TSK

TSK · رومیوں 1:30

Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.

واپس گزرنے پر

لیکن اُس سے نفرت کرنے والوں کو وہ اُن کے رُوبرُو مناسب سزا دے کر برباد کرے گا۔ ہاں، جو اُس سے نفرت کرتے ہیں، اُن کے رُوبرُو وہ مناسب سزا دے گا اور جھجکے گا نہیں۔

¶ پھر لاوی کہیں، ’اُس پر لعنت جو اپنے باپ یا ماں کی تحقیر کرے۔‘ سب لوگ کہیں، ’آمین!‘

اُس وقت یاہو بن حنانی جو غیب بین تھا اُسے ملنے کے لئے نکلا اور بادشاہ سے کہا، ”کیا یہ ٹھیک ہے کہ آپ شریر کی مدد کریں؟ آپ کیوں اُن کو پیار کرتے ہیں جو رب سے نفرت کرتے ہیں؟ یہ دیکھ کر رب کا غضب آپ پر نازل ہوا ہے۔

¶ کیونکہ بےدین اپنی دلی آرزوؤں پر شیخی مارتا ہے، اور ناجائز نفع کمانے والا لعنت کر کے رب کو حقیر جانتا ہے۔

¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ حکمت کا یہ گیت اُس وقت سے متعلق ہے جب دو ئیگ ادومی ساؤل بادشاہ کے پاس گیا اور اُسے بتایا، ”داؤد اخی مَلِک امام کے گھر میں گیا ہے۔“ اے سورمے، تُو اپنی بدی پر کیوں فخر کرتا ہے؟ اللہ کی شفقت دن بھر قائم رہتی ہے۔

¶ وہ کفر کی باتیں اُگلتے رہتے، تمام بدکار شیخی مارتے رہتے ہیں۔

¶ اے رب ہمارے خدا، تُو نے اُن کی سنی۔ تُو جو اللہ ہے اُنہیں معاف کرتا رہا، البتہ اُنہیں اُن کی بُری حرکتوں کی سزا بھی دیتا رہا۔

¶ لیکن جو مجھے پانے سے قاصر رہے وہ اپنی جان پر ظلم کرتا ہے، جو بھی مجھ سے نفرت کرے اُسے موت پیاری ہے۔“

¶ جو آنکھ باپ کا مذاق اُڑائے اور ماں کی ہدایت کو حقیر جانے اُسے وادی کے کوّے اپنی چونچوں سے نکالیں گے اور گِدھ کے بچے کھا جائیں گے۔

مَیں اُن سے ایسا سلوک کروں گا تاکہ اسرائیلی قوم کے دل کو مضبوطی سے پکڑ لوں۔ کیونکہ اپنے بُتوں کی خاطر سب کے سب مجھ سے دُور ہو گئے ہیں۔‘

کیونکہ اللہ نے فرمایا، ’اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کرنا‘ اور ’جو اپنے باپ یا ماں پر لعنت کرے اُسے سزائے موت دی جائے۔‘

تمہارے والدین، بھائی، رشتے دار اور دوست بھی تم کو دشمن کے حوالے کر دیں گے، بلکہ تم میں سے بعض کو قتل کیا جائے گا۔

جو مجھ سے دشمنی رکھتا ہے وہ میرے باپ سے بھی دشمنی رکھتا ہے۔

¶ اچھا، تُو اپنے آپ کو یہودی کہتا ہے۔ تُو شریعت پر انحصار کرتا اور اللہ کے ساتھ اپنے تعلق پر فخر کرتا ہے۔

¶ اب ہمارا فخر کہاں رہا؟ اُسے تو ختم کر دیا گیا ہے۔ کس شریعت سے؟ کیا اعمال کی شریعت سے؟ نہیں، بلکہ ایمان کی شریعت سے۔

ہم ایسے کام پر فخر نہیں کرتے جو دوسروں کی محنت سے سرانجام دیا گیا ہے۔ اِس میں بھی ہم مناسب حدوں کے اندر رہتے ہیں، بلکہ ہم یہ اُمید رکھتے ہیں کہ آپ کا ایمان بڑھ جائے اور یوں ہماری قدر و قیمت بھی اللہ کی مقررہ حد تک بڑھ جائے۔ خدا کرے کہ آپ میں ہمارا یہ کام اِتنا بڑھ جائے

لوگ خود پسند اور پیسوں کے لالچی ہوں گے۔ وہ شیخی باز، مغرور، کفر بکنے والے، ماں باپ کے نافرمان، ناشکرے، بےدین

اِسی طرح زبان ایک چھوٹا سا عضو ہے، لیکن وہ بڑی بڑی باتیں کرتی ہے۔ دیکھیں، ایک بڑے جنگل کو بھسم کرنے کے لئے ایک ہی چنگاری کافی ہوتی ہے۔

یہ مغرور باتیں کرتے ہیں جن کے پیچھے کچھ نہیں ہے اور غیراخلاقی جسمانی شہوتوں سے ایسے لوگوں کو اُکساتے ہیں جو حال ہی میں دھوکے کی زندگی گزارنے والوں میں سے بچ نکلے ہیں۔