TSK

TSK · اعمال 11:18

مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.

العودة إلى المقطع

¶ جب فینحاس اور اسرائیلی جماعت کے کنبوں کے سربراہوں نے جِلعاد میں روبن، جد اور منسّی کے آدھے قبیلے کی یہ باتیں سنیں تو وہ مطمئن ہوئے۔

اور صیون کے سوگواروں کو دلاسا دے کر راکھ کے بجائے شاندار تاج، ماتم کے بجائے خوشی کا تیل اور شکستہ روح کے بجائے حمد و ثنا کا لباس مہیا کروں۔ تب وہ ’راستی کے درخت‘ کہلائیں گے، ایسے پودے جو رب نے اپنا جلال ظاہر کرنے کے لئے لگائے ہیں۔

¶ تب مَیں تمہیں نیا دل بخش کر تم میں نئی روح ڈال دوں گا۔ مَیں تمہارا سنگین دل نکال کر تمہیں گوشت پوست کا نرم دل عطا کروں گا۔

اب توبہ کریں اور اللہ کی طرف رجوع لائیں تاکہ آپ کے گناہوں کو مٹایا جائے۔

اللہ نے اُسی کو حکمران اور نجات دہندہ کی حیثیت سے سرفراز کر کے اپنے دہنے ہاتھ بٹھا لیا تاکہ وہ اسرائیل کو توبہ اور گناہوں کی معافی کا موقع فراہم کرے۔

کیونکہ خداوند نے ہمیں یہی حکم دیا جب اُس نے فرمایا، ’مَیں نے تجھے دیگر اقوام کی روشنی بنا دی ہے تاکہ تُو میری نجات کو دنیا کی انتہا تک پہنچائے‘۔“

¶ چنانچہ جماعت نے اُنہیں روانہ کیا اور وہ فینیکے اور سامریہ میں سے گزرے۔ راستے میں اُنہوں نے مقامی ایمان داروں کو تفصیل سے بتایا کہ غیریہودی کس طرح خداوند کی طرف رجوع لا رہے ہیں۔ یہ سن کر تمام بھائی نہایت خوش ہوئے۔

یہ سن کر اُنہوں نے اللہ کی تمجید کی۔ پھر اُنہوں نے کہا، ”بھائی، آپ کو معلوم ہے کہ ہزاروں یہودی ایمان لائے ہیں۔ اور سب بڑی سرگرمی سے شریعت پر عمل کرتے ہیں۔

مَیں تجھے تیری اپنی قوم سے بچائے رکھوں گا اور اُن غیریہودی قوموں سے بھی جن کے پاس تجھے بھیجوں گا۔

¶ اِس سے ہم کیا کہنا چاہتے ہیں؟ یہ کہ گو غیریہودی راست بازی کی تلاش میں نہ تھے توبھی اُنہیں راست بازی حاصل ہوئی، ایسی راست بازی جو ایمان سے پیدا ہوئی۔

وہ اِس لئے بھی خادم بنا کہ غیریہودی اللہ کو اُس رحم کے لئے جلال دیں جو اُس نے اُن پر کیا ہے۔ کلامِ مُقدّس میں یہی لکھا ہے، ”اِس لئے مَیں اقوام میں تیری حمد و ثنا کروں گا، تیرے نام کی تعریف میں گیت گاؤں گا۔“

کیونکہ جو دُکھ اللہ اپنی مرضی پوری کرانے کے لئے استعمال کرتا ہے اُس سے توبہ پیدا ہوتی ہے اور اُس کا انجام نجات ہے۔ اِس میں پچھتانے کی گنجائش ہی نہیں۔ اِس کے برعکس دنیاوی دُکھ کا انجام موت ہے۔

¶ کیونکہ مسیح عیسیٰ پر ایمان لانے سے آپ سب اللہ کے فرزند بن گئے ہیں۔

گزرے زمانوں میں اللہ نے یہ بات ظاہر نہیں کی، لیکن اب اُس نے اِسے روح القدس کے ذریعے اپنے مُقدّس رسولوں اور نبیوں پر ظاہر کر دیا۔

¶ میرے عزیز بھائیو، فریب مت کھانا!