¶ پھر یشوع اسرائیلی قوم سے مخاطب ہوا۔ ”رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے، ’قدیم زمانے میں تمہارے باپ دادا دریائے فرات کے پار بستے اور دیگر معبودوں کی پوجا کرتے تھے۔ ابراہیم اور نحور کا باپ تارح بھی وہاں آباد تھا۔
TSK
TSK · رومیوں 4:5
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ یشوع گندے کپڑے پہنے ہوئے فرشتے کے سامنے کھڑا تھا۔
¶ عیسیٰ نے جواب دیا، ”اللہ کا کام یہ ہے کہ تم اُس پر ایمان لاؤ جسے اُس نے بھیجا ہے۔“
کیونکہ اِس خوش خبری میں اللہ کی ہی راست بازی ظاہر ہوتی ہے، وہ راست بازی جو شروع سے آخر تک ایمان پر مبنی ہے۔ یہی بات کلامِ مُقدّس میں درج ہے جب لکھا ہے، ”راست باز ایمان ہی سے جیتا رہے گا۔“
اور اب موجودہ زمانے میں بھی۔ اِس سے وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ راست ہے اور ہر ایک کو راست باز ٹھہراتا ہے جو عیسیٰ پر ایمان لایا ہے۔
بلکہ ہماری خاطر بھی۔ کیونکہ اللہ ہمیں بھی راست باز قرار دے گا اگر ہم اُس پر ایمان رکھیں جس نے ہمارے خداوند عیسیٰ کو مُردوں میں سے زندہ کیا۔
لیکن جنہیں اُس نے پہلے سے مقرر کیا اُنہیں اُس نے بُلایا بھی، جنہیں اُس نے بُلایا اُنہیں اُس نے راست باز بھی ٹھہرایا اور جنہیں اُس نے راست باز ٹھہرایا اُنہیں اُس نے جلال بھی بخشا۔
یعنی یہ کہ اگر تُو اپنے منہ سے اقرار کرے کہ عیسیٰ خداوند ہے اور دل سے ایمان لائے کہ اللہ نے اُسے مُردوں میں سے زندہ کر دیا تو تجھے نجات ملے گی۔
لیکن ہم جانتے ہیں کہ انسان کو شریعت کی پیروی کرنے سے راست باز نہیں ٹھہرایا جاتا بلکہ عیسیٰ مسیح پر ایمان لانے سے۔ ہم بھی مسیح عیسیٰ پر ایمان لائے ہیں تاکہ ہمیں راست باز قرار دیا جائے، شریعت کی پیروی کرنے سے نہیں بلکہ مسیح پر ایمان لانے سے۔ کیونکہ شریعت کی پیروی کرنے سے کسی کو بھی راست باز قرار نہیں دیا جائے گا۔
اور اُس میں پایا جاؤں۔ لیکن مَیں اِس نوبت تک اپنی اُس راست بازی کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا جو شریعت کے تابع رہنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اِس کے لئے وہ راست بازی ضروری ہے جو مسیح پر ایمان لانے سے ملتی ہے، جو اللہ کی طرف سے ہے اور جو ایمان پر مبنی ہوتی ہے۔
کیونکہ ایک وقت تھا جب ہم بھی ناسمجھ، نافرمان اور صحیح راہ سے بھٹکے ہوئے تھے۔ اُس وقت ہم کئی طرح کی شہوتوں اور غلط خواہشوں کی غلامی میں تھے۔ ہم بُرے کاموں اور حسد کرنے میں زندگی گزارتے تھے۔ دوسرے ہم سے نفرت کرتے تھے اور ہم بھی اُن سے نفرت کرتے تھے۔