¶ لیکن موسیٰ نے کہا، ”اے رب، تُو اپنی قوم پر اپنا غصہ کیوں اُتارنا چاہتا ہے؟ تُو خود اپنی عظیم قدرت سے اُسے مصر سے نکال لایا ہے۔
TSK
TSK · نوحہ 2:20
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
مَیں نے اُس سے منت کر کے کہا، ”اے رب قادرِ مطلق، اپنی قوم کو تباہ نہ کر۔ وہ تو تیری ہی ملکیت ہے جسے تُو نے فدیہ دے کر اپنی عظیم قدرت سے بچایا اور بڑے اختیار کے ساتھ مصر سے نکال لایا۔
پھر بھی مجھے بتائیں، مسئلہ کیا ہے؟“ عورت بولی، ”اِس عورت نے مجھ سے کہا تھا، ’آئیں، آج آپ اپنے بیٹے کو قربان کریں تاکہ ہم اُسے کھا لیں، تو پھر کل ہم میرے بیٹے کو کھا لیں گے۔‘
¶ اُس کے امام تلوار سے قتل ہوئے، اور اُس کی بیواؤں نے ماتم نہ کیا۔
تُو تو ہمارا باپ ہے۔ کیونکہ ابراہیم ہمیں نہیں جانتا اور اسرائیل ہمیں نہیں پہچانتا، لیکن تُو، رب ہمارا باپ ہے، قدیم زمانے سے ہی تیرا نام ’ہمارا چھڑانے والا‘ ہے۔
کیونکہ نبی جھوٹی پیش گوئیاں سناتے اور امام اپنی ہی مرضی سے حکومت کرتے ہیں۔ اور میری قوم اُن کا یہ رویہ عزیز رکھتی ہے۔ لیکن مجھے بتاؤ، جب یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا تو پھر تم کیا کرو گے؟
¶ اے رب، ہم اپنی بےدینی اور اپنے باپ دادا کا قصور تسلیم کرتے ہیں۔ ہم نے تیرا ہی گناہ کیا ہے۔
رب فرماتا ہے، ’اِس کے بعد مَیں یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ کو اُس کے افسروں اور باقی باشندوں سمیت بابل کے بادشاہ نبوکدنضر کے حوالے کر دوں گا۔ وبا، تلوار اور کال سے بچنے والے سب اپنے جانی دشمن کے قابو میں آ جائیں گے۔ تب نبوکدنضر بےرحمی سے اُنہیں تلوار سے مار دے گا۔ نہ اُسے اُن پر ترس آئے گا، نہ وہ ہم دردی کا اظہار کرے گا۔‘
¶ مَیں نے اپنے عاشقوں کو بُلایا، لیکن اُنہوں نے بےوفا ہو کر مجھے ترک کر دیا۔ اب میرے امام اور بزرگ اپنی جان بچانے کے لئے خوراک ڈھونڈتے ڈھونڈتے شہر میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
¶ لیکن یہ سب کچھ اُس کے نبیوں اور اماموں کے سبب سے ہوا جنہوں نے شہر ہی میں راست بازوں کی خوں ریزی کی۔
تب تیرے درمیان باپ اپنے بیٹوں کو اور بیٹے اپنے باپ کو کھائیں گے۔ مَیں تیری عدالت یوں کروں گا کہ جتنے بچیں گے وہ سب ہَوا میں اُڑ کر چاروں طرف منتشر ہو جائیں گے۔“
¶ پھر رب اُن سے دوبارہ ہم کلام ہوا، ”رب کے گھر کے صحنوں کو مقتولوں سے بھر کر اُس کی بےحرمتی کرو، پھر وہاں سے نکل جاؤ!“ وہ نکل گئے اور شہر میں سے گزر کر لوگوں کو مار ڈالنے لگے۔