اُنہوں نے جواب دیا، ”جی، آپ کے خادم ہمارے باپ اب تک زندہ ہیں۔“ وہ دوبارہ منہ کے بل جھک گئے۔
TSK
TSK · مرقس 15:19
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
جب کبھی ہامان آ موجود ہوتا تو شاہی صحن کے دروازے کے تمام شاہی افسر منہ کے بل جھک جاتے، کیونکہ بادشاہ نے ایسا کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن مردکی ایسا نہیں کرتا تھا۔
اِن کمینے اور بےنام لوگوں کو مار مار کر ملک سے بھگا دیا گیا ہے۔
¶ لیکن جب مَیں خود ٹھوکر کھانے لگا تو وہ خوش ہو کر میرے خلاف جمع ہوئے۔ وہ مجھ پر حملہ کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے، اور مجھے معلوم ہی نہیں تھا۔ وہ مجھے پھاڑتے رہے اور باز نہ آئے۔
¶ تُو میری رُسوائی، میری شرمندگی اور تذلیل سے واقف ہے۔ تیری آنکھیں میرے تمام دشمنوں پر لگی رہتی ہیں۔
¶ رب جو اسرائیل کا چھڑانے والا اور اُس کا قدوس ہے اُس سے ہم کلام ہوا ہے جسے لوگ حقیر جانتے ہیں، جس سے دیگر اقوام گھن کھاتے ہیں اور جو حکمرانوں کا غلام ہے۔ اُس سے رب فرماتا ہے، ”تجھے دیکھتے ہی بادشاہ کھڑے ہو جائیں گے اور رئیس منہ کے بل جھک جائیں گے۔ یہ رب کی خاطر ہی پیش آئے گا جو وفادار ہے اور اسرائیل کے قدوس کے باعث ہی وقوع پذیر ہو گا جس نے تجھے چن لیا ہے۔“
تجھے دیکھ کر بہتوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ کیونکہ اُس کی شکل اِتنی خراب تھی، اُس کی صورت کسی بھی انسان سے کہیں زیادہ بگڑی ہوئی تھی۔
¶ اے شہر جس پر حملہ ہو رہا ہے، اب اپنے آپ کو چھری سے زخمی کر، کیونکہ ہمارا محاصرہ ہو رہا ہے۔ دشمن لاٹھی سے اسرائیل کے حکمران کے گال پر مارے گا۔
¶ عیسیٰ نے جواب دیا، ”الیاس تو ضرور پہلے سب کچھ بحال کرنے کے لئے آئے گا۔ لیکن کلامِ مُقدّس میں ابنِ آدم کے بارے میں یہ کیوں لکھا ہے کہ اُسے بہت دُکھ اُٹھانا اور حقیر سمجھا جانا ہے؟
¶ پھر کچھ اُس پر تھوکنے لگے۔ اُنہوں نے اُس کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور اُسے مُکے مار مار کر کہنے لگے، ”نبوّت کر!“ ملازموں نے بھی اُسے تھپڑ مارے۔
¶ پہرے دار عیسیٰ کا مذاق اُڑانے اور اُس کی پٹائی کرنے لگے۔
¶ فوجیوں نے بھی اُسے لعن طعن کی۔ اُس کے پاس آ کر اُنہوں نے اُسے مَے کا سرکہ پیش کیا
تو پھر آپ جو صرف سبزی کھاتے ہیں اپنے بھائی کو مجرم کیوں ٹھہراتے ہیں؟ اور آپ جو سب کچھ کھاتے ہیں اپنے بھائی کو حقیر کیوں جانتے ہیں؟ یاد رکھیں کہ ایک دن ہم سب اللہ کے تخت عدالت کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
اور دوڑتے ہوئے ہم عیسیٰ کو تکتے رہیں، اُسے جو ایمان کا بانی بھی ہے اور اُسے تکمیل تک پہنچانے والا بھی۔ یاد رہے کہ گو وہ خوشی حاصل کر سکتا تھا توبھی اُس نے صلیبی موت کی شرم ناک بےعزتی کی پروا نہ کی بلکہ اِسے برداشت کیا۔ اور اب وہ اللہ کے تخت کے دہنے ہاتھ جا بیٹھا ہے!