¶ لیکن جب فرعون نے دیکھا کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے تو وہ پھر اکڑ گیا اور اُن کی نہ سنی۔ یوں رب کی بات درست نکلی۔
TSK
TSK · رومیوں 2:5
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ لیکن حسبون کے بادشاہ سیحون نے ہمیں گزرنے نہ دیا، کیونکہ رب تمہارے خدا نے اُسے بےلچک اور ہماری بات سے انکار کرنے پر آمادہ کر دیا تھا تاکہ سیحون ہمارے قابو میں آ جائے۔ اور بعد میں ایسا ہی ہوا۔
رب ہی نے اُنہیں اکڑنے دیا تھا تاکہ وہ اسرائیل سے جنگ کریں اور اُن پر رحم نہ کیا جائے بلکہ اُنہیں پورے طور پر رب کے حوالے کر کے ہلاک کیا جائے۔ لازم تھا کہ اُنہیں یوں نیست و نابود کیا جائے جس طرح رب نے موسیٰ کو حکم دیا تھا۔
اُن کی طرح اَڑے نہ رہیں بلکہ رب کے تابع ہو جائیں۔ اُس کے مقدِس میں آئیں، جو اُس نے ہمیشہ کے لئے مخصوص و مُقدّس کر دیا ہے۔ رب اپنے خدا کی خدمت کریں تاکہ آپ اُس کے سخت غضب کا نشانہ نہ رہیں۔
کہ آفت کے دن شریر کو صحیح سلامت چھوڑا جاتا ہے، کہ غضب کے دن اُسے رِہائی ملتی ہے۔
¶ رب تیرے دہنے ہاتھ پر رہے گا اور اپنے غضب کے دن دیگر بادشاہوں کو چُور چُور کرے گا۔
¶ جو متعدد نصیحتوں کے باوجود ہٹ دھرم رہے وہ اچانک ہی برباد ہو جائے گا، اور شفا کا امکان ہی نہیں ہو گا۔
مَیں جانتا تھا کہ تُو کتنا ضدی ہے۔ تیرے گلے کی نسیں لوہے جیسی بےلچک اور تیری پیشانی پیتل جیسی سخت ہے۔
لیکن وہ پھول کر حد سے زیادہ مغرور ہو گئے، اِس لئے اُنہیں تخت سے اُتارا گیا، اور وہ اپنی قدر و منزلت کھو بیٹھے۔
جب تمہارے باپ دادا نے یہ کچھ سنا تو وہ اِس پر دھیان دینے کے لئے تیار نہیں تھے بلکہ اکڑ گئے۔ اُنہوں نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر کر اپنے کانوں کو بند کئے رکھا۔
اب ہم جانتے ہیں کہ ایسے کام کرنے والوں پر اللہ کا فیصلہ منصفانہ ہے۔
¶ بھائیو، مَیں چاہتا ہوں کہ آپ ایک بھید سے واقف ہو جائیں، کیونکہ یہ آپ کو اپنے آپ کو دانا سمجھنے سے باز رکھے گا۔ بھید یہ ہے کہ اسرائیل کا ایک حصہ اللہ کے فضل کے بارے میں بےحس ہو گیا ہے، اور اُس کی یہ حالت اُس وقت تک رہے گی جب تک غیریہودیوں کی پوری تعداد اللہ کی بادشاہی میں داخل نہ ہو جائے۔
¶ مذکورہ کلام میں لکھا ہے، ”اگر تم آج اللہ کی آواز سنو، تو اپنے دلوں کو سخت نہ کرو جس طرح بغاوت کے دن ہوا۔“
آپ کے سونے اور چاندی کو زنگ لگ گیا ہے۔ اور اُن کی زنگ آلودہ حالت آپ کے خلاف گواہی دے گی اور آپ کے جسموں کو آگ کی طرح کھا جائے گی۔ کیونکہ آپ نے اِن آخری دنوں میں اپنے لئے خزانے جمع کر لئے ہیں۔
اور اللہ کے اِسی حکم نے موجودہ آسمان اور زمین کو آگ کے لئے محفوظ کر رکھا ہے، اُس دن کے لئے جب بےدین لوگوں کی عدالت کی جائے گی اور وہ ہلاک ہو جائیں گے۔
کیونکہ اُن کے غضب کا عظیم دن آ گیا ہے، اور کون قائم رہ سکتا ہے؟“