¶ رب تیرے خدا کا وعدہ پورا ہو گا جو اُس نے قَسم کھا کر تیرے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے ساتھ کیا کہ مَیں تجھے کنعان میں لے جاؤں گا۔ جو بڑے اور شاندار شہر اُس میں ہیں وہ تُو نے خود نہیں بنائے۔
TSK
TSK · ۲-توارِیخ 12:1
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ لیکن جب یسورون موٹا ہو گیا تو وہ دولتّیاں جھاڑنے لگا۔ جب وہ حلق تک بھر کر تنومند اور فربہ ہوا تو اُس نے اپنے خدا اور خالق کو رد کیا، اُس نے اپنی نجات کی چٹان کو حقیر جانا۔
جب بھی اسرائیلی لڑنے کے لئے نکلے تو رب کا ہاتھ اُن کے خلاف تھا۔ نتیجتاً وہ ہارتے گئے جس طرح اُس نے قَسم کھا کر فرمایا تھا۔ جب وہ اِس طرح بڑی مصیبت میں تھے
¶ صرف یہوداہ کے قبیلے کے شہروں میں رہنے والے اسرائیلی رحبعام کے تحت رہے۔
¶ لیکن یہوداہ کے باشندے بھی ایسی حرکتیں کرتے تھے جو رب کو ناپسند تھیں۔ اپنے گناہوں سے وہ اُسے طیش دلاتے رہے، کیونکہ اُن کے یہ گناہ اُن کے باپ دادا کے گناہوں سے کہیں زیادہ سنگین تھے۔
”یہوداہ کے بادشاہ رحبعام بن سلیمان اور یہوداہ اور بن یمین کے تمام افراد کو اطلاع دے،
¶ رحبعام کی سلطنت نے دوبارہ تقویت پائی، اور یروشلم میں رہ کر وہ اپنی حکومت جاری رکھ سکا۔ 41 سال کی عمر میں وہ تخت نشین ہوا تھا، اور وہ 17 سال بادشاہ رہا۔ اُس کا دار الحکومت یروشلم تھا، وہ شہر جسے رب نے تمام اسرائیلی قبیلوں میں سے چن لیا تاکہ اُس میں اپنا نام قائم کرے۔ اُس کی ماں نعمہ عمونی تھی۔
فوج 3,07,500 جنگ لڑنے کے قابل مردوں پر مشتمل تھی۔ جنگ میں بادشاہ اُن پر پورا بھروسا کر سکتا تھا۔
¶ اے گناہ گار قوم، تجھ پر افسوس! اے سنگین قصور میں پھنسی ہوئی اُمّت، تجھ پر افسوس! شریر نسل، بدچلن بچے! اُنہوں نے رب کو ترک کر دیا ہے۔ ہاں، اُنہوں نے اسرائیل کے قدوس کو حقیر جان کر رد کیا، اپنا منہ اُس سے پھیر لیا ہے۔
¶ یہوداہ کے راہنما اُن جیسے بن گئے ہیں جو ناجائز طور پر اپنی زمین کی حدود بڑھا دیتے ہیں۔ جواب میں مَیں اپنا غضب موسلادھار بارش کی طرح اُن پر نازل کروں گا۔
وہاں اُنہیں اچھی خوراک ملی۔ لیکن جب وہ جی بھر کر کھا سکے اور سیر ہوئے تو مغرور ہو کر مجھے بھول گئے۔