¶ کسی کی جان لینا منع ہے۔ جو ایسا کرے گا اُسے اپنی جان دینی پڑے گی، خواہ وہ انسان ہو یا حیوان۔ مَیں خود اِس کا مطالبہ کروں گا۔
TSK
TSK · خروج 20:13
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
لیکن جو دیدہ دانستہ اور چالاکی سے کسی کو مار ڈالتا ہے اُسے میری قربان گاہ سے بھی چھین کر سزائے موت دینا ہے۔
لیکن ہو سکتا ہے کہ مالک کو پہلے آگاہ کیا گیا تھا کہ بَیل لوگوں کو مارتا ہے، توبھی اُس نے بَیل کو کھلا چھوڑا تھا جس کے نتیجے میں اُس نے کسی کو مار ڈالا۔ ایسی صورت میں نہ صرف بَیل کو بلکہ اُس کے مالک کو بھی سنگسار کرنا ہے۔
¶ اگر کسی نے کسی کو جان بوجھ کر لوہے، پتھر یا لکڑی کی کسی چیز سے مار ڈالا ہو وہ قاتل ہے اور اُسے سزائے موت دینی ہے۔
¶ لیکن ہو سکتا ہے کوئی دشمنی کے باعث کسی کی تاک میں بیٹھ جائے اور اُس پر حملہ کر کے اُسے مار ڈالے۔ اگر قاتل پناہ کے کسی شہر میں بھاگ کر پناہ لے
¶ لیکن منسّی نے نہ صرف یہوداہ کے باشندوں کو بُت پرستی اور ایسے کام کرنے پر اُکسایا جو رب کو ناپسند تھے بلکہ اُس نے بےشمار بےقصور لوگوں کو قتل بھی کیا۔ اُن کے خون سے یروشلم ایک سرے سے دوسرے سرے تک بھر گیا۔
¶ وہ آبادیوں کے قریب تاک میں بیٹھ کر چپکے سے بےگناہوں کو مار ڈالتا ہے، اُس کی آنکھیں بدقسمتوں کی گھات میں رہتی ہیں۔
یہ لوگ بھی ایک دن پھنس جائیں گے۔ جب تاک میں بیٹھ جاتے ہیں تو اپنے آپ کو تباہ کرتے ہیں، جب دوسروں کی گھات لگاتے ہیں تو اپنی ہی جان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
لیکن ایک بات جان لیں۔ اگر آپ مجھے سزائے موت دیں تو آپ بےقصور کے قاتل ٹھہریں گے۔ آپ اور یہ شہر اُس کے تمام باشندوں سمیت قصوروار ٹھہریں گے۔ کیونکہ رب ہی نے مجھے آپ کے پاس بھیجا تاکہ آپ کے سامنے ہی یہ باتیں کروں۔“
¶ آدمی نے پوچھا، ”کون سے احکام؟“ عیسیٰ نے جواب دیا، ”قتل نہ کرنا، زنا نہ کرنا، چوری نہ کرنا، جھوٹی گواہی نہ دینا،
مقامی لوگوں نے سانپ کو پولس کے ہاتھ سے لگے دیکھا تو ایک دوسرے سے کہنے لگے، ”یہ آدمی ضرور قاتل ہو گا۔ گو یہ سمندر سے بچ گیا، لیکن انصاف کی دیوی اِسے جینے نہیں دیتی۔“
جلن، نشہ بازی، رنگ رلیاں وغیرہ۔ مَیں پہلے بھی آپ کو آگاہ کر چکا ہوں، لیکن اب ایک بار پھر کہتا ہوں کہ جو اِس طرح کی زندگی گزارتے ہیں وہ اللہ کی بادشاہی میراث میں نہیں پائیں گے۔
کیونکہ جس نے فرمایا، ”زنا نہ کرنا“ اُس نے یہ بھی کہا، ”قتل نہ کرنا۔“ ہو سکتا ہے کہ آپ نے زنا تو نہ کیا ہو، لیکن کسی کو قتل کیا ہو۔ توبھی آپ اِس ایک جرم کی وجہ سے پوری شریعت توڑنے کے مجرم بن گئے ہیں۔
قابیل کی طرح نہ ہوں، جو ابلیس کا تھا اور جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا۔ اور اُس نے اُس کو قتل کیوں کیا؟ اِس لئے کہ اُس کا کام بُرا تھا جبکہ بھائی کا کام راست تھا۔