TSK

TSK · ہوسیع 13:14

Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.

واپس گزرنے پر

جو اسرائیل کی شان و شوکت ہے وہ نہ جھوٹ بولتا، نہ کبھی اپنی سوچ کو بدلتا ہے، کیونکہ وہ انسان نہیں کہ ایک بات کہہ کر بعد میں اُسے بدلے۔“

اور اُس پر ترس کھا کر کہے، ’اُسے گڑھے میں اُترنے سے چھڑا، مجھے فدیہ مل گیا ہے،

¶ کیونکہ تُو میری جان کو پاتال میں نہیں چھوڑے گا، اور نہ اپنے مُقدّس کو گلنے سڑنے کی نوبت تک پہنچنے دے گا۔

¶ لیکن اللہ میری جان کا فدیہ دے گا، وہ مجھے پکڑ کر پاتال کی گرفت سے چھڑائے گا۔ (سِلاہ)

¶ تُو نے مجھے متعدد تلخ تجربوں میں سے گزرنے دیا ہے، لیکن تُو مجھے دوبارہ زندہ بھی کرے گا، تُو مجھے زمین کی گہرائیوں میں سے واپس لائے گا۔

موت الٰہی فتح کا لقمہ ہو کر ابد تک نیست و نابود رہے گی۔ تب رب قادرِ مطلق ہر چہرے کے آنسو پونچھ کر تمام دنیا میں سے اپنی قوم کی رُسوائی دُور کرے گا۔ رب ہی نے یہ سب کچھ فرمایا ہے۔

رب فرماتا ہے، ”تُو نے مجھے رد کیا، اپنا منہ مجھ سے پھیر لیا ہے۔ اب مَیں اپنا ہاتھ تیرے خلاف بڑھا کر تجھے تباہ کر دوں گا۔ کیونکہ مَیں ہم دردی دکھاتے دکھاتے تنگ آ گیا ہوں۔

چنانچہ نبوّت کر کے اُنہیں بتا، ’رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ اے میری قوم، مَیں تمہاری قبروں کو کھول دوں گا اور تمہیں اُن میں سے نکال کر ملکِ اسرائیل میں واپس لاؤں گا۔

اسرائیل کا تکبر اُس کے خلاف گواہی دیتا ہے۔ توبھی نہ وہ رب اپنے خدا کے پاس واپس آ جاتا، نہ اُسے تلاش کرتا ہے۔

جب اُنہیں رد کیا گیا تو باقی دنیا کی اللہ کے ساتھ صلح ہو گئی۔ تو پھر کیا ہو گا جب اُنہیں دوبارہ قبول کیا جائے گا؟ یہ مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے برابر ہو گا!

چونکہ انسان کے وسیلے سے موت آئی، اِس لئے انسان ہی کے وسیلے سے مُردوں کے جی اُٹھنے کی بھی راہ کھلی۔

اِس جھونپڑی میں رہتے ہوئے ہم بوجھ تلے کراہتے ہیں۔ کیونکہ ہم اپنا فانی لباس اُتارنا نہیں چاہتے بلکہ اُس پر آسمانی گھر کا لباس پہن لینا چاہتے ہیں تاکہ زندگی وہ کچھ نگل جائے جو فانی ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ عیسیٰ مر گیا اور دوبارہ جی اُٹھا، اِس لئے ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ جب عیسیٰ واپس آئے گا تو اللہ اُس کے ساتھ اُن ایمان داروں کو بھی واپس لائے گا جو موت کی نیند سو گئے ہیں۔

سمندر نے اُن تمام مُردوں کو پیش کر دیا جو اُس میں تھے، اور موت اور پاتال نے بھی اُن مُردوں کو پیش کر دیا جو اُن میں تھے۔ چنانچہ ہر شخص کا اُس کے مطابق فیصلہ کیا گیا جو اُس نے کیا تھا۔