¶ لیکن موسیٰ نے کہا، ”میرے آقا، مَیں معذرت چاہتا ہوں، مَیں اچھی طرح بات نہیں کر سکتا بلکہ مَیں کبھی بھی یہ لیاقت نہیں رکھتا تھا۔ اِس وقت بھی جب مَیں تجھ سے بات کر رہا ہوں میری یہی حالت ہے۔ مَیں رُک رُک کر بولتا ہوں۔“
TSK
TSK · مرقس 13:11
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ رب قادرِ مطلق نے مجھے شاگرد کی سی زبان عطا کی تاکہ مَیں وہ کلام جان لوں جس سے تھکاماندہ تقویت پائے۔ صبح بہ صبح وہ میرے کان کو جگا دیتا ہے تاکہ مَیں شاگرد کی طرح سن سکوں۔
¶ سدرک، میسک اور عبدنجو نے جواب دیا، ”اے نبوکدنضر، اِس معاملے میں ہمیں اپنا دفاع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
جب وہ تمہیں گرفتار کریں گے تو یہ سوچتے سوچتے پریشان نہ ہو جانا کہ مَیں کیا کہوں یا کس طرح بات کروں۔ اُس وقت تم کو بتایا جائے گا کہ کیا کہنا ہے،
¶ جب لوگ تم کو عبادت خانوں میں اور حاکموں اور اختیار والوں کے سامنے گھسیٹ کر لے جائیں گے تو یہ سوچتے سوچتے پریشان نہ ہو جانا کہ مَیں کس طرح اپنا دفاع کروں یا کیا کہوں،
¶ یحییٰ نے جواب دیا، ”ہر ایک کو صرف وہ کچھ ملتا ہے جو اُسے آسمان سے دیا جاتا ہے۔
یہ ہمارے باپ دادا کے خدا، ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے خدا کی طرف سے ہے جس نے اپنے بندے عیسیٰ کو جلال دیا ہے۔ یہ وہی عیسیٰ ہے جسے آپ نے دشمن کے حوالے کر کے پیلاطس کے سامنے رد کیا، اگرچہ وہ اُسے رِہا کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔
¶ دعا کے اختتام پر وہ جگہ ہل گئی جہاں وہ جمع تھے۔ سب روح القدس سے معمور ہو گئے اور دلیری سے اللہ کا کلام سنانے لگے۔
جب اجلاس میں بیٹھے تمام لوگ گھور گھور کر ستفنس کی طرف دیکھنے لگے تو اُس کا چہرہ فرشتے کا سا نظر آیا۔
¶ یہی کچھ ہم بیان کرتے ہیں، لیکن ایسے الفاظ میں نہیں جو انسانی حکمت سے ہمیں سکھایا گیا بلکہ روح القدس سے۔ یوں ہم روحانی حقیقتوں کی تشریح روحانی لوگوں کے لئے کرتے ہیں۔
میرے لئے بھی دعا کریں کہ جب بھی مَیں اپنا منہ کھولوں اللہ مجھے ایسے الفاظ عطا کرے کہ پوری دلیری سے اُس کی خوش خبری کا راز سنا سکوں۔
اُن پر اِتنا ظاہر کیا گیا کہ اُن کی یہ پیش گوئیاں اُن کے اپنے لئے نہیں تھیں، بلکہ آپ کے لئے۔ اور اب یہ سب کچھ آپ کو اُن ہی کے وسیلے سے پیش کیا گیا ہے جنہوں نے آسمان سے بھیجے گئے روح القدس کے ذریعے آپ کو اللہ کی خوش خبری سنائی ہے۔ یہ ایسی باتیں ہیں جن پر فرشتے بھی نظر ڈالنے کے آرزومند ہیں۔