسرائیل پر اپنے احکام اور آئین ظاہر کئے ہیں۔
¶ ایسا سلوک اُس نے کسی اَور قوم سے نہیں کیا۔ دیگر اقوام تو تیرے احکام نہیں جانتیں۔ رب کی حمد ہو!
(10) زبوُر ایک سو پنتالیسواں
اے میری جان، خداوند کی سَبح کر؛ جب تک میں زندہ ہوں میں خداوند کی ستایش کروں گا، جب تک میرا وجود ہے میں اپنے خدا کے لیے گاتا رہوں گا۔ امیروں پر بھروسا نہ رکھو، نہ بنی آدم پر جن میں نجات نہیں۔ اُن کی روح نکل جاتی ہے تو وہ اپنی مٹی میں لوٹ جاتے ہیں؛ اُسی دن اُن کے سب منصوبے نابود ہو جاتے ہیں۔
مبارک ہے وہ جس کا مددگار یعقوب کا خدا ہے، جس کی اُمّید خداوند اپنے خدا پر ہے؛ جو آسمان و زمین اور سمندر اور اُن میں جو کچھ ہے اُس کو بنانے والا ہے؛ جو ابد تک سچائی کو قائم رکھتا ہے؛ جو مظلوموں کے لیے انصاف کرتا ہے؛ جو بھوکوں کو روٹی دیتا ہے۔ خداوند قیدیوں کو آزاد کرتا ہے۔ خداوند گرنے والوں کو اُٹھاتا ہے۔ خداوند اندھوں کی آنکھیں کھولتا ہے۔ خداوند صادقوں سے محبت رکھتا ہے۔ خداوند پردیسیوں کی حمایت کرتا ہے؛ یتیم اور بیوہ کو سہارا دیتا ہے؛ اور شریروں کی راہ کو تلپٹ کرتا ہے۔ خداوند ابد تک سلطنت کرتا ہے؛ اَے صیّون، تیرا خدا نسل در نسل—ہللویا۔
(11) زبوُر ایک سو چھیالیسواں
خداوند کی تمجید کرو، کیونکہ زبور اچّھا ہے؛ اور ہمارے خدا کے لیے ستایش خوشنما ہے۔ خداوند یروشلیم کو بناتا ہے؛ وہ اسرائیل کے منتشر لوگوں کو جمع کرتا ہے۔ خداوند شکستہ دِلوں کو شفا دیتا اور اُن کے سب زخموں کو باندھتا ہے۔ وہ ستاروں کی گنتی کرتا ہے، اور اُن سب کو نام دیتا ہے۔ ہمارا خدا بزرگ اور قدرت میں عظیم ہے؛ اُس کی دانائی کا شمار نہیں۔ خداوند حلیموں کو اُٹھاتا ہے اور شریروں کو زمین تک گرا دیتا ہے۔
خداوند کا شکر ادا کرنا شروع کرو؛ ہمارے خدا کے لیے بربط پر نغمہ سرائی کرو؛ جو آسمان کو بادلوں سے ڈھانپتا ہے؛ جو زمین کے لیے مینہ تیار کرتا ہے؛ جو پہاڑوں پر گھاس اگاتا ہے؛ جو انسانوں کی خدمت کے لیے سَبز چیزیں پیدا کرتا ہے؛ جو چوپایوں کو خوراک دیتا ہے، اور کُوکنے والے کُونجوں کے بچوں کو خوراک دیتا ہے۔ وہ گھوڑے کی قوت سے خوش نہیں ہوتا، نہ آدمی کی ٹانگوں سے رضامند ہوتا ہے؛ بلکہ خداوند اُن سے خوش ہے جو اُس سے ڈرتے ہیں، اور اُس کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ ہللویا۔
(12) زبوُر ایک سو سینتالیسواں
