TSK

TSK · یوحنا 18:28

Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.

واپس گزرنے پر

اُس جگہ جمع ہو جا جو رب اپنے نام کی سکونت کے لئے چنے گا۔ اُسے قربانی کے لئے بھیڑبکریاں یا گائےبَیل پیش کرنا۔

اِس کے علاوہ بادشاہ کے افسروں نے بھی اپنی خوشی سے قوم، اماموں اور لاویوں کو جانور دیئے۔ اللہ کے گھر کے سب سے اعلیٰ افسروں خِلقیاہ، زکریاہ اور یحی ایل نے دیگر اماموں کو فسح کی قربانی کے لئے 2,600 بھیڑبکریوں کے بچے دیئے، نیز 300 بَیل۔

¶ مسلسل کفر بک بک کر وہ میرا مذاق اُڑاتے، میرے خلاف دانت پیستے تھے۔

کیونکہ جب تک اُن سے بُرا کام سرزد نہ ہو جائے وہ سو ہی نہیں سکتے، جب تک اُنہوں نے کسی کو ٹھوکر کھلا کر خاک میں ملا نہ دیا ہو وہ نیند سے محروم رہتے ہیں۔

¶ لیکن افسوس، تم فریب دہ الفاظ پر بھروسا رکھتے ہو جو فضول ہی ہیں۔

¶ رب فرماتا ہے، ”مجھے تمہارے مذہبی تہواروں سے نفرت ہے، مَیں اُنہیں حقیر جانتا ہوں۔ تمہارے اجتماعوں سے مجھے گھن آتی ہے۔

تم صیون کو خوں ریزی سے اور یروشلم کو ناانصافی سے تعمیر کر رہے ہو۔

¶ صبح سویرے تمام راہنما امام اور قوم کے تمام بزرگ اِس فیصلے تک پہنچ گئے کہ عیسیٰ کو سزائے موت دی جائے۔

¶ صبح سویرے ہی راہنما امام بزرگوں، شریعت کے علما اور پوری یہودی عدالتِ عالیہ کے ساتھ مل کر فیصلے تک پہنچ گئے۔ وہ عیسیٰ کو باندھ کر وہاں سے لے گئے اور رومی گورنر پیلاطس کے حوالے کر دیا۔

¶ جب دن چڑھا تو راہنما اماموں اور شریعت کے علما پر مشتمل قوم کی مجلس نے جمع ہو کر اُسے یہودی عدالتِ عالیہ میں پیش کیا۔

¶ پھر یہودیوں کی عیدِ فسح قریب آ گئی۔ دیہات سے بہت سے لوگ اپنے آپ کو پاک کروانے کے لئے عید سے پہلے پہلے یروشلم پہنچے۔

¶ لیکن تمہاری ایک رسم ہے جس کے مطابق مجھے عیدِ فسح کے موقع پر تمہارے لئے ایک قیدی کو رِہا کرنا ہے۔ کیا تم چاہتے ہو کہ مَیں ’یہودیوں کے بادشاہ‘ کو رِہا کر دوں؟“

اب دوپہر کے تقریباً بارہ بج گئے تھے۔ اُس دن عید کے لئے تیاریاں کی جاتی تھیں، کیونکہ اگلے دن عید کا آغاز تھا۔ پیلاطس بول اُٹھا، ”لو، تمہارا بادشاہ!“

اُس نے اُن سے کہا، ”آپ جانتے ہیں کہ کسی یہودی کے لئے کسی غیریہودی سے رفاقت رکھنا یا اُس کے گھر میں جانا منع ہے۔ لیکن اللہ نے مجھے دکھایا ہے کہ مَیں کسی کو بھی حرام یا ناپاک قرار نہ دوں۔