¶ مَیں فدیہ دے کر اُنہیں پاتال سے کیوں رِہا کروں؟ مَیں اُنہیں موت کی گرفت سے کیوں چھڑاؤں؟ اے موت، تیرے کانٹے کہاں رہے؟ اے پاتال، تیرا ڈنک کہاں رہا؟ اُسے کام میں لا، کیونکہ مَیں ترس نہیں کھاؤں گا۔
TSK
TSK · لوقا 20:36
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
کیونکہ قیامت کے دن لوگ نہ شادی کریں گے نہ اُن کی شادی کرائی جائے گی بلکہ وہ آسمان پر فرشتوں کی مانند ہوں گے۔
اور چونکہ ہم اُس کے فرزند ہیں اِس لئے ہم وارث ہیں، اللہ کے وارث اور مسیح کے ہم میراث۔ کیونکہ اگر ہم مسیح کے دُکھ میں شریک ہوں تو اُس کے جلال میں بھی شریک ہوں گے۔
¶ مُردوں کا جی اُٹھنا بھی ایسا ہی ہے۔ جسم فانی حالت میں بویا جاتا ہے اور لافانی حالت میں جی اُٹھتا ہے۔
اور یہ اچانک، آنکھ جھپکتے میں، آخری بِگل بجتے ہی رونما ہو گا۔ کیونکہ بِگل بجنے پر مُردے لافانی حالت میں جی اُٹھیں گے اور ہم بدل جائیں گے۔
¶ بھائیو، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اُن کے بارے میں حقیقت جان لیں جو سو گئے ہیں تاکہ آپ دوسروں کی طرح جن کی کوئی اُمید نہیں ماتم نہ کریں۔
¶ پھر مَیں نے ایک لیلا دیکھا جو تخت کے درمیان کھڑا تھا۔ وہ چار جانداروں اور بزرگوں سے گھرا ہوا تھا اور یوں لگتا تھا کہ اُسے ذبح کیا گیا ہو۔ اُس کے سات سینگ اور سات آنکھیں تھیں۔ اِن سے مراد اللہ کی وہ سات روحیں ہیں جنہیں دنیا کی ہر جگہ بھیجا گیا ہے۔
مبارک اور مُقدّس ہیں وہ جو اِس پہلی قیامت میں شریک ہیں۔ اِن پر دوسری موت کا کوئی اختیار نہیں ہے بلکہ یہ اللہ اور مسیح کے امام ہو کر ہزار سال تک اُس کے ساتھ حکومت کریں گے۔
شہر کی بڑی سڑک کے بیچ میں سے بہہ رہا تھا۔ دریا کے دونوں کناروں پر زندگی کا درخت تھا۔ یہ درخت سال میں بارہ دفعہ پھل لاتا تھا، ہر مہینے میں ایک بار۔ اور درخت کے پتے قوموں کی شفا کے لئے استعمال ہوتے تھے۔