اَے یروشلیم، خداوند کی تمجید کر؛ اَے صیّون، اپنے خدا کی ستایش کر؛ کیونکہ اُس نے تیرے دروازوں کے کواڑ مضبوط کیے؛ اُس نے تیرے اندر تیرے بیٹوں کو مبارک کہا۔ اُس نے تیرے حدود میں سلامتی قائم کی؛ اور وہ تجھے گیہوں کی کثرت سے سیر کرے گا۔ وہ اپنا کلام زمین پر بھیجتا ہے؛ اُس کا حکم نہایت جلدی دوڑتا ہے۔ وہ برف کو روئیں کی مانند دیتا ہے؛ اور پالا راکھ کی مانند بکھیرتا ہے؛ وہ اولوں کو ٹکڑوں کی طرح ڈالتا ہے؛ اُس کے سردی کے آگے کون کھڑا رہ سکتا ہے؟ وہ اپنا کلام بھیجتا اور اُنہیں پگھلا دیتا ہے؛ وہ اپنی ہوا چلاتا ہے تو پانی بہنے لگتا ہے۔ وہ اپنا کلام یعقوب کو خبر دیتا ہے؛ اپنے قوانین اور احکام اسرائیل کو۔ اُس نے ایسی بات اور قوموں کے ساتھ نہیں کی؛ اور انہوں نے اُس کے احکام کو نہ جانا۔ ہللویا۔
(لوقا 12: 32-46) اے چھوٹے گلہ! خوف نہ کر؛ کیونکہ تمہارے باپ کو پسند آیا کہ تمہیں بادشاہی دے۔ اپنی جائداد بیچ کر خیرات دو؛ اپنے لیے ایسی تھیلیاں بناؤ جو پرانی نہ ہوں؛ آسمان میں ایسا خزانہ جو کبھی کم نہ ہو، جہاں چور نہیں پہنچتا اور کیڑا خراب نہیں کرتا۔ کیونکہ جہاں تمہارا خزانہ ہوگا وہاں تمہارا دل بھی ہوگا۔ تمہاری کمر بندھی رہے اور تمہارے چراغ جلتے رہیں؛ اور تم اُن آدمیوں کی مانند ہو جو اپنے آقا کے انتظار میں ہیں کہ کب شادی سے پلٹے؛ تاکہ جب وہ آئے اور کھٹکھٹائے تو فوراً اُس کے لیے دروازہ کھول دیں۔ مبارک ہیں وہ غلام جنہیں آقا جب آئے جاگتا پائے؛ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ خود کمر باندھے گا اور انہیں میز پر بٹھائے گا اور آ کر اُن کی خدمت کرے گا۔ اور اگر وہ دوسرے پہر میں یا تیسرے پہر میں آئے اور انہیں ایسا ہی پائے، تو وہ غلام مبارک ہیں۔ مگر یہ جان لو کہ اگر گھر کا مالک جانتا کہ چور کس گھڑی آنے والا ہے تو جاگتا رہتا اور اپنے گھر میں نقب نہ لگنے دیتا۔ پس تم بھی تیار رہو؛ کیونکہ جس گھڑی تم گمان نہ کرو ابنِ آدم آ جائے گا۔
پطرس نے اُس سے کہا: اَے خداوند! یہ تمثیل تُو ہم سے کہتا ہے یا سب سے؟ خداوند نے فرمایا: پھر کون ہے وہ امانت دار اور دانشمند مختار جسے مالک اپنے نوکروں پر مامور کرے تاکہ انہیں وقت پر اناج دے؟ مبارک ہے وہ غلام جسے اُس کا مالک جب آئے ایسا ہی کرتے پائے۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ اُسے اپنے سارے مال پر مُقرّر کرے گا۔ لیکن اگر وہ غلام اپنے دل میں کہے کہ میرا آقا دیر کرتا ہے، اور نوکر اور لونڈیوں کو مارنا شروع کرے اور کھانا پینا اور نشہ کرنا لگے، تو اُس غلام کا مالک ایسے دن میں آئے گا جس کی وہ اُمید نہ کرتا ہو اور ایسی گھڑی میں جسے وہ نہ جانتا ہو، اور اُس کو دو ٹکڑے کر کے اُس کا حصہ بےایمانوں کے ساتھ مقرر کرے گا۔ (اور ہمیشہ خدا ہی کا جلال ہو)
پاک انجیل مقدّس لوقا کے مطابق (باب 7: 36-50)
