¶ تب ملک میں چالیس سال تک امن و امان قائم رہا۔ لیکن جب غُتنی ایل بن قنز فوت ہوا
TSK
TSK · ۲-توارِیخ 14:6
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ اے رب، تیرے تمام دشمن سیسرا کی طرح ہلاک ہو جائیں! لیکن جو تجھ سے پیار کرتے ہیں وہ پورے زور سے طلوع ہونے والے سورج کی مانند ہوں۔“ برق کی اِس فتح کے بعد اسرائیل میں 40 سال امن و امان قائم رہا۔
لیکن تیرے ایک بیٹا پیدا ہو گا جو امن پسند ہو گا۔ اُسے مَیں امن و امان مہیا کروں گا، اُسے چاروں طرف کے دشمنوں سے لڑنا نہیں پڑے گا۔ اُس کا نام سلیمان ہو گا، اور اُس کی حکومت کے دوران مَیں اسرائیل کو امن و امان عطا کروں گا۔
اِس کے بعد سلیمان نے وہ آبادیاں نئے سرے سے تعمیر کیں جو حیرام نے اُسے دے دی تھیں۔ اِن میں اُس نے اسرائیلیوں کو بسا دیا۔
یہ عہد تمام یہوداہ کے لئے خوشی کا باعث تھا، کیونکہ اُنہوں نے پورے دل سے قَسم کھا کر اُسے باندھا تھا۔ اور چونکہ وہ پورے دل سے خدا کے طالب تھے اِس لئے وہ اُسے پا بھی سکے۔ نتیجے میں رب نے اُنہیں چاروں طرف امن و امان مہیا کیا۔
اُس وقت سے یہوسفط سکون سے حکومت کر سکا، کیونکہ اللہ نے اُسے چاروں طرف کے ممالک کے حملوں سے محفوظ رکھا تھا۔
جو کچھ اُس نے اللہ کے گھر میں انتظام دوبارہ چلانے اور شریعت کو قائم کرنے کے سلسلے میں کیا اُس کے لئے وہ پورے دل سے اپنے خدا کا طالب رہا۔ نتیجے میں اُسے کامیابی حاصل ہوئی۔
لیکن اگر وہ خاموش بھی رہے تو کون اُسے مجرم قرار دے سکتا ہے؟ اگر وہ اپنے چہرے کو چھپائے رکھے تو کون اُسے دیکھ سکتا ہے؟ وہ تو قوم پر بلکہ ہر فرد پر حکومت کرتا ہے