¶ پھر یعقوب اپنے گھر والوں کے ساتھ بیت ایل کو چھوڑ کر اِفراتہ کی طرف چل پڑا۔ راخل اُمید سے تھی، اور راستے میں بچے کی پیدائش کا وقت آ گیا۔ بچہ بڑی مشکل سے پیدا ہوا۔
TSK
TSK · پَیدایش 30:1
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
اگر تُو اِس پر اصرار کرے تو پھر بہتر ہے کہ ابھی مجھے مار دے تاکہ مَیں اپنی تباہی نہ دیکھوں۔“
ہر سال اِلقانہ اپنی قربانی پیش کرنے کے بعد قربانی کے گوشت کے ٹکڑے فنِنّہ اور اُس کے بیٹے بیٹیوں میں تقسیم کرتا۔
آگے ریگستان میں جا نکلا۔ ایک دن کے سفر کے بعد وہ سینک کی جھاڑی کے پاس پہنچ گیا اور اُس کے سائے میں بیٹھ کر دعا کرنے لگا، ”اے رب، مجھے مرنے دے۔ بس اب کافی ہے۔ میری جان لے لے، کیونکہ مَیں اپنے باپ دادا سے بہتر نہیں ہوں۔“
¶ مَیں پیدائش کے وقت کیوں مر نہ گیا، ماں کے پیٹ سے نکلتے وقت جان کیوں نہ دے دی؟
کیونکہ احمق کی رنجیدگی اُسے مار ڈالتی، سادہ لوح کی سرگرمی اُسے موت کے گھاٹ اُتار دیتی ہے۔
¶ خیمہ گاہ میں وہ موسیٰ اور رب کے مُقدّس امام ہارون سے حسد کرنے لگے۔
¶ پاتال، بانجھ کا رِحم، زمین جس کی پیاس کبھی نہیں بجھتی اور آگ جو کبھی نہیں کہتی، ”اب بس کرو، اب کافی ہے۔“
¶ اُس دن پر لعنت جب مَیں پیدا ہوا! وہ دن مبارک نہ ہو جب میری ماں نے مجھے جنم دیا۔
(اُس کے شاگرد کھانا خریدنے کے لئے شہر گئے ہوئے تھے۔)
کیونکہ جو دُکھ اللہ اپنی مرضی پوری کرانے کے لئے استعمال کرتا ہے اُس سے توبہ پیدا ہوتی ہے اور اُس کا انجام نجات ہے۔ اِس میں پچھتانے کی گنجائش ہی نہیں۔ اِس کے برعکس دنیاوی دُکھ کا انجام موت ہے۔
کیونکہ ایک وقت تھا جب ہم بھی ناسمجھ، نافرمان اور صحیح راہ سے بھٹکے ہوئے تھے۔ اُس وقت ہم کئی طرح کی شہوتوں اور غلط خواہشوں کی غلامی میں تھے۔ ہم بُرے کاموں اور حسد کرنے میں زندگی گزارتے تھے۔ دوسرے ہم سے نفرت کرتے تھے اور ہم بھی اُن سے نفرت کرتے تھے۔
یا کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کلامِ مُقدّس کی یہ بات بےتُکی سی ہے کہ اللہ غیرت سے اُس روح کا آرزومند ہے جس کو اُس نے ہمارے اندر سکونت کرنے دیا؟