¶ ایک فریسی نے عیسیٰ کو کھانا کھانے کی دعوت دی۔ عیسیٰ اُس کے گھر جا کر کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گیا۔
اُس شہر میں ایک بدچلن عورت رہتی تھی۔ جب اُسے پتا چلا کہ عیسیٰ اُس فریسی کے گھر میں کھانا کھا رہا ہے تو وہ عطردان میں بیش قیمت عطر لا کر
پیچھے سے اُس کے پاؤں کے پاس کھڑی ہو گئی۔ وہ رو پڑی اور اُس کے آنسو ٹپک ٹپک کر عیسیٰ کے پاؤں کو تر کرنے لگے۔ پھر اُس نے اُس کے پاؤں کو اپنے بالوں سے پونچھ کر اُنہیں چوما اور اُن پر عطر ڈالا۔
جب عیسیٰ کے فریسی میزبان نے یہ دیکھا تو اُس نے دل میں کہا، ”اگر یہ آدمی نبی ہوتا تو اُسے معلوم ہوتا کہ یہ کس قسم کی عورت ہے جو اُسے چھو رہی ہے، کہ یہ گناہ گار ہے۔“
¶ عیسیٰ نے اِن خیالات کے جواب میں اُس سے کہا، ”شمعون، مَیں تجھے کچھ بتانا چاہتا ہوں۔“ اُس نے کہا، ”جی اُستاد، بتائیں۔“
¶ عیسیٰ نے کہا، ”ایک ساہو کار کے دو قرض دار تھے۔ ایک کو اُس نے چاندی کے 500 سِکے دیئے تھے اور دوسرے کو 50 سِکے۔
لیکن دونوں اپنا قرض ادا نہ کر سکے۔ یہ دیکھ کر اُس نے دونوں کا قرض معاف کر دیا۔ اب مجھے بتا، دونوں قرض داروں میں سے کون اُسے زیادہ عزیز رکھے گا؟“
¶ شمعون نے جواب دیا، ”میرے خیال میں وہ جسے زیادہ معاف کیا گیا۔“ عیسیٰ نے کہا، ”تُو نے ٹھیک اندازہ لگایا ہے۔“
¶ اور عورت کی طرف مُڑ کر اُس نے شمعون سے بات جاری رکھی، ”کیا تُو اِس عورت کو دیکھتا ہے؟
جب مَیں اِس گھر میں آیا تو تُو نے مجھے پاؤں دھونے کے لئے پانی نہ دیا۔ لیکن اِس نے میرے پاؤں کو اپنے آنسوؤں سے تر کر کے اپنے بالوں سے پونچھ کر خشک کر دیا ہے۔ تُو نے مجھے بوسہ نہ دیا، لیکن یہ میرے اندر آنے سے لے کر اب تک میرے پاؤں کو چومنے سے باز نہیں رہی۔
تُو نے میرے سر پر زیتون کا تیل نہ ڈالا، لیکن اِس نے میرے پاؤں پر عطر ڈالا۔
اِس لئے مَیں تجھے بتاتا ہوں کہ اِس کے گناہوں کو گو وہ بہت ہیں معاف کر دیا گیا ہے، کیونکہ اِس نے بہت محبت کا اظہار کیا ہے۔ لیکن جسے کم معاف کیا گیا ہو وہ کم محبت رکھتا ہے۔“
¶ پھر عیسیٰ نے عورت سے کہا، ”تیرے گناہوں کو معاف کر دیا گیا ہے۔“
¶ یہ سن کر جو ساتھ بیٹھے تھے آپس میں کہنے لگے، ”یہ کس قسم کا شخص ہے جو گناہوں کو بھی معاف کرتا ہے؟“
¶ لیکن عیسیٰ نے خاتون سے کہا، ”تیرے ایمان نے تجھے بچا لیا ہے۔ سلامتی سے چلی جا۔“
Tenoo oasht emmok o piekhristos nem pekyot en aghathos nem pi epnevma ethowab je akee ak soati emmon nai nan
ہم تیری عبادت کرتے ہیں، اے مسیح، تیرے نیک باپ اور روح القدس کے ساتھ، کیونکہ تو آیا اور تو نے ہمیں نجات دی۔
