TSK

TSK · قُضاۃ 20:13

Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.

واپس گزرنے پر

ایسے نبیوں یا خواب دیکھنے والوں کو سزائے موت دینا، کیونکہ وہ تجھے رب تمہارے خدا سے بغاوت کرنے پر اُکسانا چاہتے ہیں، اُسی سے جس نے فدیہ دے کر تمہیں مصر کی غلامی سے بچایا اور وہاں سے نکال لایا۔ چونکہ وہ تجھے اُس راہ سے ہٹانا چاہتے ہیں جسے رب تیرے خدا نے تیرے لئے مقرر کیا ہے اِس لئے لازم ہے کہ اُنہیں سزائے موت دی جائے۔ ایسی بُرائی اپنے درمیان سے مٹا دینا۔

کہ شریر لوگ تیرے درمیان سے اُبھر آئے ہیں جو اپنے شہر کے باشندوں کو یہ کہہ کر غلط راہ پر لائے ہیں کہ آؤ، ہم دیگر معبودوں کی پوجا کریں، ایسے معبودوں کی جن سے تم واقف نہیں ہو۔

¶ جو مقدِس میں رب تیرے خدا کی خدمت کرنے والے قاضی یا امام کو حقیر جان کر اُن کی نہیں سنتا اُسے سزائے موت دی جائے۔ یوں تُو اسرائیل سے بُرائی مٹا دے گا۔

یہ سن کر شہر کے تمام مرد اُسے سنگسار کریں۔ یوں تُو اپنے درمیان سے بُرائی مٹا دے گا۔ تمام اسرائیل یہ سن کر ڈر جائے گا۔

تو لازم ہے کہ تم دونوں کو شہر کے دروازے کے پاس لا کر سنگسار کرو۔ وجہ یہ ہے کہ لڑکی نے مدد کے لئے نہ پکارا اگرچہ اُس جگہ لوگ آباد تھے۔ مرد کا جرم یہ تھا کہ اُس نے کسی اَور کی منگیتر کی عصمت دری کی ہے۔ یوں تُو اپنے درمیان سے بُرائی مٹا دے گا۔

¶ وہ یوں کھانے کی رفاقت سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ جِبعہ کے کچھ شریر مرد گھر کو گھیر کر دروازے کو زور سے کھٹکھٹانے لگے۔ وہ چلّائے، ”اُس آدمی کو باہر لا جو تیرے گھر میں ٹھہرا ہوا ہے تاکہ ہم اُس سے زیادتی کریں!“

لیکن باقی آدمیوں میں کچھ شرارتی لوگ بڑبڑانے لگے، ”یہ ہمارے ساتھ لڑنے کے لئے آگے نہ نکلے، اِس لئے اِنہیں لُوٹے ہوئے مال کا حصہ پانے کا حق نہیں۔ بس وہ اپنے بال بچوں کو لے کر چلے جائیں۔“

میرے آنے کا ایک اَور مقصد ہے۔ افرائیم کے پہاڑی علاقے کا ایک آدمی داؤد بادشاہ کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا ہے جس کا نام سبع بن بِکری ہے۔ اُسے ڈھونڈ رہے ہیں۔ اُسے ہمارے حوالے کریں تو ہم شہر کو چھوڑ کر چلے جائیں گے۔“ عورت نے کہا، ”ٹھیک ہے، ہم دیوار پر سے اُس کا سر آپ کے پاس پھینک دیں گے۔“

پھر دو بدمعاش آئے اور اُس کے مقابل بیٹھ گئے۔ اجتماع کے دوران یہ آدمی سب کے سامنے نبوت پر الزام لگانے لگے، ”اِس شخص نے اللہ اور بادشاہ پر لعنت بھیجی ہے! ہم اِس کے گواہ ہیں۔“ تب نبوت کو شہر سے باہر لے جا کر سنگسار کر دیا گیا۔

اَمَصیاہ نے نبی کی بات کاٹ کر کہا، ”ہم نے کب سے تجھے بادشاہ کا مشیر بنا دیا ہے؟ خاموش، ورنہ تجھے مار دیا جائے گا۔“ نبی نے خاموش ہو کر اِتنا ہی کہا، ”مجھے معلوم ہے کہ اللہ نے آپ کو آپ کی اِن حرکتوں کی وجہ سے اور اِس لئے کہ آپ نے میرا مشورہ قبول نہیں کیا تباہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔“

¶ جو متعدد نصیحتوں کے باوجود ہٹ دھرم رہے وہ اچانک ہی برباد ہو جائے گا، اور شفا کا امکان ہی نہیں ہو گا۔

اُن سے نہایت ہی خراب کام سرزد ہوا ہے، ایسا شریر کام جیسا جِبعہ کے باشندوں سے ہوا تھا۔ اللہ اُن کا قصور یاد کر کے اُن کے گناہوں کی مناسب سزا دے گا۔

اگرچہ وہ اللہ کا فرمان جانتے ہیں کہ ایسا کرنے والے سزائے موت کے مستحق ہیں توبھی وہ ایسا کرتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ ایسا کرنے والے دیگر لوگوں کو شاباش بھی دیتے ہیں۔