چنانچہ موسیٰ نے پیتل کا ایک سانپ بنایا اور کھمبا کھڑا کر کے سانپ کو اُس سے لٹکا دیا۔ اور ایسا ہوا کہ جسے بھی ڈسا گیا تھا وہ پیتل کے سانپ پر نظر کر کے بچ گیا۔
TSK
TSK · عبرانیوں 12:2
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ لیکن مَیں کیڑا ہوں، مجھے انسان نہیں سمجھا جاتا۔ لوگ میری بےعزتی کرتے، مجھے حقیر جانتے ہیں۔
¶ داؤد کا زبور۔ رب نے میرے رب سے کہا، ”میرے دہنے ہاتھ بیٹھ، جب تک مَیں تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں کی چوکی نہ بنا دوں۔“
مَیں خود رب کے انتظار میں رہوں گا جس نے اپنے چہرے کو یعقوب کے گھرانے سے چھپا لیا ہے۔ اُسی سے مَیں اُمید رکھوں گا۔
¶ اے زمین کی انتہاؤ، سب میری طرف رجوع کر کے نجات پاؤ! کیونکہ مَیں ہی خدا ہوں، میرے سوا کوئی اَور نہیں ہے۔
مَیں نے مارنے والوں کو اپنی پیٹھ اور بال نوچنے والوں کو اپنے گال پیش کئے۔ مَیں نے اپنا چہرہ اُن کی گالیوں اور تھوک سے نہ چھپایا۔
¶ رب ہی کی مرضی تھی کہ اُسے کچلے، اُسے دُکھ پہنچائے۔ لیکن جب وہ اپنی جان کو قصور کی قربانی کے طور پر دے گا تو وہ اپنے فرزندوں کو دیکھے گا، اپنے دنوں میں اضافہ کرے گا۔ ہاں، وہ رب کی مرضی کو پورا کرنے میں کامیاب ہو گا۔
¶ مَیں داؤد کے گھرانے اور یروشلم کے باشندوں پر مہربانی اور التماس کا روح اُنڈیلوں گا۔ تب وہ مجھ پر نظر ڈالیں گے جسے اُنہوں نے چھیدا ہے، اور وہ اُس کے لئے ایسا ماتم کریں گے جیسے اپنے اکلوتے بیٹے کے لئے، اُس کے لئے ایسا شدید غم کھائیں گے جس طرح اپنے پہلوٹھے کے لئے۔
”ہم یروشلم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وہاں ابنِ آدم کو راہنما اماموں اور شریعت کے علما کے حوالے کر دیا جائے گا۔ وہ اُس پر سزائے موت کا فتویٰ دے کر
¶ پھر وہ اُس پر تھوکنے اور اُس کے مُکے مارنے لگے۔ بعض نے اُس کے تھپڑ مار مار کر
¶ عیسیٰ نے جواب دیا، ”الیاس تو ضرور پہلے سب کچھ بحال کرنے کے لئے آئے گا۔ لیکن کلامِ مُقدّس میں ابنِ آدم کے بارے میں یہ کیوں لکھا ہے کہ اُسے بہت دُکھ اُٹھانا اور حقیر سمجھا جانا ہے؟
اُس نے کہا، ”اے ابّا، اے باپ! تیرے لئے سب کچھ ممکن ہے۔ دُکھ کا یہ پیالہ مجھ سے ہٹا لے۔ لیکن میری نہیں بلکہ تیری مرضی پوری ہو۔“
¶ رسولوں نے خداوند سے کہا، ”ہمارے ایمان کو بڑھا دیں۔“
¶ ہجوم وہاں کھڑا تماشا دیکھتا رہا جبکہ قوم کے سرداروں نے اُس کا مذاق بھی اُڑایا۔ اُنہوں نے کہا، ”اُس نے اَوروں کو بچایا ہے۔ اگر یہ اللہ کا چنا ہوا اور مسیح ہے تو اپنے آپ کو بچائے۔“
¶ اگلے دن یحییٰ نے عیسیٰ کو اپنے پاس آتے دیکھا۔ اُس نے کہا، ”دیکھو، یہ اللہ کا لیلا ہے جو دنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔
تمہارے باپ ابراہیم نے خوشی منائی جب اُسے معلوم ہوا کہ وہ میری آمد کا دن دیکھے گا، اور وہ اُسے دیکھ کر مسرور ہوا۔“
¶ اب میرا دل مضطرب ہے۔ مَیں کیا کہوں؟ کیا مَیں کہوں، ’اے باپ، مجھے اِس وقت سے بچائے رکھ‘؟ نہیں، مَیں تو اِسی لئے آیا ہوں۔
عیسیٰ جانتا تھا کہ باپ نے سب کچھ میرے سپرد کر دیا ہے اور کہ مَیں اللہ میں سے نکل آیا اور اب اُس کے پاس واپس جا رہا ہوں۔
