¶ چنانچہ موسیٰ نے رب کے پاس واپس جا کر کہا، ”ہائے، اِس قوم نے نہایت سنگین گناہ کیا ہے۔ اُنہوں نے اپنے لئے سونے کا دیوتا بنا لیا۔
TSK
TSK · عبرانیوں 13:17
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
اب مجھے بتائیں کہ آپ نے رب کی کیوں نہ سنی؟ آپ لُوٹے ہوئے مال پر کیوں ٹوٹ پڑے؟ یہ تو رب کے نزدیک گناہ ہے۔“
¶ اے یروشلم، مَیں نے تیری فصیل پر پہرے دار لگائے ہیں جو دن رات آواز دیں۔ اُنہیں ایک لمحے کے لئے بھی خاموش رہنے کی اجازت نہیں ہے۔ اے رب کو یاد دلانے والو، اُس وقت تک نہ خود آرام کرو،
”اے آدم زاد، مَیں نے تجھے اسرائیلی قوم پر پہرے دار بنایا، اِس لئے جب بھی تجھے مجھ سے کلام ملے تو اُنہیں میری طرف سے آگاہ کر!
¶ اے آدم زاد، مَیں نے تجھے اسرائیلی قوم کی پہرا داری کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔ اِس لئے لازم ہے کہ جب بھی مَیں کچھ فرماؤں تو تُو میری سن کر اسرائیلیوں کو میری طرف سے آگاہ کرے۔
خیر، مَیں اپنی زندگی کو کسی طرح بھی اہم نہیں سمجھتا۔ اہم بات صرف یہ ہے کہ مَیں اپنا وہ مشن اور ذمہ داری پوری کروں جو خداوند عیسیٰ نے میرے سپرد کی ہے۔ اور وہ ذمہ داری یہ ہے کہ مَیں لوگوں کو گواہی دے کر یہ خوش خبری سناؤں کہ اللہ نے اپنے فضل سے اُن کے لئے کیا کچھ کیا ہے۔
¶ ہاں، ہم میں سے ہر ایک کو اللہ کے سامنے اپنی زندگی کا جواب دینا پڑے گا۔
آپ ایسے لوگوں کے تابع رہیں اور ساتھ ہی ہر اُس شخص کے جو اُن کے ساتھ خدمت کے کام میں جاں فشانی کرتا ہے۔
¶ مسیح کے خوف میں ایک دوسرے کے تابع رہیں۔
¶ میرے عزیزو، جب مَیں آپ کے پاس تھا تو آپ ہمیشہ فرماں بردار رہے۔ اب جب مَیں غیرحاضر ہوں تو اِس کی کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ چنانچہ ڈرتے اور کانپتے ہوئے جاں فشانی کرتے رہیں تاکہ آپ کی نجات تکمیل تک پہنچے۔
چنانچہ خداوند میں بڑی خوشی سے اُس کا استقبال کریں۔ اُس جیسے لوگوں کی عزت کریں،
¶ چنانچہ میرے پیارے بھائیو، جن کا آرزومند مَیں ہوں اور جو میری مسرت کا باعث اور میرا تاج ہیں، خداوند میں ثابت قدم رہیں۔ عزیزو،
ہم آپ کی وجہ سے اللہ کے کتنے شکرگزار ہیں! یہ خوشی ناقابلِ بیان ہے جو ہم آپ کی وجہ سے اللہ کے حضور محسوس کرتے ہیں۔
اگر کوئی اِس خط میں درج ہماری ہدایت پر عمل نہ کرے تو اُس سے تعلق نہ رکھنا تاکہ اُسے شرم آئے۔
¶ اپنے راہنماؤں کو یاد رکھیں جنہوں نے آپ کو اللہ کا کلام سنایا۔ اِس پر غور کریں کہ اُن کے چال چلن سے کتنی بھلائی پیدا ہوئی ہے، اور اُن کے ایمان کے نمونے پر چلیں۔
¶ غرض، اللہ کے تابع ہو جائیں۔ ابلیس کا مقابلہ کریں تو وہ بھاگ جائے گا۔
¶ اِسی طرح لازم ہے کہ آپ جو جوان ہیں بزرگوں کے تابع رہیں۔ سب انکساری کا لباس پہن کر ایک دوسرے کی خدمت کریں، کیونکہ اللہ مغروروں کا مقابلہ کرتا لیکن فروتنوں پر مہربانی کرتا ہے۔