TSK

TSK · ۲-توارِیخ 10:16

مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.

العودة إلى المقطع

¶ لیکن اگلے دن جب داؤد کی جگہ پھر خالی رہی تو ساؤل نے یونتن سے پوچھا، ”یسّی کا بیٹا نہ تو کل، نہ آج ضیافت میں شریک ہوا ہے۔ کیا وجہ ہے؟“

وہ پکار اُٹھا، ”بن یمین کے مردو! سنیں، کیا یسّی کا بیٹا آپ سب کو کھیت اور انگور کے باغ دے گا؟ کیا وہ فوج میں آپ کو ہزار ہزار اور سَو سَو افراد پر مقرر کرے گا؟

ساؤل نے الزام لگا کر کہا، ”آپ نے یسّی کے بیٹے داؤد کے ساتھ میرے خلاف سازشیں کیوں کی ہیں؟ بتائیں، آپ نے اُسے روٹی اور تلوار کیوں دی؟ آپ نے اللہ سے دریافت کیوں کیا کہ داؤد آگے کیا کرے؟ آپ ہی کی مدد سے وہ سرکش ہو کر میری تاک میں بیٹھ گیا ہے، کیونکہ آج تو ایسا ہی ہو رہا ہے۔“

¶ ایک قاصد نے داؤد کے پاس پہنچ کر اُسے اطلاع دی، ”ابی سلوم آپ کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا ہے، اور تمام اسرائیل اُس کے پیچھے لگ گیا ہے۔“

¶ جھگڑنے والوں میں سے ایک بدمعاش تھا جس کا نام سبع بن بِکری تھا۔ وہ بن یمینی تھا۔ اب اُس نے نرسنگا بجا کر اعلان کیا، ”نہ ہمیں داؤد سے میراث میں کچھ ملے گا، نہ یسّی کے بیٹے سے کچھ ملنے کی اُمید ہے۔ اے اسرائیل، ہر ایک اپنے گھر واپس چلا جائے!“

¶ لیکن مَیں اِس وقت پوری بادشاہی سلیمان کے ہاتھ سے نہیں چھینوں گا۔ اپنے خادم داؤد کی خاطر جسے مَیں نے چن لیا اور جو میرے احکام اور ہدایات کے تابع رہا مَیں سلیمان کے جیتے جی یہ نہیں کروں گا۔ وہ خود بادشاہ رہے گا،

مَیں اُسے اپنے گھرانے اور اپنی بادشاہی پر ہمیشہ قائم رکھوں گا، اُس کا تخت ہمیشہ مضبوط رہے گا‘۔“

¶ اقوام کیوں طیش میں آ گئی ہیں؟ اُمّتیں کیوں بےکار سازشیں کر رہی ہیں؟

¶ مَیں اُس کی نسل ہمیشہ تک قائم رکھوں گا، جب تک آسمان قائم ہے اُس کا تخت قائم رکھوں گا۔

¶ کیونکہ ہمارے ہاں بچہ پیدا ہوا، ہمیں بیٹا بخشا گیا ہے۔ اُس کے کندھوں پر حکومت کا اختیار ٹھہرا رہے گا۔ وہ انوکھا مشیر، قوی خدا، ابدی باپ اور صلح سلامتی کا شہزادہ کہلائے گا۔

”رب فرماتا ہے کہ مَیں نے دن اور رات سے عہد باندھا ہے کہ وہ مقررہ وقت پر اور ترتیب وار گزریں۔ کوئی اِس عہد کو توڑ نہیں سکتا۔

میرا خادم داؤد اُن کا بادشاہ ہو گا، اُن کا ایک ہی گلہ بان ہو گا۔ تب وہ میری ہدایات کے مطابق زندگی گزاریں گے اور دھیان سے میرے احکام پر عمل کریں گے۔

وہ عظیم ہو گا اور اللہ تعالیٰ کا فرزند کہلائے گا۔ رب ہمارا خدا اُسے اُس کے باپ داؤد کے تخت پر بٹھائے گا

اب اُن دشمنوں کو لے آؤ جو نہیں چاہتے تھے کہ مَیں اُن کا بادشاہ بنوں۔ اُنہیں میرے سامنے پھانسی دے دو‘۔“

یہ کہہ کر ہر ایک اپنے اپنے گھر چلا گیا۔

کیونکہ لازم ہے کہ مسیح اُس وقت تک حکومت کرے جب تک اللہ تمام دشمنوں کو اُس کے پاؤں کے نیچے نہ کر دے۔