تو کہیں تُو مغرور ہو کر رب اپنے خدا کو بھول نہ جائے جو تجھے مصر کی غلامی سے نکال لایا۔
TSK
TSK · ۲-توارِیخ 25:19
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
لیکن حِزقیاہ مغرور ہوا، اور اُس نے اِس مہربانی کا مناسب جواب نہ دیا۔ نتیجے میں رب اُس سے اور یہوداہ اور یروشلم سے ناراض ہوا۔
¶ مغروروں میں ہمیشہ جھگڑا ہوتا ہے جبکہ دانش مند صلاح مشورے کے مطابق ہی چلتے ہیں۔
¶ احمق کے ہونٹ لڑائی جھگڑا پیدا کرتے ہیں، اُس کا منہ زور سے پٹائی کا مطالبہ کرتا ہے۔
¶ جو گزرتے وقت دوسروں کے جھگڑے میں مداخلت کرے وہ اُس آدمی کی مانند ہے جو کُتے کو کانوں سے پکڑ لے۔
¶ رب فرماتا ہے، ”نہ دانش مند اپنی حکمت پر فخر کرے، نہ زورآور اپنے زور پر یا امیر اپنی دولت پر۔
تباہ ہو جائے گی۔ تب جنوبی بادشاہ کا دل غرور سے بھر جائے گا، اور وہ بےشمار افراد کو موت کے گھاٹ اُتارے گا۔ توبھی وہ طاقت ور نہیں رہے گا۔
¶ یا اگر کوئی بادشاہ کسی دوسرے بادشاہ کے ساتھ جنگ کے لئے نکلے تو کیا وہ پہلے بیٹھ کر اندازہ نہیں لگائے گا کہ وہ اپنے دس ہزار فوجیوں سے اُن بیس ہزار فوجیوں پر غالب آ سکتا ہے جو اُس سے لڑنے آ رہے ہیں؟
لیکن وہ ہمیں اِس سے کہیں زیادہ فضل بخشتا ہے۔ کلامِ مُقدّس یوں فرماتا ہے، ”اللہ مغروروں کا مقابلہ کرتا لیکن فروتنوں پر مہربانی کرتا ہے۔“