¶ ابرام روانہ ہوا۔ چلتے چلتے اُس نے اپنے ڈیرے حبرون کے قریب ممرے کے درختوں کے پاس لگائے۔ وہاں اُس نے رب کی تعظیم میں قربان گاہ بنائی۔
TSK
TSK · پَیدایش 23:2
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
پھر اسحاق رِبقہ کو اپنی ماں سارہ کے ڈیرے میں لے گیا۔ اُس نے اُس سے شادی کی، اور وہ اُس کی بیوی بن گئی۔ اسحاق کے دل میں اُس کے لئے بہت محبت پیدا ہوئی۔ یوں اُسے اپنی ماں کی موت کے بعد سکون ملا۔
¶ یوسف اپنے باپ کے چہرے سے لپٹ گیا۔ اُس نے روتے ہوئے اُسے بوسہ دیا۔
وہ دشتِ نجب سے گزر کر حبرون پہنچے جہاں عناق کے بیٹے اخی مان، سیسی اور تلمی رہتے تھے۔ (حبرون کو مصر کے شہر ضُعن سے سات سال پہلے تعمیر کیا گیا تھا)۔
اسرائیلیوں نے موآب کے میدانی علاقے میں 30 دن تک اُس کا ماتم کیا۔
پہلے حبرون قِریَت اربع یعنی اربع کا شہر کہلاتا تھا۔ اربع عناقیوں کا سب سے بڑا آدمی تھا۔ آج تک یہ شہر کالب کی اولاد کی ملکیت رہی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کالب رب اسرائیل کے خدا کا وفادار رہا۔ پھر جنگ ختم ہوئی، اور ملک میں امن و امان قائم ہو گیا۔
اُنہوں نے حبرون شہر پر حملہ کیا جو پہلے قِریَت اربع کہلاتا تھا۔ وہاں اُنہوں نے سیسی، اخی مان اور تلمی کی فوجوں کو شکست دی۔
¶ اُن دنوں میں سموایل فوت ہوا۔ تمام اسرائیل رامہ میں جنازے کے لئے جمع ہوا۔ اُس کا ماتم کرتے ہوئے اُنہوں نے اُسے اُس کی خاندانی قبر میں دفن کیا۔
شام تک اُنہوں نے رو رو کر اور روزہ رکھ کر ساؤل، اُس کے بیٹے یونتن اور رب کے اُن باقی لوگوں کا ماتم کیا جو مارے گئے تھے۔
داؤد حبرون میں یہوداہ پر ساڑھے سات سال حکومت کرتا رہا۔
پہلے ساڑھے سات سال وہ صرف یہوداہ کا بادشاہ تھا اور اُس کا دار الحکومت حبرون رہا۔ باقی 33 سال وہ یروشلم میں رہ کر یہوداہ اور اسرائیل دونوں پر حکومت کرتا رہا۔
¶ یرمیاہ نے یوسیاہ کی یاد میں ماتمی گیت لکھے، اور آج تک گیت گانے والے مرد و خواتین یوسیاہ کی یاد میں ماتمی گیت گاتے ہیں، یہ پکا دستور بن گیا ہے۔ یہ گیت ’نوحہ کی کتاب‘ میں درج ہیں۔
¶ چنانچہ رب یہوداہ کے بادشاہ یہویقیم بن یوسیاہ کے بارے میں فرماتا ہے، ”لوگ اُس پر ماتم نہیں کریں گے کہ ’ہائے میرے بھائی، ہاے میری بہن،‘ نہ وہ رو کر کہیں گے، ’ہائے، میرے آقا! ہائے، اُس کی شان جاتی رہی ہے۔‘
جو یہودی گھر میں مریم کے ساتھ بیٹھے اُسے تسلی دے رہے تھے، جب اُنہوں نے دیکھا کہ وہ جلدی سے اُٹھ کر نکل گئی ہے تو وہ اُس کے پیچھے ہو لئے۔ کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ وہ ماتم کرنے کے لئے اپنے بھائی کی قبر پر جا رہی ہے۔
¶ کچھ خدا ترس آدمیوں نے ستفنس کو دفن کر کے رو رو کر اُس کا ماتم کیا۔