¶ جب اسرائیلیوں نے یہ سخت الفاظ سنے تو وہ ماتم کرنے لگے۔ کسی نے بھی اپنے زیور نہ پہنے،
TSK
TSK · ۱-سلاطِین 21:27
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ داؤد نے اللہ سے التماس کی کہ بچے کو بچنے دے۔ روزہ رکھ کر وہ رات کے وقت ننگے فرش پر سونے لگا۔
پھر محل کا انچارج اِلیاقیم بن خِلقیاہ، میرمنشی شبناہ اور مشیرِ خاص یوآخ بن آسف رنجش کے مارے اپنے لباس پھاڑ کر حِزقیاہ کے پاس واپس گئے۔ دربار میں پہنچ کر اُنہوں نے بادشاہ کو سب کچھ کہہ سنایا جو ربشاقی نے اُنہیں کہا تھا۔
داؤد نے اپنی نگاہ اُٹھا کر رب کے فرشتے کو آسمان و زمین کے درمیان کھڑے دیکھا۔ اپنی تلوار میان سے کھینچ کر اُس نے اُسے یروشلم کی طرف بڑھایا تھا کہ داؤد بزرگوں سمیت منہ کے بل گر گیا۔ سب ٹاٹ کا لباس اوڑھے ہوئے تھے۔
¶ اُس وقت قادرِ مطلق رب الافواج نے حکم دیا کہ گریہ و زاری کرو، اپنے بالوں کو منڈوا کر ٹاٹ کا لباس پہن لو۔
کیا مجھے اِس قسم کا روزہ پسند ہے؟ کیا یہ کافی ہے کہ بندہ اپنے آپ کو کچھ دیر کے لئے خاک سار بنا کر انکساری کا اظہار کرے؟ کہ وہ اپنے سر کو آبی نرسل کی طرح جھکا کر ٹاٹ اور راکھ میں لیٹ جائے؟ کیا تم واقعی سمجھتے ہو کہ یہ روزہ ہے، کہ ایسا وقت رب کو پسند ہے؟
¶ اے امامو، ٹاٹ کا لباس اوڑھ کر ماتم کرو! اے قربان گاہ کے خادمو، واویلا کرو! اے میرے خدا کے خادمو، آؤ، رات کو بھی ٹاٹ اوڑھ کر گزارو! کیونکہ تمہارے خدا کا گھر غلہ اور مَے کی نذروں سے محروم ہو گیا ہے۔