TSK

TSK · پَیدایش 35:2

مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.

العودة إلى المقطع

اُس وقت لابن اپنی بھیڑبکریوں کی پشم کترنے کو گیا ہوا تھا۔ اُس کی غیرموجودگی میں راخل نے اپنے باپ کے بُت چُرا لئے۔

شہر میں ایک آدمی بنام سِکم رہتا تھا۔ اُس کا والد حمور اُس علاقے کا حکمران تھا اور حِوّی قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ جب سِکم نے دینہ کو دیکھا تو اُس نے اُسے پکڑ کر اُس کی عصمت دری کی۔

جب وہ وہاں ٹھہرے تھے تو روبن یعقوب کی حرم بِلہاہ سے ہم بستر ہوا۔ یعقوب کو معلوم ہو گیا۔

¶ موسیٰ نے پہاڑ سے اُتر کر لوگوں کو اللہ کے لئے مخصوص و مُقدّس کیا۔ اُنہوں نے اپنے لباس بھی دھوئے۔

¶ جو بھی ہدایت مَیں نے دی ہے اُس پر عمل کر۔ دیگر معبودوں کی پرستش نہ کرنا۔ مَیں تیرے منہ سے اُن کے ناموں تک کا ذکر نہ سنوں۔

جو ایسا نہیں کرتا اُسے اپنے قصور کی سزا بھگتنی پڑے گی۔“

میرے سوا کسی اَور معبود کی پرستش نہ کرنا۔

¶ اُن کے دیوتاؤں کے مجسمے جلا دینا۔ جو چاندی اور سونا اُن پر چڑھایا ہوا ہے اُس کا لالچ نہ کرنا۔ اُسے نہ لینا ورنہ تُو پھنس جائے گا۔ کیونکہ اِن چیزوں سے رب تیرے خدا کو گھن آتی ہے۔

¶ اپنے اجنبی معبودوں سے اُنہوں نے اُس کی غیرت کو جوش دلایا، اپنے گھنونے بُتوں سے اُسے غصہ دلایا۔

¶ پھر یشوع اسرائیلی قوم سے مخاطب ہوا۔ ”رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے، ’قدیم زمانے میں تمہارے باپ دادا دریائے فرات کے پار بستے اور دیگر معبودوں کی پوجا کرتے تھے۔ ابراہیم اور نحور کا باپ تارح بھی وہاں آباد تھا۔

لیکن اگر رب کی خدمت کرنا آپ کو بُرا لگے تو آج ہی فیصلہ کریں کہ کس کی خدمت کریں گے، اُن دیوتاؤں کی جن کی پوجا آپ کے باپ دادا نے دریائے فرات کے پار کی یا اموریوں کے دیوتاؤں کی جن کے ملک میں آپ رہ رہے ہیں۔ لیکن جہاں تک میرا اور میرے خاندان کا تعلق ہے ہم رب ہی کی خدمت کریں گے۔“

یشوع نے کہا، ”تو پھر اپنے درمیان موجود بُتوں کو تباہ کر دیں اور اپنے دلوں کو رب اسرائیل کے خدا کے تابع رکھیں۔“

نعومی نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی، ”دیکھیں، عُرفہ اپنی قوم اور اپنے دیوتاؤں کے پاس واپس چلی گئی ہے۔ اب آپ بھی ایسا ہی کریں۔“

دنیا میں کون سی قوم تیری اُمّت اسرائیل کی مانند ہے؟ تُو نے اِسی ایک قوم کا فدیہ دے کر اُسے غلامی سے چھڑایا اور اپنی قوم بنا لیا۔ تُو نے اسرائیل کے واسطے بڑے اور ہیبت ناک کام کر کے اپنے نام کی شہرت پھیلا دی۔ ہمیں مصر سے رِہا کر کے تُو نے قوموں اور اُن کے دیوتاؤں کو ہمارے آگے سے نکال دیا۔

کیا دمشق کے دریا ابانہ اور فرفر تمام اسرائیلی دریاؤں سے بہتر نہیں ہیں؟ اگر نہانے کی ضرورت ہے تو مَیں کیوں نہ اُن میں نہا کر پاک صاف ہو جاؤں؟“ یوں بڑبڑاتے ہوئے وہ بڑے غصے میں چلا گیا۔

¶ کیونکہ دیگر قوموں کے تمام معبود بُت ہی ہیں جبکہ رب نے آسمان کو بنایا۔

¶ مجھے دھو دے تاکہ میرا قصور دُور ہو جائے، جو گناہ مجھ سے سرزد ہوا ہے اُس سے مجھے پاک کر۔

¶ مَیں بڑی احتیاط سے بےالزام راہ پر چلوں گا۔ لیکن تُو کب میرے پاس آئے گا؟ مَیں خلوص دلی سے اپنے گھر میں زندگی گزاروں گا۔

پہلے نہا کر اپنے آپ کو پاک صاف کرو۔ اپنی شریر حرکتوں سے باز آؤ تاکہ وہ مجھے نظر نہ آئیں۔ اپنی غلط راہوں کو چھوڑ کر

¶ ”مَیں تجھے کیسے معاف کروں؟ تیری اولاد نے مجھے ترک کر کے اُن کی قَسم کھائی ہے جو خدا نہیں ہیں۔ گو مَیں نے اُن کی ہر ضرورت پوری کی توبھی اُنہوں نے زنا کیا، چکلے کے سامنے اُن کی لمبی قطاریں لگی رہیں۔

انسان کس طرح اپنے لئے خدا بنا سکتا ہے؟ اُس کے بُت تو خدا نہیں ہیں۔“

اُس وقت مَیں نے اسرائیلیوں سے کہا، ”ہر ایک اپنے گھنونے بُتوں کو پھینک دے! مصر کے دیوتاؤں سے لپٹے نہ رہو، کیونکہ اُن سے تم اپنے آپ کو ناپاک کر رہے ہو۔ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔“

سونے، چاندی، پیتل، لوہے، لکڑی اور پتھر کے اپنے بُتوں کی تمجید کرنے لگے۔

آپ نے یہ بھی دیکھ اور سن لیا ہے کہ اِس آدمی پولس نے نہ صرف اِفسس بلکہ تقریباً پورے صوبہ آسیہ میں بہت سے لوگوں کو بھٹکا کر قائل کر لیا ہے کہ ہاتھوں کے بنے دیوتا حقیقت میں دیوتا نہیں ہوتے۔

مسیح اور ابلیس کے درمیان کیا مطابقت ہو سکتی ہے؟ ایمان دار کا غیرایمان دار کے ساتھ کیا واسطہ ہے؟

¶ ماضی میں جب آپ اللہ کو نہیں جانتے تھے تو آپ اُن کے غلام تھے جو حقیقت میں خدا نہیں ہیں۔

اللہ کے قریب آ جائیں تو وہ آپ کے قریب آئے گا۔ گناہ گارو، اپنے ہاتھوں کو پاک صاف کریں۔ دو دلو، اپنے دلوں کو مخصوص و مُقدّس کریں۔

بعض کو آگ میں سے چھین کر بچائیں اور بعض پر رحم کریں، لیکن خوف کے ساتھ۔ بلکہ اُس شخص کے لباس سے بھی نفرت کریں جو اپنی حرکتوں سے گناہ سے آلودہ ہو گیا ہے۔