¶ ’اُس پر لعنت جو بُت تراش کر یا ڈھال کر چپکے سے کھڑا کرے۔ رب کو کاری گر کے ہاتھوں سے بنی ہوئی ایسی چیز سے گھن ہے۔‘ جواب میں سب لوگ کہیں، ’آمین!‘
TSK
TSK · ۲-توارِیخ 15:8
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
بلکہ صیدانیوں کی دیوی عستارات اور عمونیوں کے دیوتا ملکوم کی پوجا کرنے لگا۔
¶ آسا اسرائیل کے بادشاہ یرُبعام کے 20ویں سال میں یہوداہ کا بادشاہ بن گیا۔
شاید تم کہو، ’ہم رب اپنے خدا پر توکل کرتے ہیں۔‘ لیکن یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ حِزقیاہ نے تو اُس کی بےحرمتی کی ہے۔ کیونکہ اُس نے اونچی جگہوں کے مندروں اور قربان گاہوں کو ڈھا کر یہوداہ اور یروشلم سے کہا ہے کہ صرف یروشلم کی قربان گاہ کے سامنے پرستش کریں۔
¶ سلیمان نے پیتل کی ایک قربان گاہ بھی بنوائی جس کی لمبائی 30 فٹ، چوڑائی 30 فٹ اور اونچائی 15 فٹ تھی۔
¶ ابیاہ نے یرُبعام کا تعاقب کرتے کرتے اُس سے تین شہر گرد و نواح کی آبادیوں سمیت چھین لئے، بیت ایل، یسانہ اور عِفرون۔
¶ حِزقیاہ بادشاہ کے پاس جا کر اُنہوں نے کہا، ”ہم نے رب کے پورے گھر کو پاک صاف کر دیا ہے۔ اِس میں جانوروں کو جلانے کی قربان گاہ اُس کے سامان سمیت اور وہ میز جس پر رب کے لئے مخصوص روٹیاں رکھی جاتی ہیں اُس کے سامان سمیت شامل ہے۔
یہ قبرستان میں بیٹھ کر خفیہ غاروں میں رات گزارتے ہیں۔ یہ سؤر کا گوشت کھاتے ہیں، اُن کی دیگوں میں قابلِ گھن شوربہ ہوتا ہے۔
¶ مَیں دروازے میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دیواروں پر چاروں طرف بُت پرستی کی تصویریں کندہ ہوئی ہیں۔ ہر قسم کے رینگنے والے اور دیگر مکروہ جانور بلکہ اسرائیلی قوم کے تمام بُت اُن پر نظر آئے۔
روم کے بھائیوں نے ہمارے بارے میں سن رکھا تھا، اور کچھ ہمارا استقبال کرنے کے لئے قصبہ بنام اپیُس کے چوک تک آئے جبکہ کچھ صرف ’تین سرائے‘ تک آ سکے۔ اُنہیں دیکھ کر پولس نے اللہ کا شکر کیا اور نیا حوصلہ پایا۔
یہ عورت ارغوانی اور قرمزی رنگ کے کپڑے پہنے اور سونے، بیش قیمت جواہر اور موتیوں سے سجی ہوئی تھی۔ اُس کے ہاتھ میں سونے کا ایک پیالہ تھا جو گھنونی چیزوں اور اُس کی زناکاری کی گندگی سے بھرا ہوا تھا۔