¶ کافی عرصہ گزر گیا۔ اِتنے میں مصر کا بادشاہ انتقال کر گیا۔ اسرائیلی اپنی غلامی تلے کراہتے اور مدد کے لئے پکارتے رہے، اور اُن کی چیخیں اللہ تک پہنچ گئیں۔
TSK
TSK · خروج 16:3
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
اُنہوں نے موسیٰ سے کہا، ”کیا مصر میں قبروں کی کمی تھی کہ آپ ہمیں ریگستان میں لے آئے ہیں؟ ہمیں مصر سے نکال کر آپ نے ہمارے ساتھ کیا کِیا ہے؟
¶ اسرائیلیوں کے ساتھ جو اجنبی سفر کر رہے تھے وہ گوشت کھانے کی شدید آرزو کرنے لگے۔ تب اسرائیلی بھی رو پڑے اور کہنے لگے، ”کون ہمیں گوشت کھلائے گا؟
اگر تُو اِس پر اصرار کرے تو پھر بہتر ہے کہ ابھی مجھے مار دے تاکہ مَیں اپنی تباہی نہ دیکھوں۔“
سب موسیٰ اور ہارون کے خلاف بڑبڑانے لگے۔ پوری جماعت نے اُن سے کہا، ”کاش ہم مصر یا اِس ریگستان میں مر گئے ہوتے!
¶ اگلے دن اسرائیل کی پوری جماعت موسیٰ اور ہارون کے خلاف بڑبڑانے لگی۔ اُنہوں نے کہا، ”آپ نے رب کی قوم کو مار ڈالا ہے۔“
آپ رب کی جماعت کو کیوں اِس ریگستان میں لے آئے؟ کیا اِس لئے کہ ہم یہاں اپنے مویشیوں سمیت مر جائیں؟
اُس نے تجھے عاجز کر کے بھوکے ہونے دیا، پھر تجھے مَن کھلایا جس سے نہ تُو اور نہ تیرے باپ دادا واقف تھے۔ کیونکہ وہ تجھے سکھانا چاہتا تھا کہ انسان کی زندگی صرف روٹی پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ ہر اُس بات پر جو رب کے منہ سے نکلتی ہے۔
یشوع نے کہا، ”ہائے، اے رب قادرِ مطلق! تُو نے اِس قوم کو دریائے یردن میں سے گزرنے کیوں دیا اگر تیرا مقصد صرف یہ تھا کہ ہمیں اموریوں کے حوالے کر کے ہلاک کرے؟ کاش ہم دریا کے مشرقی کنارے پر رہنے کے لئے تیار ہوتے!
¶ تب ایوب بول اُٹھا اور اپنے جنم دن پر لعنت کرنے لگا۔
¶ اللہ مصیبت زدوں کو روشنی اور شکستہ دلوں کو زندگی کیوں عطا کرتا ہے؟
¶ بھوک اور پیاس کے مارے اُن کی جان نڈھال ہو گئی۔
¶ اُس دن پر لعنت جب مَیں پیدا ہوا! وہ دن مبارک نہ ہو جب میری ماں نے مجھے جنم دیا۔
¶ جب سورج طلوع ہوا تو اللہ نے مشرق سے جُھلستی لُو بھیجی۔ دھوپ اِتنی شدید تھی کہ یونس غش کھانے لگا۔ آخرکار وہ مرنا ہی چاہتا تھا۔ وہ بولا، ”جینے سے بہتر یہی ہے کہ مَیں کوچ کر جاؤں۔“
¶ واہ جی واہ! آپ سیر ہو چکے ہیں۔ آپ امیر بن چکے ہیں۔ آپ ہمارے بغیر بادشاہ بن چکے ہیں۔ کاش آپ بادشاہ بن چکے ہوتے تاکہ ہم بھی آپ کے ساتھ حکومت کرتے!