1. مجھے، اے خداوند، آنسوؤں کے بہت سے چشمے عطا کر، جیسے تو نے پہلے اس گناہگار عورت کو دیے؛ مجھے اپنے اُن قدموں کو دھونے کے لائق بنا جو مجھے بھٹکنے کی راہ سے آزاد کرتے ہیں؛ اور میں تجھے بیش قیمت خوشبودار تیل پیش کروں؛ اور توبہ کے وسیلہ سے پاک زندگی پاؤں، تاکہ میں وہ خوشی بھری آواز سنوں: “تیرا ایمان تجھے نجات دے گیا۔”
باپ اور بیٹے اور روح القدس کا جلال ہو
باپ اور بیٹے اور روح القدس کا جلال ہو۔
2. جب میں اپنے بہت سے بُرے کاموں کو سمجھتا ہوں اور اس ہیبت ناک عدالت کا خیال میرے دل میں آتا ہے تو مجھ پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے، اور میں تیری پناہ لیتا ہوں، اے انسان دوست خدا۔ پس اپنا چہرہ مجھ سے نہ چھپا، میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں، اے تو ہی واحد بےگناہ۔ انجام آنے سے پہلے میری مفلس جان کو فروتنی عطا کر، اور مجھے بچا۔
اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک۔ آمین۔
اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک، آمین۔
3. آسمان تجھے مبارک کہتے ہیں، اے فضل سے بھری ہوئی، وہ دلہن جس نے کبھی شادی نہ کی۔ اور ہم بھی تیری ناقابلِ فہم ولادت کی تمجید کرتے ہیں۔ اے تھیؤتوکوس، رحمت اور نجات کی ماں، ہماری جانوں کی نجات کے لیے شفاعت کر۔
اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک۔ آمین۔
اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک، آمین۔
4. اے آسمانی بادشاہ، تسلّی دینے والے، سچائی کے روح، جو ہر جگہ حاضر اور سب کو معمور کرتا ہے، نیکیوں کے خزانے اور حیات بخش، کرم فرما کر آ اور ہم میں سکونت کر، اور اے نیکوکار، ہمیں ہر ناپاکی سے پاک کر، اور ہماری جانوں کو بچا۔
باپ اور بیٹے اور روح القدس کا جلال ہو
باپ اور بیٹے اور روح القدس کا جلال ہو۔
5. جیسے تو اپنے شاگردوں کے ساتھ تھا، اے نجات دہندہ، اور تو نے انہیں سلامتی دی، اسی طرح کرم فرما کر ہمارے ساتھ بھی رہ، اور ہمیں اپنی سلامتی عطا کر، ہمیں بچا، اور ہماری جانوں کو رہائی دے۔
اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک۔ آمین۔
اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک، آمین۔
6. جب کبھی ہم تیرے مقدس مقدس میں کھڑے ہوتے ہیں تو گویا ہم آسمان پر کھڑے سمجھے جاتے ہیں۔ اے تھیؤتوکوس، تو آسمان کا دروازہ ہے؛ ہمارے لیے رحمت کا دروازہ کھول۔
پھر عبادت گزار دعا کرتا ہے:
خداوندا، ہماری سُن لے، ہم پر رحم کر، اور ہمارے گناہ معاف فرما۔ آمین۔
(خداوندا، رحم کر) 41 بار
مقدس اور راسخُ الاعتقاد قانونِ ایمان
