¶ لیکن رات کے وقت اللہ خواب میں ابی مَلِک پر ظاہر ہوا اور کہا، ”موت تیرے سر پر کھڑی ہے، کیونکہ جو عورت تُو اپنے گھر لے آیا ہے وہ شادی شدہ ہے۔“
TSK
TSK · متی 19:9
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ رب فرماتا ہے، ”اگر کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے اور الگ ہونے کے بعد بیوی کی کسی اَور سے شادی ہو جائے تو کیا پہلے شوہر کو اُس سے دوبارہ شادی کرنے کی اجازت ہے؟ ہرگز نہیں، بلکہ ایسی حرکت سے پورے ملک کی بےحرمتی ہو جاتی ہے۔ دیکھ، یہی تیری حالت ہے۔ تُو نے متعدد عاشقوں سے زنا کیا ہے، اور اب تُو میرے پاس واپس آنا چاہتی ہے۔ یہ کیسی بات ہے؟
¶ مَیں دوبارہ تیرے پاس سے گزرا تو دیکھا کہ تُو شادی کے قابل ہو گئی ہے۔ مَیں نے اپنے لباس کا دامن تجھ پر بچھا کر تیری برہنگی کو ڈھانپ دیا۔ مَیں نے قَسم کھا کر تیرے ساتھ عہد باندھا اور یوں تیرا مالک بن گیا۔ یہ رب قادرِ مطلق کا فرمان ہے۔
اپنی زناکاری میں اضافہ کر کے تُو سوداگروں کے ملک بابل کے پیچھے پڑ گئی۔ لیکن یہ بھی تیری شہوت کے لئے کافی نہیں تھا۔‘
اُس نے اُنہیں بتایا، ”جو اپنی بیوی کو طلاق دے کر کسی اَور سے شادی کرے وہ اُس کے ساتھ زنا کرتا ہے۔
شادی کی مثال لیں۔ جب کسی عورت کی شادی ہوتی ہے تو شریعت اُس کا شوہر کے ساتھ بندھن اُس وقت تک قائم رکھتی ہے جب تک شوہر زندہ ہے۔ اگر شوہر مر جائے تو پھر وہ اِس بندھن سے آزاد ہو گئی۔
بیوی اپنے جسم پر اختیار نہیں رکھتی بلکہ اُس کا شوہر۔ اِسی طرح شوہر بھی اپنے جسم پر اختیار نہیں رکھتا بلکہ اُس کی بیوی۔
¶ جب تک خاوند زندہ ہے بیوی کو اُس سے رشتہ توڑنے کی اجازت نہیں۔ خاوند کی وفات کے بعد وہ آزاد ہے کہ جس سے چاہے شادی کر لے، مگر صرف خداوند میں۔