¶ جب وہ اِدھر اُدھر گھومے پھرے تو سایہ ہی ہے۔ اُس کا شور شرابہ باطل ہے، اور گو وہ دولت جمع کرنے میں مصروف رہے توبھی اُسے معلوم نہیں کہ بعد میں کس کے قبضے میں آئے گی۔“
TSK
TSK · ۱-یوحنا 2:17
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ چنانچہ ہمارے تمام دن تیرے قہر کے تحت گھٹتے گھٹتے ختم ہو جاتے ہیں۔ جب ہم اپنے سالوں کے اختتام پر پہنچتے ہیں تو زندگی سرد آہ کے برابر ہی ہوتی ہے۔
¶ زیارت کا گیت۔ جو رب پر بھروسا رکھتے ہیں وہ کوہِ صیون کی مانند ہیں جو کبھی نہیں ڈگمگاتا بلکہ ابد تک قائم رہتا ہے۔
¶ جب طوفان آتے ہیں تو بےدین کا نام و نشان مٹ جاتا جبکہ راست باز ہمیشہ تک قائم رہتا ہے۔
¶ جو مجھے ’خداوند، خداوند‘ کہتے ہیں اُن میں سے سب آسمان کی بادشاہی میں داخل نہ ہوں گے بلکہ صرف وہ جو میرے آسمانی باپ کی مرضی پر عمل کرتے ہیں۔
آسمان و زمین تو جاتے رہیں گے، لیکن میری باتیں ہمیشہ تک قائم رہیں گی۔
لیکن جسے مَیں پانی پلا دوں اُسے بعد میں کبھی بھی پیاس نہیں لگے گی۔ بلکہ جو پانی مَیں اُسے دوں گا وہ اُس میں ایک چشمہ بن جائے گا جس سے پانی پھوٹ کر ابدی زندگی مہیا کرے گا۔“
جو اُس کی مرضی پوری کرنے کے لئے تیار ہے وہ جان لے گا کہ میری تعلیم اللہ کی طرف سے ہے یا کہ میری اپنی طرف سے۔
اِس دنیا کے سانچے میں نہ ڈھل جائیں بلکہ اللہ کو آپ کی سوچ کی تجدید کرنے دیں تاکہ آپ وہ شکل و صورت اپنا سکیں جو اُسے پسند ہے۔ پھر آپ اللہ کی مرضی کو پہچان سکیں گے، وہ کچھ جو اچھا، پسندیدہ اور کامل ہے۔
¶ اِس وجہ سے ہم آپ کے لئے دعا کرنے سے باز نہیں آئے بلکہ یہ مانگتے رہتے ہیں کہ اللہ آپ کو ہر روحانی حکمت اور سمجھ سے نواز کر اپنی مرضی کے علم سے بھر دے۔
کیونکہ اللہ کی مرضی ہے کہ آپ اُس کے لئے مخصوص و مُقدّس ہوں، کہ آپ زناکاری سے باز رہیں۔
لیکن اِس کے لئے آپ کو ثابت قدمی کی ضرورت ہے تاکہ آپ اللہ کی مرضی پوری کر سکیں اور یوں آپ کو وہ کچھ مل جائے جس کا وعدہ اُس نے کیا ہے۔
دیکھیں، آپ یہ بھی نہیں جانتے کہ کل کیا ہو گا۔ آپ کی زندگی چیز ہی کیا ہے! آپ بھاپ ہی ہیں جو تھوڑی دیر کے لئے نظر آتی، پھر غائب ہو جاتی ہے۔
یوں کلامِ مُقدّس فرماتا ہے، ”تمام انسان گھاس ہی ہیں، اُن کی تمام شان و شوکت جنگلی پھول کی مانند ہے۔ گھاس تو مُرجھا جاتی اور پھول گر جاتا ہے،