¶ یہ کہہ کر عیسیٰ نے اپنی نظر آسمان کی طرف اُٹھائی اور دعا کی، ”اے باپ، وقت آ گیا ہے۔ اپنے فرزند کو جلال دے تاکہ فرزند تجھے جلال دے۔
¶ چنانچہ پورا اسرائیل یقین جانے کہ جس عیسیٰ کو آپ نے مصلوب کیا ہے اُسے ہی اللہ نے خداوند اور مسیح بنا دیا ہے۔“
رسول یہودی عدالتِ عالیہ سے نکل کر چلے گئے۔ یہ بات اُن کے لئے بڑی خوشی کا باعث تھی کہ اللہ نے ہمیں اِس لائق سمجھا ہے کہ عیسیٰ کے نام کی خاطر بےعزت ہو جائیں۔
اپنی صلیبی موت سے اُس نے دونوں گروہوں کو ایک بدن میں ملا کر اُن کی اللہ کے ساتھ صلح کرائی۔ ہاں، اُس نے اپنے آپ میں یہ دشمنی ختم کر دی۔
اور مجھے یقین ہے کہ اللہ جس نے آپ میں یہ اچھا کام شروع کیا ہے اِسے اُس دن تکمیل تک پہنچائے گا جب مسیح عیسیٰ واپس آئے گا۔
لیکن ہم آسمان کے شہری ہیں، اور ہم شدت سے اِس انتظار میں ہیں کہ ہمارا نجات دہندہ اور خداوند عیسیٰ مسیح وہیں سے آئے۔
ساتھ ساتھ یہ تربیت اُس مبارک دن کا انتظار کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے جس کی اُمید ہم رکھتے ہیں اور جب ہمارے عظیم خدا اور نجات دہندہ عیسیٰ مسیح کا جلال ظاہر ہو جائے گا۔
¶ اللہ نے کبھی بھی اپنے کسی فرشتے سے یہ بات نہ کہی، ”میرے دہنے ہاتھ بیٹھ، جب تک مَیں تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں کی چوکی نہ بنا دوں۔“
جب وہ کاملیت تک پہنچ گیا تو وہ اُن سب کی ابدی نجات کا سرچشمہ بن گیا جو اُس کی سنتے ہیں۔
¶ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اُس کی مرکزی بات یہ ہے، ہمارا ایک ایسا امامِ اعظم ہے جو آسمان پر جلالی خدا کے تخت کے دہنے ہاتھ بیٹھا ہے۔
¶ اِس لئے مسیح دنیا میں آتے وقت اللہ سے کہتا ہے، ”تُو قربانیاں اور نذریں نہیں چاہتا تھا لیکن تُو نے میرے لئے ایک جسم تیار کیا۔
کبھی کبھی آپ کی بےعزتی اور عوام کے سامنے ہی ایذا رسانی ہوتی تھی، کبھی کبھی آپ اُن کے ساتھی تھے جن سے ایسا سلوک ہو رہا تھا۔
¶ اُس پر دھیان دیں جس نے گناہ گاروں کی اِتنی مخالفت برداشت کی۔ پھر آپ تھکتے تھکتے بےدل نہیں ہو جائیں گے۔
اُنہوں نے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ مسیح کا روح جو اُن میں تھا کس وقت یا کن حالات کے بارے میں بات کر رہا تھا جب اُس نے مسیح کے دُکھ اور بعد کے جلال کی پیش گوئی کی۔
کیونکہ مسیح نے ہمارے گناہوں کو مٹانے کی خاطر ایک بار سدا کے لئے موت سہی۔ ہاں، جو راست باز ہے اُس نے یہ ناراستوں کے لئے کیا تاکہ آپ کو اللہ کے پاس پہنچائے۔ اُسے بدن کے اعتبار سے سزائے موت دی گئی، لیکن روح کے اعتبار سے اُسے زندہ کر دیا گیا۔
اگر لوگ اِس لئے آپ کی بےعزتی کرتے ہیں کہ آپ مسیح کے پیروکار ہیں تو آپ مبارک ہیں۔ کیونکہ اِس کا مطلب ہے کہ اللہ کا جلالی روح آپ پر ٹھہرا ہوا ہے۔
اپنے آپ کو اللہ کی محبت میں قائم رکھیں اور اِس انتظار میں رہیں کہ ہمارے خداوند عیسیٰ مسیح کا رحم آپ کو ابدی زندگی تک پہنچائے۔
اُس نے کہا، ”جو کچھ تُو دیکھ رہا ہے اُسے ایک کتاب میں لکھ کر اُن سات جماعتوں کو بھیج دینا جو اِفسس، سمرنہ، پرگمن، تھواتیرہ، سردیس، فلدلفیہ اور لودیکیہ میں ہیں۔“
¶ سمرنہ میں موجود جماعت کے فرشتے کو یہ لکھ دینا: یہ اُس کا فرمان ہے جو اوّل اور آخر ہے، جو مر گیا تھا اور دوبارہ زندہ ہوا۔