TSK

TSK · میکاہ 2:13

Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.

واپس گزرنے پر

¶ اللہ کا فرشتہ اسرائیلی لشکر کے آگے آگے چل رہا تھا۔ اب وہ وہاں سے ہٹ کر اُن کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ بادل کا ستون بھی لوگوں کے آگے سے ہٹ کر اُن کے پیچھے جا کھڑا ہوا۔

تاکہ تُو اندھوں کی آنکھیں کھولے، قیدیوں کو کوٹھڑی سے رِہا کرے اور تاریکی کی قید میں بسنے والوں کو چھٹکارا دے۔

¶ رب اپنے مسح کئے ہوئے خادم خورس سے فرماتا ہے، ”مَیں نے تیرے دہنے ہاتھ کو پکڑ لیا ہے، اِس لئے جہاں بھی تُو جائے وہاں قومیں تیرے تابع ہو جائیں گی، بادشاہوں کی طاقت جاتی رہے گی، دروازے کھل جائیں گے اور شہر کے دروازے بند نہیں رہیں گے۔

¶ کیا سورمے کا لُوٹا ہوا مال اُس کے ہاتھ سے چھینا جا سکتا ہے؟ یا کیا ظالم کے قیدی اُس کے قبضے سے چھوٹ سکتے ہیں؟ مشکل ہی سے۔

¶ ”مَیں، صرف مَیں ہی تجھے تسلی دیتا ہوں۔ تو پھر تُو فانی انسان سے کیوں ڈرتی ہے، جو گھاس کی طرح مُرجھا کر ختم ہو جاتا ہے؟

¶ دیکھ، مَیں نے مقرر کیا کہ وہ اقوام کے سامنے میرا گواہ ہو، کہ اقوام کا رئیس اور حکمران ہو۔

¶ رب فرماتا ہے، ”وہ وقت آنے والا ہے کہ مَیں داؤد کے لئے ایک راست باز کونپل پھوٹنے دوں گا، ایک ایسا بادشاہ جو حکمت سے حکومت کرے گا، جو ملک میں انصاف اور راستی قائم رکھے گا۔

¶ مَیں اُن پر ایک ہی گلہ بان یعنی اپنے خادم داؤد کو مقرر کروں گا جو اُنہیں چَرا کر اُن کی دیکھ بھال کرے گا۔ وہی اُن کا صحیح چرواہا رہے گا۔

¶ جب یہ بادشاہ حکومت کریں گے، اُن ہی دنوں میں آسمان کا خدا ایک بادشاہی قائم کرے گا جو نہ کبھی تباہ ہو گی، نہ کسی دوسری قوم کے ہاتھ میں آئے گی۔ یہ بادشاہی اِن دیگر تمام سلطنتوں کو پاش پاش کر کے ختم کرے گی، لیکن خود ابد تک قائم رہے گی۔

¶ اپنی ماں اسرائیل پر الزام لگاؤ، ہاں اُس پر الزام لگاؤ! کیونکہ نہ وہ میری بیوی ہے، نہ مَیں اُس کا شوہر ہوں۔ وہ اپنے چہرے سے اور اپنی چھاتیوں کے درمیان سے زناکاری کے نشان دُور کرے،

¶ مَیں فدیہ دے کر اُنہیں پاتال سے کیوں رِہا کروں؟ مَیں اُنہیں موت کی گرفت سے کیوں چھڑاؤں؟ اے موت، تیرے کانٹے کہاں رہے؟ اے پاتال، تیرا ڈنک کہاں رہا؟ اُسے کام میں لا، کیونکہ مَیں ترس نہیں کھاؤں گا۔

¶ تب رب اُن پر ظاہر ہو کر بجلی کی طرح اپنا تیر چلائے گا۔ رب قادرِ مطلق نرسنگا پھونک کر جنوبی آندھیوں میں آئے گا۔

مَیں اپنی قوم کو رب میں تقویت دوں گا، اور وہ اُس کا ہی نام لے کر زندگی گزاریں گے۔“ یہ رب کا فرمان ہے۔

میری بھیڑیں میری آواز سنتی ہیں۔ مَیں اُنہیں جانتا ہوں اور وہ میرے پیچھے چلتی ہیں۔

¶ لیکن ہم اُسے ضرور دیکھتے ہیں جو ”تھوڑی دیر کے لئے فرشتوں سے کم“ تھا یعنی عیسیٰ کو جسے اُس کی موت تک کے دُکھ کی وجہ سے ”جلال اور عزت کا تاج“ پہنایا گیا ہے۔ ہاں، اللہ کے فضل سے اُس نے سب کی خاطر موت برداشت کی۔

وہیں عیسیٰ ہمارے آگے آگے جا کر ہماری خاطر داخل ہوا ہے۔ یوں وہ مَلِک صدق کی مانند ہمیشہ کے لئے امامِ اعظم بن گیا ہے۔

لیکن لیلا اپنے بُلائے گئے، چنے ہوئے اور وفادار پیروکاروں کے ساتھ اُن پر غالب آئے گا، کیونکہ وہ ربوں کا رب اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔“