TSK

TSK · ۲-توارِیخ 32:13

مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.

العودة إلى المقطع

¶ سلمنسر پورے ملک میں سے گزر کر سامریہ تک پہنچ گیا۔ تین سال تک اُسے شہر کا محاصرہ کرنا پڑا،

تم تو سن چکے ہو کہ اسور کے بادشاہوں نے جہاں بھی گئے کیا کچھ کیا ہے۔ ہر ملک کو اُنہوں نے مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ تو پھر تم کس طرح بچ جاؤ گے؟

اِن افسروں نے یروشلم کے خدا کا یوں تمسخر اُڑایا جیسا وہ دنیا کی دیگر قوموں کے دیوتاؤں کا اُڑایا کرتے تھے، حالانکہ دیگر معبود صرف انسانی ہاتھوں کی پیداوار تھے۔

پھر ہماری فتوحات پر غور کرو۔ کرکِمیس، کلنو، ارفاد، حمات، دمشق اور سامریہ جیسے تمام شہر یکے بعد دیگرے میرے قبضے میں آ گئے ہیں۔

جس طرح کوئی اپنا ہاتھ گھونسلے میں ڈال کر انڈے نکال لیتا ہے اُسی طرح مَیں نے قوموں کی دولت چھین لی ہے۔ عام آدمی پرندوں کو بھگا کر اُن کے چھوڑے ہوئے انڈے اکٹھے کر لیتا ہے جبکہ مَیں نے یہی سلوک دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ کیا۔ جب مَیں اُنہیں اپنے قبضے میں لایا تو ایک نے بھی اپنے پَروں کو پھڑپھڑانے یا چونچ کھول کر چیں چیں کرنے کی جرأت نہ کی‘۔“

اے رب، یہ بات سچ ہے کہ اسوری بادشاہوں نے اِن تمام قوموں کو اُن کے ملکوں سمیت تباہ کر دیا ہے۔

¶ بُت پرستوں کو بتاؤ کہ دیوتاؤں نے نہ آسمان کو بنایا اور نہ زمین کو، اُن کا نام و نشان تو آسمان و زمین سے مٹ جائے گا۔

تب وہ کہنے لگا، ”لو، یہ عظیم شہر دیکھو جو مَیں نے اپنی رہائش کے لئے تعمیر کیا ہے! یہ سب کچھ مَیں نے اپنی ہی زبردست قوت سے بنا لیا ہے تاکہ میری شان و شوکت مزید بڑھتی جائے۔“

اُسی نے اُنہیں وہ عظمت عطا کی تھی جس کے باعث تمام قوموں، اُمّتوں اور زبانوں کے افراد اُن سے ڈرتے اور اُن کے سامنے کانپتے تھے۔ جسے وہ مار ڈالنا چاہتے تھے اُسے مارا گیا، جسے وہ زندہ چھوڑنا چاہتے تھے وہ زندہ رہا۔ جسے وہ سرفراز کرنا چاہتے تھے وہ سرفراز ہوا اور جسے پست کرنا چاہتے تھے وہ پست ہوا۔

¶ بُتوں کی قربانی کھانے کے ضمن میں ہم جانتے ہیں کہ دنیا میں بُت کوئی چیز نہیں اور کہ رب کے سوا کوئی اَور خدا نہیں ہے۔