TSK

TSK · یوحنا 12:48

Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.

واپس گزرنے پر

آئندہ مَیں اُن میں سے تجھ جیسا نبی کھڑا کروں گا۔ مَیں اپنے الفاظ اُس کے منہ میں ڈال دوں گا، اور وہ میری ہر بات اُن تک پہنچائے گا۔

لیکن گو مَیں نے تمہیں تمہاری تمام مصیبتوں اور تنگیوں سے چھٹکارا دیا توبھی تم نے اپنے خدا کو مسترد کر دیا۔ کیونکہ تم نے اصرار کیا کہ ہم پر بادشاہ مقرر کرو! اب اپنے اپنے قبیلوں اور خاندانوں کی ترتیب کے مطابق رب کے حضور کھڑے ہو جاؤ‘۔“

¶ عیسیٰ نے اُن سے کہا، ”کیا تم نے کبھی کلام کا یہ حوالہ نہیں پڑھا، ’جس پتھر کو مکان بنانے والوں نے رد کیا، وہ کونے کا بنیادی پتھر بن گیا۔ یہ رب نے کیا اور دیکھنے میں کتنا حیرت انگیز ہے‘؟

¶ پھر عیسیٰ اُنہیں تعلیم دینے لگا، ”لازم ہے کہ ابنِ آدم بہت دُکھ اُٹھا کر بزرگوں، راہنما اماموں اور شریعت کے علما سے رد کیا جائے۔ اُسے قتل بھی کیا جائے گا، لیکن وہ تیسرے دن جی اُٹھے گا۔“

جو بھی ایمان لا کر بپتسمہ لے اُسے نجات ملے گی۔ لیکن جو ایمان نہ لائے اُسے مجرم قرار دیا جائے گا۔

اُس نے کہا، ”لازم ہے کہ ابنِ آدم بہت دُکھ اُٹھا کر بزرگوں، راہنما اماموں اور شریعت کے علما سے رد کیا جائے۔ اُسے قتل بھی کیا جائے گا، لیکن تیسرے دن وہ جی اُٹھے گا۔“

¶ جس نے تمہاری سنی اُس نے میری بھی سنی۔ اور جس نے تم کو رد کیا اُس نے مجھے بھی رد کیا۔ اور مجھے رد کرنے والے نے اُسے بھی رد کیا جس نے مجھے بھیجا ہے۔“

¶ عیسیٰ نے اُن پر نظر ڈال کر پوچھا، ”تو پھر کلامِ مُقدّس کے اِس حوالے کا کیا مطلب ہے کہ ’جس پتھر کو مکان بنانے والوں نے رد کیا، وہ کونے کا بنیادی پتھر بن گیا‘؟

لیکن یہ نہ سمجھو کہ مَیں باپ کے سامنے تم پر الزام لگاؤں گا۔ ایک اَور ہے جو تم پر الزام لگا رہا ہے یعنی موسیٰ، جس سے تم اُمید رکھتے ہو۔

جو نہیں سنے گا اُسے مٹا کر قوم سے نکال دیا جائے گا۔‘

کیونکہ ہم مسیح کی خوشبو ہیں جو اللہ تک پہنچتی ہے اور ساتھ ساتھ لوگوں میں بھی پھیلتی ہے، نجات پانے والوں میں بھی اور ہلاک ہونے والوں میں بھی۔

اور بھڑکتی ہوئی آگ میں اُنہیں سزا دے گا جو نہ اللہ کو جانتے ہیں، نہ ہمارے خداوند عیسیٰ کی خوش خبری کے تابع ہیں۔

ایک بار مرنا اور اللہ کی عدالت میں حاضر ہونا ہر انسان کے لئے مقرر ہے۔

¶ چنانچہ خبردار رہیں کہ آپ اُس کی سننے سے انکار نہ کریں جو اِس وقت آپ سے ہم کلام ہو رہا ہے۔ کیونکہ اگر اسرائیلی نہ بچے جب اُنہوں نے دنیاوی پیغمبر موسیٰ کی سننے سے انکار کیا تو پھر ہم کس طرح بچیں گے اگر ہم اُس کی سننے سے انکار کریں جو آسمان سے ہم سے ہم کلام ہوتا ہے۔