¶ ابراہیم کو یہ بات بہت بُری لگی۔ آخر اسمٰعیل بھی اُس کا بیٹا تھا۔
TSK
TSK · پَیدایش 22:1
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
عین اُسی وقت رب کے فرشتے نے آسمان پر سے اُسے آواز دی، ”ابراہیم، ابراہیم!“ ابراہیم نے کہا، ”جی، مَیں حاضر ہوں۔“
رات کو اللہ رویا میں اُس سے ہم کلام ہوا۔ اُس نے کہا، ”یعقوب، یعقوب!“ یعقوب نے جواب دیا، ”جی، مَیں حاضر ہوں۔“
موسیٰ نے مدد کے لئے رب سے التجا کی تو اُس نے اُسے لکڑی کا ایک ٹکڑا دکھایا۔ جب موسیٰ نے یہ لکڑی پانی میں ڈالی تو پانی کی کڑواہٹ ختم ہو گئی۔ مارہ میں رب نے اپنی قوم کو قوانین دیئے۔ وہاں اُس نے اُنہیں آزمایا بھی۔
¶ وہ پورا وقت یاد رکھ جب رب تیرا خدا ریگستان میں 40 سال تک تیری راہنمائی کرتا رہا تاکہ تجھے عاجز کر کے آزمائے اور معلوم کرے کہ کیا تُو اُس کے احکام پر چلے گا کہ نہیں۔
ایسے لوگوں کی نہ سن۔ اِس سے رب تمہارا خدا تمہیں آزما کر معلوم کر رہا ہے کہ کیا تم واقعی اپنے پورے دل و جان سے اُس سے پیار کرتے ہو۔
کہ اچانک رب نے آواز دی، ”سموایل!“ سموایل نے جواب دیا، ”جی، مَیں ابھی آتا ہوں۔“ وہ بھاگ کر عیلی کے پاس گیا اور کہا، ”جی جناب، مَیں حاضر ہوں۔ آپ نے مجھے بُلایا؟“ عیلی بولا، ”نہیں، مَیں نے تمہیں نہیں بُلایا۔ واپس جا کر دوبارہ لیٹ جاؤ۔“ چنانچہ سموایل دوبارہ لیٹ گیا۔
ایک دن بابل کے حکمرانوں نے اُس کے پاس وفد بھیجا تاکہ اُس الٰہی نشان کے بارے میں معلومات حاصل کریں جو یہوداہ میں ہوا تھا۔ اُس وقت اللہ نے اُسے اکیلا چھوڑ دیا تاکہ اُس کے دل کی حقیقی حالت جانچ لے۔
¶ پھر مَیں نے رب کی آواز سنی۔ اُس نے پوچھا، ”مَیں کس کو بھیجوں؟ کون ہماری طرف سے جائے؟“ مَیں بولا، ”مَیں حاضر ہوں۔ مجھے ہی بھیج دے۔“
¶ یہ ایمان کا کام تھا کہ ابراہیم نے اُس وقت اسحاق کو قربانی کے طور پر پیش کیا جب اللہ نے اُسے آزمایا۔ ہاں، وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان کرنے کے لئے تیار تھا اگرچہ اُسے اللہ کے وعدے مل گئے تھے
ہمارے باپ ابراہیم پر غور کریں۔ وہ تو اِسی وجہ سے راست باز ٹھہرایا گیا کہ اُس نے اپنے بیٹے اسحاق کو قربان گاہ پر پیش کیا۔