TSK

TSK · یوحنا 15:4

Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.

واپس گزرنے پر

¶ یہ کون ہے جو اپنے محبوب کا سہارا لے کر ریگستان سے چڑھی آ رہی ہے؟ سیب کے درخت تلے مَیں نے تجھے جگا دیا، وہاں جہاں تیری ماں نے تجھے جنم دیا، جہاں اُس نے دردِ زہ میں مبتلا ہو کر تجھے پیدا کیا۔

”اے آدم زاد، انگور کی بیل کی لکڑی کس لحاظ سے جنگل کی دیگر لکڑیوں سے بہتر ہے؟

اِس کے مقابلے میں زرخیز زمین میں گرے ہوئے دانے وہ لوگ ہیں جن کا دل دیانت دار اور اچھا ہے۔ جب وہ کلام سنتے ہیں تو وہ اُسے اپناتے اور ثابت قدمی سے ترقی کرتے کرتے پھل لاتے ہیں۔

¶ شمعون پطرس نے جواب دیا، ”خداوند، ہم کس کے پاس جائیں؟ ابدی زندگی کی باتیں تو آپ ہی کے پاس ہیں۔

جب وہ دن آئے گا تو تم جان لو گے کہ مَیں اپنے باپ میں ہوں، تم مجھ میں ہو اور مَیں تم میں۔

مَیں اُن میں اور تُو مجھ میں۔ وہ کامل طور پر ایک ہوں تاکہ دنیا جان لے کہ تُو نے مجھے بھیجا اور کہ تُو نے اُن سے محبت رکھی ہے جس طرح مجھ سے رکھی ہے۔

ہر جگہ اُنہوں نے شاگردوں کے دل مضبوط کر کے اُن کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ایمان میں ثابت قدم رہیں۔ اُنہوں نے کہا، ”لازم ہے کہ ہم بہت سی مصیبتوں میں سے گزر کر اللہ کی بادشاہی میں داخل ہوں۔“

اور یوں مَیں خود زندہ نہ رہا بلکہ مسیح مجھ میں زندہ ہے۔ اب جو زندگی مَیں اِس جسم میں گزارتا ہوں وہ اللہ کے فرزند پر ایمان لانے سے گزارتا ہوں۔ اُسی نے مجھ سے محبت رکھ کر میرے لئے اپنی جان دی۔

اور یوں آپ اُس راست بازی کے پھل سے بھرے رہیں گے جو آپ کو عیسیٰ مسیح کے وسیلے سے حاصل ہوتی ہے۔ پھر آپ اپنی زندگی سے اللہ کو جلال دیں گے اور اُس کی تمجید کریں گے۔

کیونکہ اللہ چاہتا تھا کہ وہ جان لیں کہ غیریہودیوں میں یہ راز کتنا بیش قیمت اور جلالی ہے۔ اور یہ راز ہے کیا؟ یہ کہ مسیح آپ میں ہے۔ وہی آپ میں ہے جس کے باعث ہم اللہ کے جلال میں شریک ہونے کی اُمید رکھتے ہیں۔

یہی وجہ تھی کہ مَیں نے تیمُتھیُس کو بھیج دیا۔ مَیں یہ حالات برداشت نہ کر سکا، اِس لئے مَیں نے اُسے آپ کے ایمان کو معلوم کرنے کے لئے بھیج دیا۔ ایسا نہ ہو کہ آزمانے والے نے آپ کو یوں آزمائش میں ڈال دیا ہو کہ ہماری آپ پر محنت ضائع جائے۔

جو کہتا ہے کہ وہ اُس میں قائم ہے اُس کے لئے لازم ہے کہ وہ یوں چلے جس طرح عیسیٰ چلتا تھا۔

¶ جو بھی مسیح کی تعلیم پر قائم نہیں رہتا بلکہ اِس سے آگے نکل جاتا ہے اُس کے پاس اللہ نہیں۔ جو مسیح کی تعلیم پر قائم رہتا ہے اُس کے پاس باپ بھی ہے اور فرزند بھی۔