¶ دہشت اور خوف اُن پر چھا گیا۔ تیری عظیم قدرت کے باعث وہ پتھر کی طرح جم گئے۔ اے رب، وہ نہ ہلے جب تک تیری قوم گزر نہ گئی۔ وہ بےحس و حرکت رہے جب تک تیری خریدی ہوئی قوم گزر نہ گئی۔
TSK
TSK · طِطُس 2:14
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
پھر وہ اور اُس کے بال بچے آزاد ہو کر اپنے رشتے داروں اور موروثی زمین کے پاس واپس جائیں۔
اِس عہد کے تحت اُسے اور اُس کی اولاد کو ابد تک امام کا عُہدہ حاصل رہے گا، کیونکہ اپنے خدا کی خاطر غیرت کھا کر اُس نے اسرائیلیوں کا کفارہ دیا۔“
کیونکہ تُو رب اپنے خدا کے لئے مخصوص و مُقدّس قوم ہے۔ دنیا کی تمام قوموں میں سے رب نے تجھے ہی چن کر اپنی ملکیت بنا لیا ہے۔
¶ وہ اسرائیل کے تمام گناہوں کا فدیہ دے کر اُسے نجات دے گا۔
مَیں تم پر صاف پانی چھڑکوں گا تو تم پاک صاف ہو جاؤ گے۔ ہاں، مَیں تمہیں تمام ناپاکیوں اور بُتوں سے پاک صاف کر دوں گا۔
وہ بیٹھ کر چاندی کو پگھلا کر پاک صاف کرے گا۔ جس طرح سونے چاندی کو پگھلا کر پاک صاف کیا جاتا ہے اُسی طرح وہ لاوی کے قبیلے کو پاک صاف کرے گا۔ تب وہ رب کو راست قربانیاں پیش کریں گے۔
وہ ہاتھ میں چھاج پکڑے ہوئے اناج کو بھوسے سے الگ کرنے کے لئے تیار کھڑا ہے۔ وہ گاہنے کی جگہ بالکل صاف کر کے اناج کو اپنے گودام میں جمع کرے گا۔ لیکن بھوسے کو وہ ایسی آگ میں جھونکے گا جو بجھنے کی نہیں۔“
مَیں ہی زندگی کی وہ روٹی ہوں جو آسمان سے اُتر آئی ہے۔ جو اِس روٹی سے کھائے وہ ابد تک زندہ رہے گا۔ اور یہ روٹی میرا گوشت ہے جو مَیں دنیا کو زندگی مہیا کرنے کی خاطر پیش کروں گا۔“
¶ یافا میں ایک عورت تھی جو شاگرد تھی اور نیک کام کرنے اور خیرات دینے میں بہت آگے تھی۔ اُس کا نام تبیتا (غزالہ) تھا۔
شمعون نے بیان کیا ہے کہ اللہ نے کس طرح پہلا قدم اُٹھا کر غیریہودیوں پر اپنی فکرمندی کا اظہار کیا اور اُن میں سے اپنے لئے ایک قوم چن لی۔
بات یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی نہیں جو صرف اپنے واسطے زندگی گزارتا ہے اور کوئی نہیں جو صرف اپنے واسطے مرتا ہے۔
¶ مسیح وہی ہے جس نے اپنے آپ کو ہمارے گناہوں کی خاطر قربان کر دیا اور یوں ہمیں اِس موجودہ شریر جہان سے بچا لیا ہے، کیونکہ یہ اللہ ہمارے باپ کی مرضی تھی۔
¶ لیکن مسیح نے ہمارا فدیہ دے کر ہمیں شریعت کی لعنت سے آزاد کر دیا ہے۔ یہ اُس نے اِس طرح کیا کہ وہ ہماری خاطر خود لعنت بنا۔ کیونکہ کلامِ مُقدّس میں لکھا ہے، ”جسے بھی درخت سے لٹکایا گیا ہے اُس پر اللہ کی لعنت ہے۔“
محبت کی روح میں زندگی یوں گزاریں جیسے مسیح نے گزاری۔ کیونکہ اُس نے ہم سے محبت رکھ کر اپنے آپ کو ہمارے لئے اللہ کے حضور قربان کر دیا اور یوں ایسی قربانی بن گیا جس کی خوشبو اللہ کو پسند آئی۔
ہم اِس قابلِ قبول بات پر پورا بھروسا رکھ سکتے ہیں کہ مسیح عیسیٰ گناہ گاروں کو نجات دینے کے لئے اِس دنیا میں آیا۔ اُن میں سے مَیں سب سے بڑا گناہ گار ہوں،
بلکہ نیک کاموں سے۔ کیونکہ یہی ایسی خواتین کے لئے مناسب ہے جو خدا ترس ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں۔
آپ خود نیک کام کرنے میں اُن کے لئے نمونہ بنیں۔ تعلیم دیتے وقت آپ کی خلوص دلی، شرافت
اگر اِن چیزوں کا یہ اثر تھا تو پھر مسیح کے خون کا کیا زبردست اثر ہو گا! ازلی روح کے ذریعے اُس نے اپنے آپ کو بےداغ قربانی کے طور پر پیش کیا۔ یوں اُس کا خون ہمارے ضمیر کو موت تک پہنچانے والے کاموں سے پاک صاف کرتا ہے تاکہ ہم زندہ خدا کی خدمت کر سکیں۔
اللہ کے قریب آ جائیں تو وہ آپ کے قریب آئے گا۔ گناہ گارو، اپنے ہاتھوں کو پاک صاف کریں۔ دو دلو، اپنے دلوں کو مخصوص و مُقدّس کریں۔
¶ سچائی کے تابع ہو جانے سے آپ کو مخصوص و مُقدّس کر دیا گیا اور آپ کے دلوں میں بھائیوں کے لئے بےریا محبت ڈالی گئی ہے۔ چنانچہ اب ایک دوسرے کو خلوص دلی اور لگن سے پیار کرتے رہیں۔
غیرایمان داروں کے درمیان رہتے ہوئے اِتنی اچھی زندگی گزاریں کہ گو وہ آپ پر غلط کام کرنے کی تہمت بھی لگائیں توبھی اُنہیں آپ کے نیک کام نظر آئیں اور اُنہیں اللہ کی آمد کے دن اُس کی تمجید کرنی پڑے۔
عزیزو، اب ہم اللہ کے فرزند ہیں، اور جو کچھ ہم ہوں گے وہ ابھی تک ظاہر نہیں ہوا ہے۔ لیکن اِتنا ہم جانتے ہیں کہ جب وہ ظاہر ہو جائے گا تو ہم اُس کی مانند ہوں گے۔ کیونکہ ہم اُس کا مشاہدہ ویسے ہی کریں گے جیسا وہ ہے۔
ساتھ ساتھ وہ ایک نیا گیت گانے لگے، ”تُو طومار کو لے کر اُس کی مُہروں کو کھولنے کے لائق ہے۔ کیونکہ تجھے ذبح کیا گیا، اور اپنے خون سے تُو نے لوگوں کو ہر قبیلے، ہر اہلِ زبان، ہر ملت اور ہر قوم سے اللہ کے لئے خرید لیا ہے۔