درحقیقت ہم ایک خدا پر ایمان رکھتے ہیں، خدا باپ، قادرِ مطلق پر، آسمان اور زمین کے، اور سب نظر آنے والی اور نہ نظر آنے والی چیزوں کے خالق پر۔
اور ایک خداوند یسوع مسیح پر ایمان رکھتے ہیں، خدا کے اکلوتے بیٹے پر، جو سب دَهور سے پہلے باپ سے پیدا ہوا؛ نور سے نور؛ سچا خدا سچے خدا سے؛ پیدا ہوا، مخلوق نہیں؛ باپ کے ہم جوہر؛ جس کے وسیلہ سے سب چیزیں ہوئیں۔ جو ہمارے انسانوں اور ہماری نجات کے لیے آسمان سے اُترا، اور روح القدس سے اور کنواری مریم سے مجسم ہوا، اور انسان بنا۔ اور ہمارے لیے پنطیُس پیلاطس کے عہد میں مصلوب ہوا؛ دُکھ اُٹھایا اور دفن ہوا؛ اور تیسرے دن صحیفوں کے مطابق مُردوں میں سے جی اُٹھا؛ اور آسمانوں پر چڑھا؛ اور باپ کے دہنے بیٹھا ہے؛ اور پھر اپنے جلال کے ساتھ آنے والا ہے زندوں اور مُردوں کا انصاف کرنے کو؛ جس کی بادشاہی کا کبھی خاتمہ نہ ہوگا۔
ہاں، ہم روح القدس پر ایمان رکھتے ہیں، جو خداوند ہے اور حیات بخشنے والا ہے، جو باپ سے صادر ہوتا ہے؛ جس کو باپ اور بیٹے کے ساتھ ایک سا سجدہ اور جلال ملتا ہے؛ جس نے نبیوں کے ذریعے کلام کیا۔
اور ایک مقدس، جامع اور رسولی کلیسیا پر۔
اور گناہوں کی معافی کے لیے ایک بپتسمہ کا اقرار کرتے ہیں۔
اور مُردوں کے جی اٹھنے اور آنے والے جہان کی زندگی کے منتظر ہیں۔ آمین۔
Κύριε ἐλέησون کیریالیسون (خداوندا، رحم فرما) 41 بار
زبور 129
¶ زیارت کا گیت۔ اسرائیل کہے، ”میری جوانی سے ہی میرے دشمن بار بار مجھ پر حملہ آور ہوئے ہیں۔
¶ میری جوانی سے ہی وہ بار بار مجھ پر حملہ آور ہوئے ہیں۔ توبھی وہ مجھ پر غالب نہ آئے۔“
¶ ہل چلانے والوں نے میری پیٹھ پر ہل چلا کر اُس پر اپنی لمبی لمبی ریگھاریاں بنائی ہیں۔
¶ رب راست ہے۔ اُس نے بےدینوں کے رسّے کاٹ کر مجھے آزاد کر دیا ہے۔
¶ اللہ کرے کہ جتنے بھی صیون سے نفرت رکھیں وہ شرمندہ ہو کر پیچھے ہٹ جائیں۔
¶ وہ چھتوں پر کی گھاس کی مانند ہوں جو صحیح طور پر بڑھنے سے پہلے ہی مُرجھا جاتی ہے
¶ اور جس سے نہ فصل کاٹنے والا اپنا ہاتھ، نہ پُولے باندھنے والا اپنا بازو بھر سکے۔
¶ جو بھی اُن سے گزرے وہ نہ کہے، ”رب تمہیں برکت دے۔“ ہم رب کا نام لے کر تمہیں برکت دیتے ہیں!
زبور 131
¶ زیارت کا گیت۔ اے رب، نہ میرا دل گھمنڈی ہے، نہ میری آنکھیں مغرور ہیں۔ جو باتیں اِتنی عظیم اور حیران کن ہیں کہ مَیں اُن سے نپٹ نہیں سکتا اُنہیں مَیں نہیں چھیڑتا۔
¶ یقیناً مَیں نے اپنی جان کو راحت اور سکون دلایا ہے، اور اب وہ ماں کی گود میں بیٹھے چھوٹے بچے کی مانند ہے، ہاں میری جان چھوٹے بچے کی مانند ہے۔
¶ اے اسرائیل، اب سے ابد تک رب کے انتظار میں رہ!
