¶ اسرائیل کے بادشاہ نے تقریباً 400 نبیوں کو بُلا کر اُن سے پوچھا، ”کیا مَیں رامات جِلعاد پر حملہ کروں یا اِس ارادے سے باز رہوں؟“ نبیوں نے جواب دیا، ”جی کریں، کیونکہ رب اُسے بادشاہ کے حوالے کر دے گا۔“
TSK
TSK · میکاہ 3:2
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ وہ مردود کو حقیر جانتا لیکن خدا ترس کی عزت کرتا ہے۔ جو وعدہ اُس نے قَسم کھا کر کیا اُسے پورا کرتا ہے، خواہ اُسے کتنا ہی نقصان کیوں نہ پہنچے۔
¶ اے رب، کیا مَیں اُن سے نفرت نہ کروں جو تجھ سے نفرت کرتے ہیں؟ کیا مَیں اُن سے گھن نہ کھاؤں جو تیرے خلاف اُٹھے ہیں؟
یہ تم نے کیسی گستاخی کر دکھائی؟ یہ میری ہی قوم ہے جسے تم کچل رہے ہو۔ تم مصیبت زدوں کے چہروں کو چکّی میں پیس رہے ہو۔“ قادرِ مطلق رب الافواج یوں فرماتا ہے۔
¶ ملک کے درمیان کے بزرگ بھیڑیوں کی مانند ہیں جو اپنے شکار کو پھاڑ پھاڑ کر خون بہاتے اور لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارتے ہیں تاکہ ناروا نفع کمائیں۔
¶ اے کوہِ سامریہ کی موٹی تازی گائیو، سنو میری بات! تم غریبوں پر ظلم کرتی اور ضرورت مندوں کو کچل دیتی، تم اپنے شوہروں کو کہتی ہو، ”جا کر مَے لے آؤ، ہم اَور پینا چاہتی ہیں۔“
بُرائی سے نفرت کرو اور جو کچھ اچھا ہے اُسے پیار کرو۔ عدالتوں میں انصاف قائم رکھو، شاید رب جو لشکروں کا خدا ہے یوسف کے بچے کھچے حصے پر رحم کرے۔
جو بزرگ اُس کے بیچ میں ہیں وہ دہاڑتے ہوئے شیرببر ہیں۔ اُس کے قاضی شام کے وقت بھوکے پھرنے والے بھیڑیئے ہیں جو طلوعِ صبح تک شکار کی ایک ہڈی تک نہیں چھوڑتے۔
لیکن اُس کی رعایا اُس سے نفرت رکھتی تھی، اِس لئے اُس نے اُس کے پیچھے وفد بھیج کر اطلاع دی، ’ہم نہیں چاہتے کہ یہ آدمی ہمارا بادشاہ بنے۔‘
¶ اگر دنیا تم سے دشمنی رکھے تو یہ بات ذہن میں رکھو کہ اُس نے تم سے پہلے مجھ سے دشمنی رکھی ہے۔
¶ لیکن جواب میں لوگ چلّانے لگے، ”نہیں، اِس کو نہیں بلکہ برابا کو۔“ (برابا ڈاکو تھا۔)
اگرچہ وہ اللہ کا فرمان جانتے ہیں کہ ایسا کرنے والے سزائے موت کے مستحق ہیں توبھی وہ ایسا کرتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ ایسا کرنے والے دیگر لوگوں کو شاباش بھی دیتے ہیں۔
اور محبت سے خالی ہوں گے۔ وہ صلح کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے، دوسروں پر تہمت لگائیں گے، عیاش اور وحشی ہوں گے اور بھلائی سے نفرت رکھیں گے۔