بادشاہ ناراض ہوا، ”مجھے کتنی دفعہ آپ کو سمجھانا پڑے گا کہ آپ قَسم کھا کر مجھے رب کے نام میں صرف وہ کچھ سنائیں جو حقیقت ہے۔“
TSK
TSK · مرقس 5:7
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
پھر آزمانے والا اُس کے پاس آ کر کہنے لگا، ”اگر تُو اللہ کا فرزند ہے تو اِن پتھروں کو حکم دے کہ روٹی بن جائیں۔“
¶ پطرس نے جواب دیا، ”آپ زندہ خدا کے فرزند مسیح ہیں۔“
”اے ناصرت کے عیسیٰ، ہمارا آپ کے ساتھ کیا واسطہ ہے؟ کیا آپ ہمیں ہلاک کرنے آئے ہیں؟ مَیں تو جانتا ہوں کہ آپ کون ہیں، آپ اللہ کے قدوس ہیں۔“
¶ لیکن عیسیٰ خاموش رہا۔ اُس نے کوئی جواب نہ دیا۔ امامِ اعظم نے اُس سے ایک اَور سوال کیا، ”کیا تُو الحمید کا فرزند مسیح ہے؟“
”ارے ناصرت کے عیسیٰ، ہمارا آپ کے ساتھ کیا واسطہ ہے؟ کیا آپ ہمیں ہلاک کرنے آئے ہیں؟ مَیں تو جانتا ہوں کہ آپ کون ہیں، آپ اللہ کے قدوس ہیں۔“
عیسیٰ کو دیکھ کر وہ چلّایا اور اُس کے سامنے گر گیا۔ اونچی آواز سے اُس نے کہا، ”عیسیٰ اللہ تعالیٰ کے فرزند، میرا آپ کے ساتھ کیا واسطہ ہے؟ مَیں منت کرتا ہوں، مجھے عذاب میں نہ ڈالیں۔“
سڑک پر سفر کرتے کرتے وہ ایک جگہ سے گزرے جہاں پانی تھا۔ خواجہ سرا نے کہا، ”دیکھیں، یہاں پانی ہے۔ اب مجھے بپتسمہ لینے سے کون سی چیز روک سکتی ہے؟“
وہاں کچھ ایسے یہودی بھی تھے جو جگہ جگہ جا کر بدروحیں نکالتے تھے۔ اب وہ بدروحوں کے بندھن میں پھنسے لوگوں پر خداوند عیسیٰ کا نام استعمال کرنے کی کوشش کر کے کہنے لگے، ”مَیں تجھے اُس عیسیٰ کے نام سے نکلنے کا حکم دیتا ہوں جس کی منادی پولس کرتا ہے۔“
¶ اب چونکہ یہ بچے گوشت پوست اور خون کے انسان ہیں اِس لئے عیسیٰ خود اُن کی مانند بن گیا اور اُن کی انسانی فطرت میں شریک ہوا۔ کیونکہ اِس طرح ہی وہ اپنی موت سے موت کے مالک ابلیس کو تباہ کر سکا،
¶ دیکھیں، اللہ نے اُن فرشتوں کو بچنے نہ دیا جنہوں نے گناہ کیا بلکہ اُنہیں تاریکی کی زنجیروں میں باندھ کر جہنم میں ڈال دیا جہاں وہ عدالت کے دن تک محفوظ رہیں گے۔
اُن فرشتوں کو یاد کریں جو اُس دائرۂ اختیار کے اندر نہ رہے جو اللہ نے اُن کے لئے مقرر کیا تھا بلکہ جنہوں نے اپنی رہائش گاہ کو ترک کر دیا۔ اُنہیں اُس نے تاریکی میں محفوظ رکھا ہے جہاں وہ ابدی زنجیروں میں جکڑے ہوئے روزِ عظیم کی عدالت کا انتظار کر رہے ہیں۔
¶ پھر مَیں نے ایک فرشتہ دیکھا جو آسمان سے اُتر رہا تھا۔ اُس کے ہاتھ میں اتھاہ گڑھے کی چابی اور ایک بھاری زنجیر تھی۔