زبور 132
¶ زیارت کا گیت۔ اے رب، داؤد کا خیال رکھ، اُس کی تمام مصیبتوں کو یاد کر۔
¶ اُس نے قَسم کھا کر رب سے وعدہ کیا اور یعقوب کے قوی خدا کے حضور مَنت مانی،
¶ ”نہ مَیں اپنے گھر میں داخل ہوں گا، نہ بستر پر لیٹوں گا،
¶ نہ مَیں اپنی آنکھوں کو سونے دوں گا، نہ اپنے پپوٹوں کو اونگھنے دوں گا
¶ جب تک رب کے لئے مقام اور یعقوب کے سورمے کے لئے سکونت گاہ نہ ملے۔“
¶ ہم نے اِفراتہ میں عہد کے صندوق کی خبر سنی اور یعر کے کھلے میدان میں اُسے پا لیا۔
¶ آؤ، ہم اُس کی سکونت گاہ میں داخل ہو کر اُس کے پاؤں کی چوکی کے سامنے سجدہ کریں۔
¶ اے رب، اُٹھ کر اپنی آرام گاہ کے پاس آ، تُو اور عہد کا صندوق جو تیری قدرت کا اظہار ہے۔
¶ تیرے امام راستی سے ملبّس ہو جائیں، اور تیرے ایمان دار خوشی کے نعرے لگائیں۔
¶ اے اللہ، اپنے خادم داؤد کی خاطر اپنے مسح کئے ہوئے بندے کے چہرے کو رد نہ کر۔
¶ رب نے قَسم کھا کر داؤد سے وعدہ کیا ہے، اور وہ اُس سے کبھی نہیں پھرے گا، ”مَیں تیری اولاد میں سے ایک کو تیرے تخت پر بٹھاؤں گا۔
¶ اگر تیرے بیٹے میرے عہد کے وفادار رہیں اور اُن احکام کی پیروی کریں جو مَیں اُنہیں سکھاؤں گا تو اُن کے بیٹے بھی ہمیشہ تک تیرے تخت پر بیٹھیں گے۔“
¶ کیونکہ رب نے کوہِ صیون کو چن لیا ہے، اور وہی وہاں سکونت کرنے کا آرزومند تھا۔
¶ اُس نے فرمایا، ”یہ ہمیشہ تک میری آرام گاہ ہے، اور یہاں مَیں سکونت کروں گا، کیونکہ مَیں اِس کا آرزومند ہوں۔
¶ مَیں صیون کی خوراک کو کثرت کی برکت دے کر اُس کے غریبوں کو روٹی سے سیر کروں گا۔
¶ مَیں اُس کے اماموں کو نجات سے ملبّس کروں گا، اور اُس کے ایمان دار خوشی سے زوردار نعرے لگائیں گے۔
¶ یہاں مَیں داؤد کی طاقت بڑھا دوں گا، اور یہاں مَیں نے اپنے مسح کئے ہوئے خادم کے لئے چراغ تیار کر رکھا ہے۔
¶ مَیں اُس کے دشمنوں کو شرمندگی سے ملبّس کروں گا جبکہ اُس کے سر کا تاج چمکتا رہے گا۔“
زبور 133
¶ داؤد کا زبور۔ زیارت کا گیت۔ جب بھائی مل کر اور یگانگت سے رہتے ہیں یہ کتنا اچھا اور پیارا ہے۔
¶ یہ اُس نفیس تیل کی مانند ہے جو ہارون امام کے سر پر اُنڈیلا جاتا ہے اور ٹپک ٹپک کر اُس کی داڑھی اور لباس کے گریبان پر آ جاتا ہے۔
¶ یہ اُس اوس کی مانند ہے جو کوہِ حرمون سے صیون کے پہاڑوں پر پڑتی ہے۔ کیونکہ رب نے فرمایا ہے، ”وہیں ہمیشہ تک برکت اور زندگی ملے گی۔“