¶ اِس کے بعد اسرائیلی موآب کے میدانوں میں پہنچ کر دریائے یردن کے مشرقی کنارے پر یریحو کے آمنے سامنے خیمہ زن ہوئے۔
TSK
TSK · عاموس 2:1
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ چنانچہ اسرائیل کا بادشاہ یہوداہ کے بادشاہ کے ساتھ مل کر روانہ ہوا۔ ملکِ ادوم کا بادشاہ بھی ساتھ تھا۔ اپنے منصوبے کے مطابق اُنہوں نے ریگستان کا راستہ اختیار کیا۔ لیکن چونکہ وہ سیدھے نہیں بلکہ متبادل راستے سے ہو کر گئے اِس لئے سات دن کے سفر کے بعد اُن کے پاس پانی نہ رہا، نہ اُن کے لئے، نہ جانوروں کے لئے۔
¶ وہ کہتے ہیں، ”آؤ، ہم اُنہیں مٹا دیں تاکہ قوم نیست ہو جائے اور اسرائیل کا نام و نشان باقی نہ رہے۔“
پھر دونوں مغرب میں فلستی ملک پر جھپٹ پڑیں گے اور مل کر مشرق کے باشندوں کو لُوٹ لیں گے۔ ادوم اور موآب اُن کے قبضے میں آئیں گے، اور عمون اُن کے تابع ہو جائے گا۔
¶ رب کا ہاتھ اِس پہاڑ پر ٹھہرا رہے گا۔ لیکن موآب کو وہ یوں روندے گا جس طرح بھوسا گوبر میں ملانے کے لئے روندا جاتا ہے۔
¶ ”رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ موآب اور سعیر اسرائیل کا مذاق اُڑا کر کہتے ہیں، ’لو، دیکھو یہوداہ کے گھرانے کا حال! اب وہ بھی باقی قوموں کی طرح بن گیا ہے۔‘
¶ رب فرماتا ہے، ”غزہ کے باشندوں نے بار بار گناہ کیا ہے، اِس لئے مَیں اُنہیں سزا دیئے بغیر نہیں چھوڑوں گا۔ کیونکہ اُنہوں نے پوری آبادیوں کو جلاوطن کر کے ادوم کے حوالے کر دیا ہے۔
¶ رب فرماتا ہے، ”ادوم کے باشندوں نے بار بار گناہ کیا ہے، اِس لئے مَیں اُنہیں سزا دیئے بغیر نہیں چھوڑوں گا۔ کیونکہ اُنہوں نے اپنے اسرائیلی بھائیوں کو تلوار سے مار مار کر اُن کا تعاقب کیا اور سختی سے اُن پر رحم کرنے سے انکار کیا۔ اُن کا قہر بھڑکتا رہا، اُن کا طیش کبھی ٹھنڈا نہ ہوا۔
¶ رب فرماتا ہے، ”یہوداہ کے باشندوں نے بار بار گناہ کیا ہے، اِس لئے مَیں اُنہیں سزا دیئے بغیر نہیں چھوڑوں گا۔ کیونکہ اُنہوں نے رب کی شریعت کو رد کر کے اُس کے احکام پر عمل نہیں کیا۔ اُن کے جھوٹے دیوتا اُنہیں غلط راہ پر لے گئے ہیں، وہ دیوتا جن کی پیروی اُن کے باپ دادا بھی کرتے رہے۔
اے میری قوم، وہ وقت یاد کر جب موآب کے بادشاہ بلق نے بلعام بن بعور کو بُلایا تاکہ تجھ پر لعنت بھیجے۔ لعنت کی بجائے اُس نے تجھے برکت دی! وہ سفر بھی یاد کر جب تُو شِطّیم سے روانہ ہو کر جِلجال پہنچی۔ اگر تُو اِن تمام باتوں پر غور کرے تو جان لے گی کہ رب نے کتنی وفاداری اور انصاف سے تیرے ساتھ سلوک کیا ہے۔“